یہ لو صاحب، ہم نے کیا سوچا تھا اور کیا ہوا۔ ہم نے جو سوچا تھا وہ نہیں ہوا اور جو ہوا، وہ تو ہم نے سوچا ہی تھا اور……. اور اس لیے نہیں سوچا تھا کیونکہ ہمیں لگا کہ دوستی نئی نئی ہے اور جب دوستی نئی نئی ہوتی ہے تو ایک دوسرے کے جذبات، احساسات، خواہشات کا کچھ زیادہ ہی خیال رکھنا پڑتا ہے۔لیکن دیکھ لیجئے صاحب، یہاں تو ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔ نہ اس دوستی، نئی نئی دوستی کا پاس لحاظ رکھا گیا اور نہ خیال۔ اور پولیس نے ہول سیل میں حکمران جماعت کے کارکنوں کو سلاخوں کے پیچھے کردیا۔کل، جی ہاں، کل ہی کی بات ہے کہ جب ہمارے آئی جی صاحب خود چل کر وزیرِ اعلیٰ کے دربار میں حاضر ہوئے اور انہیں ملاقات کا شرف بخشا۔ دو سال میں پہلی بار ایسا منظر دیکھ کر تو سچ میں ہماری آنکھوں کو یقین ہی نہیں ہوا……. بالکل بھی نہیں ہوا۔ دس بار تصدیق کرنی پڑی کہ کیا آئی جی صاحب واقعی وزیرِ اعلیٰ کے دفتر گئے، ان سے ملاقات کی یا یہ بھی کم بخت اے آئی کی کوئی شیطانی شرارت ہے…….؟تصدیق جب ہوئی کہ نہیں، اے آئی اتنا بھی بے شرم نہیں اور یہ اس کی شیطانی شرارت نہیں ہے تو……. تو تب جا کے یقین ہوا……. اس پر جو ہماری آنکھوں کے سامنے تھا۔وزیرِ اعلیٰ اپنے عالی شان دفتر کی کرسی پر براجمان ہیں اور سامنے کشمیر کے آئی جی پی صاحب۔جب یہ حقیقت ہمارے دل و دماغ میں اتر گئی تو ہمیں لگا کہ آج این سی والوں پر پولیس مہربان ہوگی، انہیں اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کی اجازت ہوگی، لیکن صاحب ایسا ویسا کچھ بھی نہیں ہوا……. بالکل بھی نہیں ہوا۔اور این سی کے کارکنوں اور لیڈروں کو ایک گٹھڑی میں باندھ کر پولیس نے اپنا مہمان بنا لیا……. میزبانی اور خاطر تواضع کیسی اور کس سے کی گئی، یہ ہم نے دریافت کرنا ضروری نہیں سمجھا اور اس لیے نہیں سمجھا کہ ہماری اس ناسمجھ سمجھ میں ابھی بھی یہ نہیں آرہا ہے کہ اگر پولیس کو یہی کچھ کرنا تھا……. این سی کارکنوں کو سلاخوں کے پیچھے دھکیلنا تھا تو……. تو پھر آئی جی پی صاحب، وزیرِ اعلیٰ کے پاس کیا کرنے گئے تھے؟یقیناً ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے، بالکل بھی نہیں ہے……. لیکن صاحب، یہ تو غلط ہے کہ آپ پہلے امیدیں جگا دیتے ہیں اور پھر ان امیدوں پر منوں پانی پھیر دیتے ہیں۔ہے نا یہ غلط بات؟ ہے نا؟
۔۔۔۔۔۔۔۔



