جموں و کشمیر میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت آج کابینہ میں توسیع اور رد و بدل کرنے جا رہی ہے۔ تقریباً دو سال قبل نیشنل کانفرنس کو عوام نے جس بھاری مینڈیٹ کے ساتھ اقتدار سونپا تھا، اس کے پیش نظر یہ تبدیلی نئے وزراء کی شمولیت یا محکموں کی نئی تقسیم تک محدود نہیں رہنی چاہئے، بلکہ اسے حکومت کی کارکردگی بہتر بنانے اور عوامی توقعات پر پورا اترنے کے ایک سنجیدہ موقع کے طور پر دیکھا جانا چاہئے۔
نیشنل کانفرنس نے انتخابی مہم کے دوران ریاستی حیثیت کی بحالی، نوجوانوں کو روزگار، معاشی مشکلات کے ازالے، بجلی اور پانی کی بہتر فراہمی، صحت و تعلیم کے شعبوں میں بہتری اور عوامی مسائل کے فوری حل سمیت متعدد وعدے کئے تھے۔ تاہم ان میں سے کئی معاملات آج بھی عوام کی توجہ کے منتظر ہیں۔ یہ درست ہے کہ حکومت سے تمام مسائل فوری طور پر حل کرنے کی توقع نہیں کی جا سکتی، لیکن عوام یہ ضرور جاننا چاہتے ہیں کہ ان کے ووٹ سے قائم ہونے والی حکومت نے ان کی مشکلات کم کرنے کے لئے اب تک کیا اقدامات کئے ہیں۔
کابینہ میں رد و بدل کی اہمیت اسی وقت ثابت ہوگی جب اس کے ذریعے ایسے افراد کو ذمہ داریاں سونپی جائیں جو انتظامی صلاحیت، عوامی مسائل کی سمجھ اور عملی کارکردگی کا مظاہرہ کر سکیں۔ اگر یہ تبدیلی صرف سیاسی توازن قائم رکھنے، مختلف حلقوں کو مطمئن کرنے یا جماعت کے اندرونی اختلافات دور کرنے تک محدود رہی تو اس کا عوام کو کوئی خاص فائدہ نہیں ہوگا۔ وزارتی عہدے سیاسی انعامات نہیں، بلکہ عوام کی خدمت اور جواب دہی کی ذمہ داریاں ہیں۔
جموں و کشمیر میں بے روزگاری نوجوانوں کے لئے ایک بڑا مسئلہ ہے۔ سرکاری محکموں میں خالی آسامیوں کو پُر کرنے، نجی شعبے میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور مقامی معیشت کو مستحکم بنانے کے لئے ٹھوس اقدامات ناگزیر ہیں۔ محض اعلانات اور اجلاسوں سے نوجوانوں میں پائی جانے والی بے یقینی ختم نہیں ہو سکتی۔ حکومت کو روزگار کے وعدوں کی تکمیل کے لئے واضح اہداف مقرر کرنے اور اپنی پیش رفت عوام کے سامنے رکھنے کی ضرورت ہے۔
اسی طرح باغبانی، سیاحت اور تجارت جیسے اہم شعبوں کو درپیش مشکلات بھی فوری توجہ چاہتی ہیں۔ شاہراہوں کی بندش، نقل و حمل میں رکاوٹوں، بڑھتے اخراجات اور کاروباری غیر یقینی صورت حال سے باغ مالکان، تاجروں اور چھوٹے کاروباری افراد متاثر ہوتے ہیں۔ نئی کابینہ کو ایسے فیصلے کرنے چاہئیں جن سے مقامی معیشت کو استحکام ملے، کاروباری سرگرمیاں فروغ پائیں اور لوگوں کے لئے آمدنی کے نئے ذرائع پیدا ہوں۔
بجلی کی فراہمی، پینے کے صاف پانی، سرکاری اسپتالوں میں طبی سہولیات اور تعلیمی اداروں کی حالت بھی حکومتی ترجیحات میں شامل ہونی چاہئے۔ موسم سرما کی آمد کے ساتھ بجلی کی قلت عوام کے لئے ایک بار پھر پریشانی کا باعث بن سکتی ہے۔ دور دراز علاقوں میں طبی سہولیات کی کمی بھی ایک سنگین مسئلہ ہے۔ حکومت کی ذمہ داری صرف پالیسی مرتب کرنا نہیں، بلکہ اس کے فوائد آخری گاؤں تک پہنچانا ہے۔ نئے وزراء کو اپنے محکموں کی کارکردگی بہتر بنانے اور عوامی شکایات کے بروقت ازالے کے لئے واضح لائحۂ عمل اختیار کرنا چاہئے۔
ریاستی حیثیت کی بحالی کا معاملہ بھی اپنی اہمیت برقرار رکھتا ہے۔ نیشنل کانفرنس نے انتخابی مہم میں اس وعدے کو نمایاں طور پر اٹھایا تھا۔ اگرچہ اس سلسلے میں مرکزی حکومت کا فیصلہ بنیادی اہمیت رکھتا ہے، تاہم جموں و کشمیر حکومت کو اس مطالبے کو مؤثر انداز میں اٹھاتے رہنا چاہئے۔ عوام کو یہ یقین ہونا چاہئے کہ ان کے منتخب نمائندے اس وعدے کو فراموش نہیں کر چکے ہیں۔
حکومت کی کارکردگی بہتر بنانے کے لئے محکموں کے درمیان تال میل، سرکاری کاموں میں تیزی، شفافیت اور جواب دہی بھی ضروری ہے۔ فائلوں میں غیر ضروری تاخیر اور عوامی شکایات کے ازالے میں سستی سے شہریوں کو روزانہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ نئے وزراء کو اپنے محکموں کی باقاعدہ نگرانی کرنی چاہئے اور فیصلوں کے نتائج کے بارے میں عوام کو جواب دینا چاہئے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ جموں و کشمیر کی انتظامی صورت حال میں مرکز کے ساتھ تعلقات اور اختیارات کی حدود حکومت کے لئے مشکلات پیدا کر سکتی ہیں۔ تاہم ان رکاوٹوں کو ہر ناکامی کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔ جہاں حکومت کے پاس اختیارات ہیں، وہاں اسے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئیں اور جہاں مرکزی تعاون درکار ہے، وہاں اپنا موقف مؤثر انداز میں پیش کرنا چاہئے۔ عوام کو سیاسی بیان بازی کے بجائے عملی اقدامات اور قابل پیمائش نتائج درکار ہیں۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے سامنے کابینہ میں توسیع اور رد و بدل کے ذریعے اپنی حکومت کی ترجیحات کو نئے سرے سے واضح کرنے کا اہم موقع ہے۔ اس کے لئے وزراء کی کارکردگی کا باقاعدہ جائزہ، محکموں کے لئے واضح اہداف اور انتخابی وعدوں کی تکمیل کے لئے قابل عمل منصوبہ ضروری ہے۔ عوامی حمایت محض انتخابی کامیابی سے برقرار نہیں رہتی، بلکہ اسے کارکردگی اور جواب دہی کے ذریعے مضبوط بنانا پڑتا ہے۔
بالآخر کابینہ میں توسیع کی کامیابی نئے وزراء کی حلف برداری یا محکموں کی تقسیم سے نہیں، بلکہ عوام کی زندگیوں میں آنے والی تبدیلی سے طے ہوگی۔ تقریباً دو سال بعد عوام کو مزید وعدوں کے بجائے ان کی تکمیل کے واضح شواہد درکار ہیں۔ اگر نئی کابینہ عوامی مسائل کو ترجیح دے، انتظامی جواب دہی یقینی بنائے اور روزمرہ مشکلات کے حل کے لئے سنجیدہ اقدامات کرے تو یہ تبدیلی ایک مثبت قدم ثابت ہو سکتی ہے۔ بصورت دیگر چہرے تو بدل جائیں گے، لیکن عوام کی توقعات بدستور تشنۂ تکمیل رہیں گی۔




