نہیں صاحب! اگر آپ کی سمجھ میں کچھ آ رہا ہے تو ہمیں بھی سمجھائیے۔ ہمیں سمجھنے اور سیکھنے میں کوئی شرم نہیں آتی، بالکل بھی نہیں آتی۔ ہمیں یہ سمجھائیے کہ میڈم جی، یعنی محبوبہ جی، اصل میں کہنا کیا چاہتی تھیں؟ ہم نے ان کی ساری باتیں سنیں، خود سنیں۔ کسی نے ہمارے سامنے ان کی چغلی نہیں کی ……. ہم نے اور ہمارے کانوں نے ان کی باتیں سنیں، لیکن سن کر بھی ہم یہ نہیں سمجھ پائے کہ میڈم جی نیشنل کانفرنس کو ناراض، مزید ناراض کرنا چاہتی تھیں یا دہلی، یعنی امیت بھائی شاہ اور مودی کی دہلی کو خوش کرنے کی خواہاں تھیں؟ …….سرینگر اور دہلی کے درمیان گزشتہ ۸۰ برسوں سے چلی آ رہی رنجشوں کے لیے میڈم جی نے این سی اور اس کی قیادت کو ذمہ دار قرار دیا اور سو فیصد قرار دیا ! یقینا ًمحبوبہ جی کی ان باتوں سے این سی کی قیادت کا دل دکھا ہوگا، لیکن دہلی کا دل تو خوش ہوا ہوگا۔ دہلی دل ہی دل میں سوچ رہی ہوگی کہ واہ میڈم جی، واہ! آپ نے سرینگر میں گزشتہ ۸۰ برسوں سے موجود بیانیے کو ہی بدل ڈالنے کی کوشش کی۔یقیناً آپ کی دس منٹ کی تقریر سے یہ بیانیہ بدلنے والا نہیں ہے، لیکن آپ نے جو کوشش کی، وہ واقعی اپنی مثال آپ ہے۔ آج تک جو بھی کشمیری دہلی اور سرینگر کے باہمی رشتوں کی بات کرتا ہے تو وہ بات کم اور الزاموں کی بارش زیادہ کرتا ہے۔کشمیر اور دہلی کے درمیان جتنے بھی مسائل ہیں، اور اللہ میاں کی قسم، مسائل کی فہرست بڑی طویل ہے، طویل ترین ہے، ان سب کے لیے دہلی کو ہی ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے ……. کوئی سوچتا نہیں ہے، اسے سوچنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں ہوتی کہ جو وہ کہہ رہا ہے، جو تیر دہلی کی طرف چلا رہا ہے، کیا وہ صحیح کر رہا ہے؟ کوئی ایسا نہیں سوچتا۔لیکن ……. لیکن آج میڈم جی نے جو باتیں کیں، انہیں سن کر ہمیں لگا کہ صاحب، آخر میڈم کہنا کیا چاہتی تھیں؟ سنانا کیا چاہتی تھیں؟ کیا میڈم جی این سی کو ناراض اور دہلی کو خوش کرنا چاہتی تھیں ……. یا دہلی کو خوش کرکے این سی کو مزید ناراض کرنا چاہتی تھیں؟ویسے بھی آج کل کشمیر میں این سی سے سبھی ناراض ہیں، اس کے اپنے بھی اور پرائے بھی۔ ایسے میں اگر این سی، میڈم جی کی باتیں سن کر ان سے ناراض ہوتی ہے تو ہو جائے، لیکن ان کی باتوں سے ……. میڈم جی کی باتوں سے دہلی تو خوش ہوگی نا! ہے نا؟
۔۔۔۔۔۔




