جب ہم چھوٹے تھے…….بہت چھوٹے ،تو کبھی کبھی ’ماجہ ہیوند یزت ۳۷۰، ۳۷۰…، بینہِ ہیوند یزت ۳۷۰، ۳۷۰‘ کے نعرے سننے کو ملتے تھے۔ بلکہ یوں کہیے کہ یہ نعرے ہمارے بزرگوں اور اسلاف کی یادوں کا حصہ بن چکے تھے۔ جب کبھی وہ اپنی یادوں کے دریچے کھولتے تو دفعہ ۳۷۰ اور اس سے جڑی، یا یوں کہیے اس کے ساتھ جوڑ دی گئی، کشمیری خواتین کی عزت و ناموس کا ذکر ضرور چھڑ جاتا تھا۔اُس وقت ہمارے لیے دفعہ ۳۷۰ کی حیثیت بس اتنی ہی تھی۔ اس کے علاوہ اس کی دوسری خصوصیات، مراعات، فوائد یا نقصانات کے بارے میں ہمیں کچھ معلوم نہیں تھا……. بالکل بھی نہیں۔یہاں تک کہ ۵؍ اگست ۲۰۱۹ء تک بھی ہمارے بزرگوں کے نزدیک دفعہ ۳۷۰ کا براہِ راست تعلق کشمیری خواتین کی عزت و ناموس سے تھا، کسی اور بات سے نہیں۔دفعہ ۳۷۰ کو کشمیری خواتین کی عزت و ناموس سے کیسے جوڑ دیا گیا، یا یہ تعلق کیسے قائم ہوا، اس کا ہمیں علم نہیں۔ البتہ ممکن ہے کہ اس کی ایک وجہ یہ رہی ہو کہ چونکہ دفعہ ۳۷۰ کی موجودگی میں کوئی غیر کشمیری یہاں مستقل طور پر آباد نہیں ہو سکتا تھا، اس لیے اس دفعہ کو یہاں کی خواتین کی عزت و ناموس کے تحفظ کی علامت بنا دیا گیا۔اور پھر……. اننت ناگ میں ایک سیاسی ریلی کے دوران کچھ شرکاء نے کشمیریوں کی اسی نفسیات، اسی سوچ پر براہِ راست وار کیا۔ ان کا پیغام یہ تھا کہ جس دفعہ کو تم اپنی خواتین کی عزت و ناموس سے جوڑتے تھے، اسے کشمیر سے رخصت ہوئے آج سات برس ہو چکے ہیں۔جو لوگ یہ نعرے لگا رہے تھے، وہ بھی کشمیری تھے۔ جو یہ نعرے سن رہے تھے، ان پر خوش ہو رہے تھے اور تالیاں بجا رہے تھے، وہ بھی کشمیری ہی تھے۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ان میں خواتین بھی شامل تھیں… وہی خواتین جن کی عزت و ناموس کو کبھی اس دفعہ کے ساتھ جوڑ دیا گیا تھا۔ممکن ہے کہ بچپن میں، ہماری ہی طرح، انہوں نے بھی ’ماجہ ہیوند یزت ۳۷۰، ۳۷۰… بینہِ ہیوند یزت ۳۷۰، ۳۷۰‘ کے نعرے یا ان نعروں سے جڑی داستانیں… بلکہ الف لیلوی قصے سنے ہوں گے۔مگر آج اننت ناگ میں اسی نعرے کو پیروں تلے روندا جا رہا تھا… اور ساتھ ہی عزّی اور فزّی کی عزت کو بھی…….عزّی اور فزّی……. ہماری اور آپ کی مائیں اور بہنیں۔ ہے نا؟
۔۔۔۔۔۔





