لگتا ہے کہ اپنے گورے گورے بانکے چھورے، وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ صفائی دینے گئے ہیں……. دہلی صفائی دینے گئے ہیں کہ رواں ہفتے سری نگر میں جب این سی ورکر اور لیڈر سڑکوں پر نکل آئے تھے، ان کا سڑکوں پر نکل آنا کیا تھا؟ کس کے خلاف تھا……. کس کے حق میں تھا؟ اچھا، بہت اچھا ہے کہ وزیر اعلیٰ صاحب دہلی گئے……. صفائی دینے کے لیے۔ لیکن، لیکن جس چیز کے لیے وزیر اعلیٰ صفائی دینے گئے، کیا وہ خود اس حوالے سے واضح ہیں کہ یہ کیا تھا اور کیا نہیں تھا، کس کے حق میں تھا اور کس کے خلاف، کس لیے تھا اور کس لیے نہیں تھا؟ وہ کیا ہے کہ اگر وزیر اعلیٰ کو خود کنفیوژن ہو……. اگر یہ جناب خود غیر واضح ہوں تو یہ کیا خاک دہلی کو سمجھائیں گے؟ وہ بھی ایسے وقت میں جب کہنے والوں کا کہنا ہے کہ امیت بھائی شاہ کا موڈ آج کل بالکل خراب چل رہا ہے۔ ایسا لوگ کہہ رہے ہیں، ورنہ جناب ہمارا تو ماننا ہے کہ امیت بھائی شاہ کا موڈ کب خراب نہیں ہوتا ہے……. ان کی تو ہمیشہ بھنویں تنی ہوتی ہیں، ساتویں آسمان پر چڑھی ہوتی ہیں۔ ایسے میں جب وزیر اعلیٰ، وہ بھی جموں کشمیر کے وزیر اعلیٰ، ان سے ملنے گئے ہوں گے……. تو وہاں کیا حال بے حال ہوا ہوگا، یہ سوچ کر ہی ہمارا حال بے حال ہو جاتا ہے۔ اور اس لیے ہو جاتا ہے کہ اگر امیت بھائی شاہ نے وزیر اعلیٰ سے صرف ایک چھوٹی سی بات پوچھی ہو، ایک چھوٹا سا سوال کیا ہو……. یہ سوال کہ……. کہ ’یہ کیا تھا؟‘ تو اللہ میاں کی قسم، ہم سوچ رہے ہیں کہ وزیر اعلیٰ صاحب نے انہیں جواب میں کیا کہا ہوگا، ان سے کوئی جواب بن پایا ہوگا کہ نہیں کہ……. کہ یقینا ًوزیر اعلیٰ صاحب فراٹے دار انگریزی بولتے ہیں، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ……. کہ امیت بھائی شاہ کو انگریزی سمجھ نہیں آتی ہے، اس لیے ان کا یہ ہتھیار ان کے سامنے مکمل طور پر بیکار ثابت ہوا ہوگا۔خیر! وزیر اعلیٰ، امیت بھائی شاہ کے اس سوال کا اگر جواب نہیں دے پائے ہوں، لیکن اتنا تو انہوں نے کیا ہی ہوگا……. اور یقینا ًکیا ہوگا، انہیں یقین دلایا ہوگا کہ آئندہ وہ ایسی غلطی نہیں کریں گے……. اس غلطی کو نہیں دہرائیں گے اور……. اور سڑکوں پر اترنے سے پہلے وہ ایک نہیں بلکہ ایک سو بار سوچیں گے کہ……. کہ وہ سڑکوں پر کیوں اتر رہے ہیں۔ ہے نا؟
۔۔۔۔۔۔۔۔



