بے چاری عام جنتا……. سچ میں عام ہے، اور اس لیے ہے کیونکہ اس کے ساتھ خواص والا سلوک نہیں کیا جاتا……. بالکل بھی نہیں کیا جاتا۔ بے چاری کے جوتے گھس گھس جاتے ہیں، ایک دفتر سے دوسرے دفتر، وہاں سے تیسرے دفتر، لیکن مجال ہے کہ اس کا کوئی کام ہو… وقت پر ہو اور بغیر رشوت کے ہو۔نہیں صاحب! ایسی ہماری، ہم غریب جنتا کی قسمت کہاں کہ عمر بھر کی جمع پونجی اور عمر بھر کے خواب کو پورا کرنے کا جب وقت آن پہنچتا ہے اور سپنوں کا گھر بنانے کی بالآخر شروعات ہو جاتی ہے تو بلڈنگ پرمیشن حاصل کرنا، سپنوں کے گھر کی تعمیر کے لیے ایک ایک پیسہ جوڑنے سے بھی زیادہ مشکل ہو جاتا ہے۔ایک محکمہ راضی تو دوسرے محکمے کو اعتراض۔ جب سبھی محکموں کے اعتراضات ختم ہو جاتے ہیں تو…….تو ان کے اعتراضات شروع ہو جاتے ہیں جنہیں بالآخر بلڈنگ پرمیشن جاری کرنا ہوتی ہے۔ایسا آپ اور ہمارے، ہم غریب جنتا کے ساتھ ہوتا ہے…….خواص کے ساتھ نہیں، بالکل بھی نہیں۔ اگر ان کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوتا، ان کے جوتوں کے ساتھ ساتھ ان کی ایڑیاں بھی گھس جاتیں تو، اللہ میاں کی قسم، گزشتہ چھ برسوں میں پانچ ہزار ہوٹل نہ بنتے، جن میں نوّے فیصد، اپنے ایل جی کے مطابق، غیر قانونی ہیں۔یعنی اگر ہوٹل بنانے کی اجازت نہیں تھی، کسی بھی وجہ سے نہیں تھی، لیکن چونکہ یہ ٹھہرے خواص……. اور خواص جو ہوتے ہیں، وہ سچ میں خاص ہوتے ہیں اور قانون اپنی جیب میں رکھتے پھرتے ہیں…….صاحب! اگر ایسا نہ ہوتا تو بتائیے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ پانچ ہزار ہوٹلوں میں سے نوّے فیصد، یعنی چار ہزار پانچ سو ہوٹل غیر قانونی ہوں؟لیکن ایسا ہے، اس لیے ہے کیونکہ ایل جی صاحب ایسا کہہ رہے ہیں……. اور اس لیے بھی ہے کیونکہ یہ ہوٹل بنانے والے آپ اور ہماری طرح عام جنتا نہیں ہیں، بالکل بھی نہیں۔یہ اجازت نامے، یہ این او سیز، یہ نقشے، یہ قانون، سب ہمارے لیے ہوتے ہیں……. خواص کے لیے نہیں ہوتے۔ اس لیے وہ جہاں جو جی چاہے کر سکتے ہیں، اور اللہ میاں کی قسم، کرتے ہیں۔لیکن ہم اور آپ، ہم غریب جنتا، قانونی طور پر اپنے سپنوں کا گھر بھی بغیر کسی پریشانی، بغیر جوتے گھسائے، نہیں بنا سکتے……. بالکل بھی نہیں بنا سکتے۔ہے نا؟




