صاحب سیدھا مدعے پر آتے ہیں۔ نیشنل کانفرنس کا کہنا ہے کہ کشمیر میں بی جے پی کامیاب ہوئی ……. نہیں صاحب، آپ بھی کمال کرتے ہیں! بات پوری سنتے نہیں ہیں، پوری بات سننے سے پہلے ہی نتائج اور معنی اخذ کر لیتے ہیں۔ بی جے پی الیکشن جیتنے میں کامیاب نہیں ہوئی اور نہ نیشنل کانفرنس نے ایسا کہا۔ حکمران جماعت نے صرف اتنا کہا کہ بی جے پی کا کشمیر میں آپریشن لوٹس کامیاب ہوا ……. اور اس لیے ہوا کہ ……. کہ آغا سید روح اللہ این سی سے مستعفی ہوئے۔ کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ آئندہ جو کوئی بھی کسی بھی جماعت سے باہر نکلے گا، مستعفی ہو جائے گا ……. اس کا سہرا بی جے پی کے سر باندھا جائے گا؟ یہ کیا بات ہوئی صاحب؟ کیا پہلے لوگ سیاسی جماعتوں سے مستعفی نہیں ہوتے تھے؟ کیا پہلے کے زمانے میں، جب بی جے پی تھی اور نہ اس کا آپریشن لوٹس تھا ……. تب سیاستدان مرتے دم تک ایک ہی جماعت میں رہتے تھے؟اگر ایک ایم پی کا نیشنل کانفرنس سے مستعفی ہونا آپریشن لوٹس ٹھہرا تو صاحب، ہمیں یہ بتائیے کہ ۱۹۸۴ میں جب غلام محمد شاہ نے فاروق صاحب کی کرسی ان کے ناکوں نہیں بلکہ ٹانگوں تلے کھینچ لی تو وہ کون سا آپریشن تھا؟ ……. کانگریس پارٹی، جس کی این سی آج اتحادی ہے، کے اس آپریشن کو کیا نام دیں کہ ……. کہ اپنے گورے گورے بانکے چھورے وزیر اعلیٰ، عمر عبداللہ کا جاننا اور ماننا ہے کہ کشمیر کی تاریخ کا ٹرننگ پوائنٹ ۱۹۸۷ کے اسمبلی انتخابات میں بدعنوانیاں نہیں بلکہ ۱۹۸۴ میں شاہ صاحب کا فاروق صاحب سے کرسی چھین لینا تھا۔خیر! ہم اس میں زیادہ گہرائی میں جانا نہیں چاہتے ہیں اور اس لیے نہیں چاہتے ہیں کہ بھرے ہوئے زخموں کو کریدنے سے درد ہوتا ہے، تکلیف ہوتی ہے اور ……. اور ہم کسی کو درد دینا چاہتے ہیں اور نہ تکلیف۔رہی آغا روح اللہ کے مستعفی ہونے کی بات تو صاحب ……. قائد ثانی اور ان کے پیادوں نے بار بار ان کی غیرت کو للکارتے ہوئے کہا کہ اگر انہیں نیشنل کانفرنس اور اس کی قیادت سے اتنے ہی اختلافات ہیں تو انہیں مستعفی ہونا چاہیے اور ……. اور روح اللہ نے بالکل ایسا ہی کیا ……. این سی کی قیادت کے کہنے پر کیا۔ اب اس میں بی جے پی اور اس کا آپریشن لوٹس کہاں سے بیچ میں آیا؟ اگر آپ سمجھ گئے تو ہمیں بھی سمجھائیے۔ ہے نا؟
۔۔۔۔۔




