جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان حالیہ لفظی کشمکش نے ایک بار پھر یہ حقیقت سامنے رکھ دی ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات میں سب سے بڑا مسئلہ محض کشمیر پر اختلاف نہیں بلکہ وہ دہشت گردی بھی ہے جس نے گزشتہ ساڑھے تین دہائیوں سے جموں و کشمیر کی زندگی کو مسلسل متاثر کیا ہے۔ پاکستان نے کشمیر کے مسئلے کو بین الاقوامی فورموں پر اٹھانے کا سلسلہ کبھی ترک نہیں کیا، لیکن اس سے بھی زیادہ سنگین پہلو یہ ہے کہ ہندوستان مسلسل یہ الزام عائد کرتا رہا ہے کہ پاکستان کی سرزمین اور اس کے زیر انتظام علاقوں سے دہشت گردی کے ڈھانچے نے جموں و کشمیر میں تشدد کو ہوا دی۔
یہاں کسی تاریخی اختلاف کو نظرانداز کرنے کی ضرورت نہیں، لیکن یہ سوال ضرور پوچھا جانا چاہیے کہ اگر پاکستان واقعی جموں و کشمیر کے عوام کی فلاح و بہبود اور ان کے حقوق کا اتنا ہی خواہاں ہے تو گزشتہ۳۵ برسوں کے دوران اس نے اس خطے میں بندوق، تشدد اور دراندازی کو بڑھاوا دینے والی پالیسی سے کیا حاصل کیا؟ اس پالیسی کا سب سے بڑا نقصان خود کشمیری عوام کو اٹھانا پڑا۔ ہزاروں شہری، سیکورٹی اہلکار اور دیگر افراد دہشت گردی کی نذر ہوئے، خاندان اجڑے، کاروبار متاثر ہوئے، تعلیم کا سلسلہ ٹوٹا اور ایک پوری نسل نے خوف اور غیر یقینی کے ماحول میں زندگی گزاری۔
وزارت داخلہ کے ریکارڈ کے مطابق صرف۱۹۹۰ سے۲۰۰۴ تک جموں و کشمیر میں دہشت گردی سے تقریباً۳۴ ہزار جانیں ضائع ہوئیں، جن میں۱۲ ہزار سے زیادہ عام شہری شامل تھے۔ بعد کے برسوں میں بھی تشدد کا سلسلہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔یہ اعداد صرف سرکاری جدول نہیں بلکہ اس انسانی المیے کی تصویر ہیں جس نے جموں و کشمیر کے معاشرے کو طویل عرصے تک اپنی گرفت میں رکھا۔
جموں و کشمیر نے دہشت گردی کے بدترین دور دیکھے ہیں۔ مسلح گروہوں نے سیاسی کارکنوں، سرکاری ملازمین، اقلیتی برادریوں، عام شہریوں اور سیکورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنایا۔ کشمیری پنڈتوں کی ہجرت اس خونریز دور کا ایک المناک باب ہے۔ اسی طرح وہ مسلمان خاندان بھی اس المیے سے محفوظ نہیں رہے جنہوں نے اپنے عزیز دہشت گردی میں کھوئے۔ اس لیے کشمیر کی تاریخ کو صرف ایک سیاسی تنازع کے طور پر دیکھنا اس کے انسانی المیے کو کم کرکے دیکھنے کے مترادف ہوگا۔
گزشتہ سال کا پہلگام کا واقعہ اس لیے بھی اہم ہے کہ اس نے یہ سوال دوبارہ سامنے رکھا کہ اگر جموں و کشمیر میں معمول کی زندگی بحال ہورہی ہے، سیاحت بڑھ رہی ہے، انتخابات ہو رہے ہیں اور عام شہری اپنی روزمرہ زندگی کی طرف واپس آ رہے ہیں تو کیا اس عمل کو دہشت گردی کے ذریعے دوبارہ پٹری سے اتارنے کی اجازت دی جاسکتی ہے؟ کسی بھی سیاسی اختلاف کو دہشت گردی کے ذریعے زندہ رکھنا نہ صرف امن کے لیے خطرہ ہے بلکہ خود کشمیری عوام کے مفادات کے بھی خلاف ہے۔
یہاں پاکستان کے لیے سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ وہ آخر کب تک دہشت گردی اور کشمیر کو ایک ہی پالیسی کے دو پہلوؤں کے طور پر استعمال کرتا رہے گا؟ اگر اسلام آباد واقعی جنوبی ایشیا میں امن چاہتا ہے تو اسے سب سے پہلے اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ اس کی سرزمین یا اس کے زیر انتظام کوئی علاقہ ہندوستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہو۔ ہندوستان نے کئی مواقع پر پاکستان سے یہی مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دینے کے وعدے پر عمل کرے۔
پاکستان کے لیے یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ جموں و کشمیر میں امن کی موجودہ کوششیں محض سیکورٹی کارروائیوں تک محدود نہیں ہیں۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق دہشت گردی کے خلاف کارروائی کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے، جمہوری عمل کو برقرار رکھنے اور تشدد کا راستہ ترک کرنے والوں کے لیے سیاسی عمل کے دروازے کھلے رکھنے کی پالیسی بھی اختیار کی گئی ہے۔
اس لیے جنیوا جیسے عالمی فورم پر پاکستان اگر انسانی حقوق کا سوال اٹھاتا ہے تو اسے یہ بھی جواب دینا ہوگا کہ گزشتہ ساڑھے تین دہائیوں میں دہشت گردی کے باعث ہونے والی شہری ہلاکتوں اور تباہی کی ذمہ داری سے وہ خود کو کس طرح الگ کرتا ہے۔ انسانی حقوق کا دفاع صرف اس وقت معتبر نہیں ہوسکتا جب اسے دوسرے ملک کے خلاف سفارتی دلیل کے طور پر استعمال کیا جائے۔ انسانی جان کی حرمت کا اصول سرحد کے دونوں جانب یکساں ہونا چاہیے۔
دہشت گردی نے کشمیری عوام کو صرف لاشیں، خوف، ہجرت، تباہی اور معاشی نقصان دیا۔ اس کے باوجود اگر پاکستان اب بھی دہشت گردی کے ڈھانچوں کے خلاف واضح اور قابل اعتبار کارروائی کرنے کے بجائے عالمی فورموں پر ہندوستان کے خلاف سیاسی مقدمہ پیش کرنے کو ترجیح دیتا ہے تو اس سے خطے میں امن کا راستہ مزید مشکل ہی ہوگا۔
جموں و کشمیر میں پائیدار امن صرف اس وقت مضبوط ہوسکتا ہے جب سرحد پار سے دہشت گردی کی حمایت اور دراندازی کا سلسلہ مکمل طور پر بند ہو۔ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان سیاسی اختلافات اپنی جگہ رہ سکتے ہیں، کشمیر پر دونوں کے مؤقف بھی فوری طور پر تبدیل ہونے والے نہیں، لیکن دہشت گردی کو کسی بھی سیاسی مقصد کے حصول کا ذریعہ بنانے کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔
جنیوا میں تقریروں سے زیادہ اہم وہ فیصلے ہیں جو زمینی حقیقت تبدیل کریں۔ پاکستان اگر واقعی کشمیر اور کشمیری عوام کے مستقبل کے بارے میں فکرمند ہے تو اسے سب سے پہلے دہشت گردی کی اس پالیسی سے خود کو الگ کرنا ہوگا جس نے گزشتہ ساڑھے تین دہائیوں میں جموں و کشمیر کو خونریزی کے ایک طویل دور سے گزارا ہے۔ کشمیر کے مسئلے پر اختلاف ہوسکتا ہے، سیاسی دعوے ہوسکتے ہیں، سفارتی بحث بھی ہوسکتی ہے، لیکن دہشت گردی کو اس اختلاف کا ہتھیار بنانا کسی صورت امن کا راستہ نہیں ہوسکتا۔
اب وقت آگیا ہے کہ جنیوا کے سفارتی بیانات سے آگے بڑھ کر اصل سوال پر توجہ دی جائے:کیا پاکستان جموں و کشمیر میں پائیدار امن کے عمل کو آگے بڑھنے دے گا، یا ایک بار پھر دہشت گردی کے ذریعے اس خطے کو عدم استحکام کی طرف دھکیلنے کی کوشش جاری رکھے گا؟ گزشتہ 35 برس کا تجربہ بتاتا ہے کہ اس راستے کا نقصان کسی ایک حکومت یا کسی ایک ملک کو نہیں، سب سے زیادہ کشمیری عوام کو پہنچا ہے۔



