اللہ خیر کرے، خیریت ہی ہوگی…….وہ کیا ہے کہ ہمیں نا کبھی کبھی عجیب سے خیالات آتے ہیں۔ برے ہیں یا نہیں، یہ تو ہم نہیں جانتے، لیکن عجیب ضرور ہیں۔ اب دیکھیے نا، اپنے لون صاحب……. سجاد لون صاحب ہی کو لیجیے، ان جناب کا کوئی اتہ پتہ ہی نہیں، بالکل اسی طرح جس طرح کسی زمانے میں کشمیر میں لاپتہ لوگوں کا کوئی اتہ پتہ نہیں ملتا تھا……. بالکل بھی نہیں ملتا تھا۔سجاد صاحب کہاں ہیں، کسی کو خبر نہیں، یہاں ہیں یا کہیں سدھار گئے ہیں، یہ بھی ہم نہیں جانتے کہ……. کہ اگر ہم کچھ جانتے ہیں تو یہ جانتے ہیں کہ سجاد صاحب جہاں بھی ہوں……. ہمارا مطلب ہے کہ یہ جناب ایسی کس جگہ ہیں جہاں سے ان کی ہمیں کوئی خبر ہی نہیں مل رہی ہے……. اور اس لیے نہیں مل رہی ہے کہ سجاد صاحب وہاں وہ کام کر رہے ہیں جو ان کے لیے سب سے مشکل کام ہے، اور ان کے لیے سب سے مشکل کام خاموش رہنا ہے۔ اور……. اور اب کئی دن نہیں بلکہ کئی ہفتے ہو گئے ہیں اور سجاد صاحب خاموش ہیں یا خاموش کر دیے گئے ہیں۔یہ جناب تو رائے کا پہاڑ بنانے میں یدِ طولیٰ رکھتے ہیں، لیکن……. لیکن جب کشمیر میں سچ مچ رائے کا پہاڑ بن گیا تو ان پہاڑ جیسی لمبی معاف کیجیے ٹرین کی پٹری جیسی لمبی زبان سے ایک لفظ بھی ادا نہیں ہو پا رہا ہے……. یہ جناب بالکل خاموش ہیں، جبکہ کشمیر میں شور و غوغا برپا ہے۔ پہلے این سی حکومت کی کابینہ میں توسیع پر اور پھر مہدی صاحب کے حکمران جماعت کو ٹاٹا بائی بائی کہنے پر ایک ہنگامہ برپا ہے، جو ابھی تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے……. لیکن اللہ خیر کرے کہ سجاد صاحب نے اپنے لب سیے ہوئے ہیں۔ہاں، ہم مانتے ہیں کہ صرف یہ جناب ہی نہیں جو ایسا کیے ہوئے ہیں، ان کے علاوہ بھی کشمیر میں بہت سارے لوگ ہیں جو مہدی صاحب کے این سی سے چلے جانے اور اس کے بعد دونوں فریقوں کی جانب سے ایک دوسرے پر الزامات کے تیر برسانے کے معاملے پر خاموش ہیں……. لیکن صاحب، ہم ان کا موازنہ سجاد صاحب سے نہیں کر سکتے۔ ان کی خاموشی قابلِ فہم ہے اور سجاد صاحب کی ناقابلِ فہم، کہ……. کہ جب تک سجاد صاحب منہ کھولتے نہیں اور کچھ بولتے نہیں، انہیں قرار ہی نہیں آتا ہوگا۔۔۔ بالکل بھی نہیں آتا ہوگا۔لیکن اس وقت انہیں کیسے قرار آ رہا ہوگا، یہ سوچ کر ہم پریشان ہیں……. لیکن خیریت ہوگی، اللہ خیر کرے گا۔ ہے نا؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



