تجربہ عمر سے آتا ہے اور یہ بات اپنے عمر……. وزیر اعلیٰ، عمر عبداللہ نے ثابت کی۔ نہیں صاحب، ہم یہاں عمر عبداللہ کی نہیں بلکہ ان کے والدِ گرامی، ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی بات کر رہے ہیں۔ عمر عبداللہ تو آگ لگا دیتے اور پھر اس آگ کو بجھانے کا کام اپنے والد کے سپرد کرتے ہیں۔بجلی کے نرخوں میں ۷ فیصد اضافے کو عمر عبداللہ نے مجبوری کہا اور بات ختم۔ یہ سوچے بغیر کہ اگر حکومت کی مجبوریاں ہو سکتی ہیں، اگر سرکاری خزانہ کم پڑ رہا ہے تو……. تو عام آدمی کی بھی تو مجبوریاں ہو سکتی ہیں۔ ۷ فیصد اضافی بجلی فیس نہ ادا کرنے کی مجبوری کہ……. کہاں ایک غریب کی جیب اور کہاں سرکاری خزانہ، کوئی موازنہ نہیں، بالکل بھی نہیں۔ڈاکٹر صاحب اس بات کو سمجھ گئے۔ ان کی سمجھ میں یہ بات آگئی کہ بیٹے نے کچھ ٹھیک نہیں کہا اور شاید کچھ ٹھیک کیا بھی نہیں……. بجلی فیس میں اضافہ کرکے‘۷ فیصد اضافہ کرکے ……. سو یہ نکلے بیٹے کی لگائی ہوئی آگ کو بجھانے……. یہ کہہ کر بجھانے کہ……. کب تک کشمیری دہلی کے سامنے بھیک مانگیں……. کب تک؟ہمیں اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا پڑے گا تاکہ دہلی کے سامنے بار بار ہاتھ پھیلانے نہ پڑیں۔یوں انہوں نے بجلی فیس میں اضافے کو کشمیریوں کی مالی خود مختاری سے جوڑ دیا۔ انہیں ایک اور خواب بیچا، ایک اور خواب دکھایا کہ ایک دن ایسا بھی آئے گا جب کشمیر، جموں کشمیر مالی طور پر خود مختار ہوگا……. بے چارے لوگ ڈاکٹر صاحب کی اس بات کی گانٹھ باندھ دیں گے اور بجلی نرخوں میں اضافے کا شکوہ کریں گے اور نہ این سی حکومت کو وہ وعدے یاد دلائیں گے جو اس نے الیکشن کے دوران کیے تھے……. مفت بجلی دینے کا وعدہ۔ڈاکٹر صاحب ایسا اس لیے کر سکے کیونکہ وہ عمر میں عمر سے بڑے ہیں اور……. اور تجربہ عمر سے ہی آتا ہے۔ یہ بات، یہ حقیقت، اپنے عمر عبداللہ جتنی جلد سمجھیں اتنا اچھا……. مانتے ہیں کہ عمر اب عمر میں چھوٹے نہیں رہے، ان کے بال دھوپ میں سفید نہیں ہوئے، لیکن وہ کیا ہے کہ کہنے والوں کا کہنا ہے کہ کچھ بڑے ہو جاتے ہیں……. لیکن وہ بڑھ نہیں پاتے ہیں……. بالکل بھی نہیں۔ ہے نا؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔





