لگتا ہے، آپ کو لگتا ہو یا نہیں، لیکن ہمیں لگتا ہے کہ اپنے ایل او پی صاحب……. ایل او پی؟ اجی، لیڈر آف اپوزیشن……. ہمیں لگتا ہے کہ جموں کشمیر کے ایل او پی، سنیل شرما صاحب، ایل او پی سے بہت زیادہ متاثر ہیں……. ایل او پی؟اجی لیڈر آف اپوزیشن……. ہمیں لگتا ہے کہ اپنے شرما صاحب، ایل او پی راہل گاندھی سے بڑے متاثر ہیں اور سو فیصد متاثر ہیں۔اسی لیے شرما صاحب بات بات اور ہر ایک بات پر اپنی کوئی بات بول رہے ہیں، وہ بات جو گورے گورے بانکے چھورے وزیرِ اعلیٰ، عمر عبداللہ، کرتے ہیں، ان کی ہر ایک بات پر یہ کوئی نہ کوئی بات بولتے ہیں……. بالکل اسی طرح جس طرح راہل گاندھی اپنے مودی جی اور شاہ صاحب کی بات بات اور ہر ایک بات پر اپنی بات کرتے ہیں اور ان کی باتوں میں کیڑے اور مکوڑے تلاش کرتے رہتے ہیں۔بس یہی کچھ اپنے شرما صاحب نے بھی سیکھ لیا ہے، راہل بابا سے متاثر ہو کر سیکھ لیا ہے……. تاکہ راہل بابا کی طرح یہ جناب بھی سرخیوں میں رہیں۔ اور اللہ میاں کی قسم، یہ سرخیوں میں رہتے بھی ہیں۔اس لیے نہیں رہتے ہیں کہ یہ اپنی کوئی بات سامنے رکھتے ہیں، بلکہ اس لیے رہتے ہیں کیونکہ وزیرِ اعلیٰ جو بات کرتے ہیں، ان کی بات پر شرما صاحب جو بات کرتے ہیں، اس پر یہ سرخیوں میں رہتے ہیں۔اپنے وزیرِ اعلیٰ صاحب نے یومِ آزادی کی تقریب میں ریاستی درجے کی بحالی کے بارے میں کچھ کہا……. وہ کہا جو انہیں کہنا تھا، جو ان کی پارٹی، ان کی حکومت کا موقف ہے……. لیکن شرما صاحب کو یہ بھی ہضم نہیں ہوا……. کیوں نہیں ہوا، یہ ہم نہیں جانتے ہیں، لیکن اس پر بھی ان جناب نے وزیرِ اعلیٰ کی نکتہ چینی کی۔ہم سمجھ نہیں رہے ہیں کہ آخر شرما جی کو مسئلہ کیا ہے……. ریاستی درجے کی بحالی کی بات کرنے سے ان کو مسئلہ کیا ہے کہ اسمبلی الیکشن میں تو ان کا اور ان کی جماعت، بی جے پی، کا بھی تو ریاستی درجے کی بحالی نعرہ تھا……. اب اگر عمر عبداللہ اس پر کوئی بات کرتے ہیں تو شرما جی کی بھنویں چڑھ جاتی ہیں……. جیسے وزیرِ اعلیٰ کوئی ممنوع مانگ یا مطالبہ کر رہے ہوں۔شرما جی، راہل بابا کی نقل اتارنا چھوڑ دیں کہ یہ آپ کے ماڈل نہیں ہو سکتے ہیں……. بالکل بھی نہیں ہو سکتے ہیں……. اور جو آپ کے ماڈل ہو سکتے ہیں، انہوں نے ریاستی درجے کی بحالی کے بارے میں بار بار اور کئی بار کیا کہا ہے، اس پر تھوڑا غور کیجیے۔ایک بار کیجیے، پھر دوبارہ راہل بابا بننے کی آپ کو ضرورت محسوس نہیں ہوگی، بالکل بھی نہیں ہوگی۔ ہے نا؟
۔۔۔۔۔۔۔۔





