پیر ۲ نومبر کو جموں میں دربار مو کے دفاتر دوبارہ کھل گئے اور سرمائی دارالحکومت سے حکومت کے امور کی انجام دہی کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کو سول سیکریٹریٹ پہنچنے پر جموں و کشمیر پولیس کے دستے نے گارڈ آف آنر پیش کیا۔ اس طرح چھ ماہ تک کشمیر سے چلنے والا انتظامی نظام اب جموں منتقل ہوگیا ہے۔ دربار مو کی بحالی جموں و کشمیر کی انتظامی تاریخ کا ایک اہم حصہ ہے، لیکن اس سال اس روایت کی واپسی کے ساتھ ہی حکومت کے سامنے کئی ایسے سوالات بھی کھڑے ہیں جن کا تعلق براہ راست عوام کی زندگیوں سے ہے۔
دربار مو کی روایت مہاراجہ رنبیر سنگھ نے ۱۸۷۲ء میں شروع کی تھی۔ اس کا بنیادی مقصد موسم کی شدت اور انتظامی سہولتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت کے دفاتر کو سال کے مختلف حصوں میں دونوں دارالحکومتوں کے درمیان منتقل کرنا تھا۔ یہ روایت تقریباً ڈیڑھ صدی تک جاری رہی، تاہم ۲۰۲۱ء میں لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی انتظامیہ نے اسے ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس فیصلے کے حق میں دلیل دی گئی کہ اس سے سرکاری خزانے کے تقریباً دو سو کروڑ روپے سالانہ بچائے جاسکیں گے۔ بعد ازاں نومبر ۲۰۲۵ء میں منتخب حکومت نے اپنے انتخابی وعدے کے مطابق اس روایت کو دوبارہ بحال کیا۔
دربار مو کی بحالی کو جہاں ایک تاریخی روایت کی واپسی کے طور پر دیکھا گیا، وہیں اس کے معاشی اور انتظامی پہلوؤں پر بھی بحث ہوتی رہی ہے۔ اس سال بھی حکومت کے دفاتر کی منتقلی کے ساتھ جموں میں سیاسی اور انتظامی سرگرمیوں میں تیزی آئے گی۔ کابینہ کی حالیہ توسیع کے بعد نئے وزراء کی موجودگی اور ان کے قافلوں کی آمدورفت سے اقتدار کے ایوانوں میں سرگرمیاں مزید بڑھنے کی توقع ہے۔ تاہم اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ حکومت ان سرگرمیوں کے ذریعے عوامی مسائل کے حل میں کس حد تک کامیاب ہوتی ہے۔
دربار مو کے دفاتر جموں منتقل ہونے کے ساتھ ہی کشمیر میں موسم کی شدت بڑھنے لگی ہے۔ آنے والے مہینوں میں وادی کو شدید سردی، برفباری اور دیگر موسمی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ایسے حالات میں بجلی، پانی، سڑکوں، صحت اور دیگر بنیادی سہولیات کی بلاتعطل فراہمی عوام کے لیے انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔ بدقسمتی سے ابھی سرما کی آمد ہی ہوئی ہے کہ وادی کے مختلف علاقوں میں بجلی کی کٹوتی کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ اس معاملے میں نہ میٹر والے صارفین کو کوئی استثنیٰ حاصل ہے اور نہ ہی اسمارٹ میٹر نصب کرنے والے صارفین کو۔ دیہی علاقوں سے لے کر شہری آبادیوں تک لوگ بجلی کی غیر یقینی فراہمی سے پریشان ہیں۔
یہ صورتحال اس سوال کو جنم دیتی ہے کہ آخر آزادی کے تقریباً اسی برس بعد بھی کشمیر کے عوام کو موسم سرما میں بجلی کی بلاتعطل فراہمی کیوں یقینی نہیں بنائی جاسکی؟ اسمارٹ میٹر نصب کرنے کے بعد صارفین سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ بجلی کے استعمال کے مطابق بل ادا کریں، لیکن اس کے ساتھ حکومت اور متعلقہ محکمہ کی ذمہ داری بھی بڑھ جاتی ہے کہ صارفین کو مناسب اور مسلسل بجلی فراہم کی جائے۔ صرف بلوں کی وصولی اور میٹرنگ کے نظام کو بہتر بنانا کافی نہیں، بلکہ بجلی کی پیداوار، ترسیل اور تقسیم کے نظام میں بھی بنیادی اصلاحات ناگزیر ہیں۔
حکومت کو اس حقیقت کا ادراک ہونا چاہیے کہ دربار مو کی بحالی کا مقصد محض سرکاری دفاتر کی منتقلی نہیں، بلکہ جموں اور کشمیر کے درمیان انتظامی توازن قائم رکھنا اور دونوں خطوں کے عوام کے مسائل کو یکساں اہمیت دینا بھی ہے۔ اگر حکومت جموں سے امور چلاتے ہوئے کشمیر کے عوام کی بنیادی ضروریات کو نظرانداز کرتی ہے تو دربار مو کی بحالی اپنی اصل معنویت کھو دے گی۔
یہ درست ہے کہ وزیراعلیٰ اور وزراء کی ایک روستر کے تحت کشمیر میں مرحلہ وار موجودگی یقینی بنائی جاتی ہے۔ لیکن محض وزراء کی آمدورفت عوامی مسائل کے حل کی ضمانت نہیں ہوسکتی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ سرمائی مہینوں کے لیے ایک جامع انتظامی منصوبہ مرتب کیا جائے، جس کے تحت بجلی، پانی، صحت، راشن، سڑکوں اور دیگر ضروری خدمات کی فراہمی کی مسلسل نگرانی کی جائے۔ متعلقہ محکموں کے افسران کو واضح ذمہ داریاں سونپی جائیں اور کسی بھی قسم کی غفلت یا کوتاہی پر جواب دہی کا نظام قائم کیا جائے۔
اسی طرح سول سیکریٹریٹ کے کشمیر میں موجود سرمائی سیکریٹریٹ کو محض ایک رسمی انتظام تک محدود نہیں رکھا جانا چاہیے۔ اسے عوامی شکایات کے ازالے، اہم انتظامی فیصلوں اور ضروری خدمات کی نگرانی کے لیے مؤثر طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔ جدید مواصلاتی ذرائع اور آن لائن نظام کے ذریعے جموں میں موجود اعلیٰ حکام بھی کشمیر کے حالات پر مسلسل نظر رکھ سکتے ہیں۔ اس کے لیے ضروری نہیں کہ ہر مسئلے کے حل کے لیے کسی وزیر یا اعلیٰ افسر کی جسمانی موجودگی کا انتظار کیا جائے۔
دربار مو کی روایت اپنی تاریخی اہمیت رکھتی ہے، لیکن عوام کے لیے اس کی کامیابی کا اصل معیار یہ ہے کہ حکومت ان کی زندگیوں میں کتنی آسانی پیدا کرتی ہے۔ سردیوں میں بجلی کی کٹوتی، پانی کی قلت، صحت کی سہولیات کی کمی اور دیگر مشکلات کشمیری عوام کے لیے ہر سال ایک آزمائش بن جاتی ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ اس بار ان مسائل کو معمول کا حصہ سمجھنے کے بجائے ان کے مستقل حل کی جانب پیش رفت کرے۔
جموں میں دربار مو کے دفاتر کھلنے کے ساتھ حکومت کی ذمہ داریاں بھی بڑھ گئی ہیں۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اقتدار کے ایوانوں میں ہونے والی سرگرمیوں کا اثر عوام کی زندگیوں میں بھی نظر آئے۔ سرما کی سختیوں سے پہلے بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ دربار مو کی بحالی اسی وقت بامعنی ثابت ہوگی جب کشمیر کے عوام کو یہ احساس ہو کہ ان کی مشکلات اور ضروریات حکومت کی ترجیحات میں شامل ہیں۔





