صاحب! یہ سیاست ہے اور اگر سیاست میں سیاست نہیں ہوگی تو بھلا کس میں ہوگی؟ بتائیے نا، آپ ہی بتائیے، پھر کس میں ہوگی؟ ……. ہمارا تو یہ جاننا اور ماننا ہے کہ اگر سیاست دان کو کوئی پیدائشی حق حاصل ہے تو صرف یہ ایک حق حاصل ہے کہ وہ سیاست میں سیاست کرے۔ اتنا حق اسے ہے اور اللہ میاں کی قسم، ہونا چاہیے اور ……. اور اس لیے ہونا چاہیے کہ یہاں تو عام لوگ، آپ اور ہم، سیاست کرتے ہیں؛ سیاست میں نہیں، عام خام باتوں میں سیاست، رشتہ نبھانے میں سیاست، دوستی میں سیاست، دشمنی میں سیاست، ہمسایہ داری میں سیاست، حتیٰ کہ مذہب میں بھی سیاست اور تو اور اللہ میاں کی قسم، مسجد میں بھی سیاست کہ مساجد تو مساجد والوں کی سیاست کا گڑھ ہوتی ہیں۔تو ایسے میں اگر سیاست دان سیاست میں سیاست نہیں کرے تو پھر کہاں کرے؟ اس لیے اگر کسی کو لگتا ہے کہ اپنے گورے گورے بانکے چھورے، وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کا اسمبلی میں ریاستی درجے کی بحالی کے حوالے سے ایک اور قرارداد پیش کرنا بھی سیاست ہے تو خدا را ہمیں بتائیے کہ وزیرِ اعلیٰ بھی تو ایک انسان‘ معاف کیجئے ایک سیاست دان ہی ہیں ……. ہاں، ان کے بال سفید ہوئے ہیں، لیکن ابھی باپ کی طرح منجھے ہوئے سیاست دان نہیں بن گئے ہیں یا بن پائے ہیں، لیکن صاحب ہیں تو سیاست دان ہی اور ……. اور اس تعلق سے اگر انہوں نے بھی سیاست میں سیاست کی تو کون سا جرم کیا، کون سی خطا کی؟یہ بات وزیرِ اعلیٰ بھی جانتے ہیں اور ہم سب بھی کہ قرارداد پیش کرنے یا اسے منظور کرنے سے کچھ ہوگا نہیں کہ ……. کہ جموں و کشمیر میں وہی ہوگا جو منظور دہلی ہوگا اور اللہ میاں کی قسم، دہلی کو یہ منظور نہیں ہے ……. بالکل بھی نہیں ہے کہ جموں و کشمیر فی الحال ریاست بن جائے۔ یہ اسے قطعاً منظور نہیں ہے ……. اس لیے جموں و کشمیر فی الحال ریاست نہیں بنے گی، بالکل بھی نہیں بنے گی ……. آدھی اور نہ مکمل بنے گی۔ یہ بات دہلی جانتی ہے اور اس کو وہ مانتی بھی ہے۔رہی بات اپنے گورے گورے بانکے چھورے وزیرِ اعلیٰ کی قرارداد کی تو وہ اللہ میاں کی قسم، سیاست ہے اور کچھ نہیں۔ ایسی سیاست جو وزیرِ اعلیٰ کو کرنے کا حق ہے ……. پیدائشی حق ہے۔ہے نا؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔



