چنار ایک درخت نہیں بلکہ کشمیر کی تہذیب، تاریخ، ثقافت اور قدرتی حسن کی ایک ایسی علامت ہے جس کے بغیر وادی کشمیر کا تصور بھی ادھورا محسوس ہوتا ہے۔ کشمیر کو دنیا بھر میں جو منفرد شناخت اور امتیاز حاصل ہے، اس میں یہاں کے بلند و بالا چناروں کا بھی ایک اہم حصہ ہے۔ موسم خزاں میں جب چنار کے سبز پتے سرخ، زرد اور سنہری رنگ اختیار کرتے ہیں تو وادی کا منظر کسی خوبصورت مصور کی تخلیق معلوم ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چنار صرف کشمیر کے باشندوں کے لیے ایک درخت نہیں بلکہ اس سرزمین کی پہچان، اس کے ماضی کی یادگار اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک قیمتی ورثہ ہے۔ افسوس کا مقام ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس قدرتی ورثے کی تعداد میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے اور آج اس کے تحفظ کا مسئلہ پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت اختیار کر گیا ہے۔
جموں و کشمیر حکومت کی جانب سے تقریباً ۳۰ ہزار چنار درختوں کی جیو ٹیگنگ مکمل کرکے ان کا ڈیجیٹل ریکارڈ تیار کرنا بلاشبہ ایک خوش آئند قدم ہے۔ اسی طرح وادی کشمیر میں ۱۰ ہزار نمایاں چناروں پر کیو آر کوڈ سے لیس دھاتی تختیاں نصب کرنے کا اقدام بھی اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ حکومت درختوں کے تحفظ اور ان کی نگرانی کے لیے جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس طرح درختوں کی عمر، مقام، صحت اور نشوونما سے متعلق معلومات جمع کرنا اور ان کی مسلسل نگرانی کرنا ممکن ہوگا۔ وزیر جنگلات کی جانب سے سائنسی تحقیق کو عملی سطح پر بروئے کار لانے اور محکمہ جنگلات، کسانوں اور صنعتی شعبے کے درمیان تال میل مضبوط بنانے پر زور دینا بھی ایک مثبت سوچ ہے۔
تاہم ان اقدامات کے باوجود ایک بنیادی سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا تقریباً ۳۰ ہزار چنار درختوں کی موجودگی ہمارے لیے اطمینان کا باعث ہونی چاہیے؟ ہرگز نہیں۔ چند دہائیاں قبل تک وادی کشمیر میں چناروں کی تعداد تقریباً ۴۲ ہزار بتائی جاتی تھی۔ اگر آج یہ تعداد گھٹ کر ۳۰ ہزار کے قریب رہ گئی ہے تو یہ محض اعداد و شمار کا فرق نہیں بلکہ ہمارے قدرتی ورثے کو پہنچنے والے نقصان کی ایک واضح تصویر ہے۔ ہمیں اس بات پر خوش ہونے کے بجائے سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے کہ آخر وہ کون سے عوامل ہیں جن کے نتیجے میں اتنی بڑی تعداد میں چنار درخت ختم ہوگئے۔ جیو ٹیگنگ سے درختوں کا ریکارڈ تو محفوظ کیا جاسکتا ہے، لیکن صرف ریکارڈ مرتب کرنے سے ان کی بقا یقینی نہیں بنائی جاسکتی۔
چنار کوئی عام درخت نہیں جسے آج کاٹا جائے اور کل اس کی جگہ دوسرا درخت لگا دیا جائے۔ اسے تناور ہونے، اپنی مکمل جسامت اختیار کرنے اور اس شان و شوکت تک پہنچنے میں کئی دہائیاں لگ جاتی ہیں۔ ایک پرانے چنار کی جگہ کئی نئے پودے لگانے سے بھی اس نقصان کی فوری تلافی ممکن نہیں۔ ایک صدی پرانے درخت کی اپنی تاریخی اہمیت ہوتی ہے، اس کے ساتھ کئی نسلوں کی یادیں وابستہ ہوتی ہیں اور وہ اپنے گردونواح کے ماحول اور منظرنامے کا مستقل حصہ بن چکا ہوتا ہے۔ اس لیے چنار کے معاملے میں محض شجرکاری کو تحفظ کا متبادل سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ اصل ضرورت موجودہ درختوں کو محفوظ رکھنے اور ان کی کٹائی کو روکنے کی ہے۔
یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جاسکتی کہ ترقیاتی سرگرمیوں، سڑکوں کی توسیع، تعمیراتی منصوبوں اور شہری آبادی کے پھیلاؤ کے دوران کئی مرتبہ پرانے درخت رکاوٹ تصور کیے جاتے ہیں۔ یہ درست ہے کہ ترقی اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر وقت کی ضرورت ہے، لیکن ترقی کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہونا چاہیے کہ اس کی قیمت قدرتی ورثے کو تباہ کرکے ادا کی جائے۔ سڑکوں کی توسیع یا کسی دوسرے منصوبے کی منصوبہ بندی کرتے وقت متبادل راستوں اور ایسے طریقوں پر غور کیا جانا چاہیے جن سے پرانے چناروں کو بچایا جاسکے۔ اگر کسی ناگزیر صورت میں درخت ہٹانا ضروری ہو تو اس کے لیے سخت قانونی شرائط، شفاف منظوری اور مناسب متبادل انتظام کو یقینی بنایا جائے۔ محض چند نئے پودے لگانے کا اعلان ایک قدیم چنار کے نقصان کا ازالہ نہیں کرسکتا۔
یہ بات بھی اہم ہے کہ جموں و کشمیر میں چناروں کے تحفظ کے لیے قوانین اور ضوابط پہلے سے موجود ہیں۔ چنار کو خصوصی قانونی تحفظ حاصل ہے اور سرکاری اجازت کے بغیر اس کی کٹائی کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ لیکن اصل مسئلہ قوانین کی موجودگی نہیں بلکہ ان پر مؤثر عمل درآمد کا ہے۔ اگر کسی درخت کو غیر قانونی طور پر کاٹا جاتا ہے یا کسی ترقیاتی منصوبے کے دوران ضابطوں کو نظرانداز کیا جاتا ہے تو ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ محکمہ جنگلات کو محض اجازت نامے جاری کرنے اور درختوں کی گنتی تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اسے ہر چنار کی حفاظت کے لیے فعال نگرانی کا نظام قائم کرنا ہوگا۔ اس ضمن میں مقامی لوگوں، پنچایتوں، بلدیاتی اداروں اور عوامی نمائندوں کو بھی شامل کیا جانا چاہیے۔
حکومت کو چاہیے کہ چنار کی نئی نسل تیار کرنے کے لیے وسیع پیمانے پر شجرکاری مہم شروع کرے۔ تعلیمی اداروں، سرکاری دفاتر، عوامی مقامات اور نئے شہری جنگلات میں چنار کے پودے لگانے کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ تاہم اس مہم کا مقصد صرف پودے لگانا نہیں بلکہ ان کی مناسب دیکھ بھال، آبیاری اور نشوونما کو یقینی بنانا بھی ہونا چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ چناروں کی سالانہ گنتی اور ان کی صحت سے متعلق رپورٹ عوام کے سامنے پیش کی جانی چاہیے تاکہ تحفظ کے اقدامات کے نتائج کا جائزہ لیا جاسکے۔
چنار کشمیر کی اجتماعی میراث ہے۔ اس کی حفاظت صرف محکمہ جنگلات یا حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ ہر کشمیری کا فرض ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ جو ورثہ ہمیں اپنے بزرگوں سے ملا ہے، اسے اپنی آنے والی نسلوں تک بحفاظت پہنچانا ہماری اخلاقی ذمہ داری ہے۔ اگر ہم آج اس معاملے میں غفلت برتیں گے تو آنے والی نسلیں شاید چناروں کے حسن کو صرف تصویروں اور کتابوں میں دیکھنے پر مجبور ہوں گی۔ حکومت کے حالیہ اقدامات قابلِ ستائش ضرور ہیں، لیکن اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب چناروں کی تعداد میں کمی کا سلسلہ رک جائے، موجودہ درخت محفوظ رہیں اور وادی میں چنار کی نئی نسل پروان چڑھے۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ چنار کشمیر کی پہچان ہے اور اس پہچان کو محفوظ رکھنا محض ایک سرکاری مہم نہیں بلکہ ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔






