بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے پر بجا طور پر فخر کرتا ہے۔ مختلف مذاہب، زبانوں، ثقافتوں اور نظریات کے حامل کروڑوں افراد پر مشتمل اس ملک میں جمہوری نظام کا استحکام محض ایک آئینی ضرورت نہیں، بلکہ قومی اتحاد اور عوامی اعتماد کی بنیاد بھی ہے۔ جمہوریت کی اصل طاقت صرف انتخابات کے انعقاد یا حکومتوں کی تشکیل میں نہیں، بلکہ اس بات میں ہے کہ ریاستی ادارے اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کریں، عوام کے ووٹ کی حرمت برقرار رہے اور اختلاف رائے رکھنے والوں کو اپنے خیالات کے اظہار کا پورا موقع ملے۔ جب ان بنیادی اصولوں پر سوالات اٹھیں تو ان کا جواب دینا حکومت اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری بن جاتی ہے۔
چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کی مہم اسی جمہوری بحث کا حصہ ہے۔ اپوزیشن اتحاد ’انڈیا بلاک‘ نے انتخابی عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں اور ووٹوں کی چوری کے الزامات کے سلسلے میں سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں اور کارکنوں نے دہلی میں جمہوریت کے تحفظ کے لیے مارچ کرتے ہوئے انتخابی عمل میں شفافیت یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔ کانگریس سمیت مختلف جماعتوں کا الزام ہے کہ الیکشن کمیشن کا طرز عمل حکمران اتحاد این ڈی اے کو انتخابی فائدہ پہنچانے کے خدشات پیدا کرتا ہے۔ ان الزامات کی حقیقت کا تعین شواہد اور قانونی کارروائی کی بنیاد پر ہونا چاہیے، تاہم انتخابی اداروں کی غیر جانب داری پر عوام کا اعتماد جمہوری نظام کے لیے ناگزیر ہے۔
جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بھی دہلی میں انڈیا بلاک کے مارچ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ جمہوری حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کرنے کے لیے بڑی تعداد میں لوگوں کا سڑکوں پر نکلنا خوش آئند ہے۔ ان کا بیان اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ جمہوریت کا تحفظ کسی ایک جماعت یا ریاست کا مسئلہ نہیں، بلکہ اس کا تعلق ملک کے ہر شہری کے سیاسی اور آئینی حقوق سے ہے۔ ووٹ محض حکومت بنانے کا ذریعہ نہیں، بلکہ عام شہری کی وہ آواز ہے جس کے ذریعے وہ اپنی پسند اور مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرتا ہے۔ اگر کسی شہری کو خدشہ ہو کہ اس کے ووٹ کی اہمیت کم کی جا رہی ہے یا اس کے حق کو نقصان پہنچ رہا ہے تو اس تشویش کا ازالہ جمہوری اداروں کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔
جمہوریت میں اپوزیشن کا کردار محض حکومت کی مخالفت تک محدود نہیں ہوتا۔ حزب اختلاف حکومتی فیصلوں کی نگرانی، عوامی مسائل کی نشاندہی اور اقتدار کو جواب دہ بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اختلافات فطری ہیں، لیکن انہیں برداشت کرنا اور آئینی دائرے میں حل کرنا جمہوری نظام کی بنیادی ضرورت ہے۔ اگر اپوزیشن کسی ادارے کے کردار پر سوال اٹھاتی ہے تو اسے محض سیاسی مخالفت قرار دے کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اسی طرح اپوزیشن پر بھی لازم ہے کہ وہ اپنے الزامات قابل اعتماد شواہد کے ساتھ پیش کرے، کیونکہ سیاسی بیان بازی اور ثابت شدہ بے ضابطگی میں واضح فرق ہے۔
پُرامن احتجاج شہریوں کا جمہوری حق ہے۔ دہلی میں اپوزیشن جماعتوں کا مارچ اسی حق کے استعمال کی مثال ہے۔ بڑی تعداد میں لوگوں کا کسی مسئلے پر آواز بلند کرنا محض سیاسی طاقت کا مظاہرہ نہیں، بلکہ اس کے پیچھے موجود عوامی تشویش کو سمجھنے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔ تاہم احتجاج اسی وقت اپنی معنویت برقرار رکھتا ہے جب وہ پُرامن ہو، قانون کی پابندی کی جائے اور عام شہریوں کی زندگیوں کو غیر ضروری طور پر متاثر نہ کیا جائے۔ جمہوری حقوق کے تحفظ کی جدوجہد میں دوسروں کے حقوق کا احترام بھی ضروری ہے۔
یہ سمجھنا بھی اہم ہے کہ سڑکوں پر احتجاج کسی الزام کو خود بخود درست ثابت نہیں کرتا۔ چیف الیکشن کمشنر یا الیکشن کمیشن کے فیصلوں سے متعلق قانونی اور آئینی سوالات کا فیصلہ شواہد اور مقررہ طریقہ کار کے مطابق ہونا چاہیے۔ اس تناظر میں سپریم کورٹ سے رجوع کرنا اہمیت رکھتا ہے۔ عدالت عظمیٰ آئینی حقوق، قانونی ذمہ داریوں اور ادارہ جاتی اختیارات سے متعلق معاملات کی جانچ کر سکتی ہے۔ عدالت سے رجوع کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ اپوزیشن کے تمام الزامات درست ہیں، لیکن اس سے ان کی قانونی حیثیت کا جائزہ لینے کا راستہ ضرور کھلتا ہے۔ جمہوریت کی مضبوطی اسی میں ہے کہ سیاسی اختلافات کا فیصلہ قانون کے مطابق ہو، نہ کہ محض نعروں اور الزامات کی بنیاد پر۔
الیکشن کمیشن کی ذمہ داری غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ اس کے فیصلوں کا براہ راست تعلق عوامی نمائندگی اور اقتدار کی منتقلی سے ہے۔ انتخابی فہرستوں کی درستگی، ووٹروں کی شمولیت، ووٹوں کی گنتی اور نتائج کے اعلان تک ہر مرحلے میں شفافیت ضروری ہے۔ انتخابی فہرستوں سے ناموں کے اخراج، ووٹر رجسٹریشن یا دیگر معاملات پر اعتراضات سامنے آئیں تو ان کی بروقت اور غیر جانب دارانہ جانچ ہونی چاہیے۔ کسی شہری کو اس کے جائز حق رائے دہی سے محروم ہونے سے بچانا الیکشن کمیشن کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
کسی ادارے کی غیر جانب داری صرف اس کے اپنے دعوے سے ثابت نہیں ہوتی، بلکہ اس کے فیصلوں، طرز عمل اور عوامی اعتماد سے ظاہر ہوتی ہے۔ اگر کسی ادارے کے بارے میں مسلسل سوالات اٹھ رہے ہوں تو اسے حقائق سامنے لا کر اپنے فیصلوں کی وضاحت کرنی چاہیے۔ شفافیت کے ذریعے شبہات دور کرنا ہی اعتماد بحال کرنے کا مؤثر راستہ ہے۔ الیکشن کمیشن کو سیاسی الزامات کا جواب سیاسی انداز میں دینے کے بجائے اپنی آئینی ذمہ داریوں اور قابل تصدیق معلومات کی بنیاد پر اپنا موقف واضح کرنا چاہیے۔
حکمران اتحاد کو بھی اپوزیشن کی مہم کو محض سیاسی مخالفت سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ مضبوط جمہوریت میں حکومت کو تنقید برداشت کرنے کا حوصلہ ہونا چاہیے۔ اگر الزامات بے بنیاد ہیں تو مستند حقائق کے ذریعے انہیں غلط ثابت کیا جا سکتا ہے، اور اگر انتخابی عمل میں خامیاں موجود ہیں تو ان کی اصلاح جمہوری نظام کو کمزور نہیں بلکہ مضبوط کرے گی۔ حکومت کی کامیابی مخالف آوازوں کو خاموش کرانے میں نہیں، بلکہ ایسا ماحول پیدا کرنے میں ہے جہاں ہر شہری کو یقین ہو کہ اس کے ووٹ کی قدر یکساں ہے اور ریاستی ادارے کسی سیاسی جماعت کے مفاد کے تابع نہیں۔
اپوزیشن پر بھی لازم ہے کہ وہ عوامی خدشات کو سنجیدگی سے اٹھائے اور غیر ضروری اشتعال سے گریز کرے۔ جمہوری جدوجہد کا مقصد کسی ادارے کو بدنام کرنا نہیں، بلکہ اس کی کارکردگی بہتر بنانا اور عوامی حقوق کا تحفظ ہونا چاہیے۔ انتخابی نظام پر اعتماد کسی ایک جماعت کی کامیابی یا ناکامی سے کہیں بڑا معاملہ ہے۔ آج ایک جماعت کو شکایت ہو سکتی ہے، کل یہی صورت حال کسی دوسری جماعت کو بھی پیش آ سکتی ہے۔ اس لیے جمہوری اصولوں کا تحفظ سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر کیا جانا چاہیے۔
جموں و کشمیر جیسے خطے میں جمہوری حقوق اور عوامی اعتماد کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے، جہاں سیاسی نمائندگی، ریاستی حیثیت اور آئینی حقوق سے متعلق سوالات مسلسل زیر بحث رہے ہیں۔ یہاں کے عوام کے لیے جمہوریت کا مطلب صرف انتخابات میں حصہ لینا نہیں، بلکہ یہ یقین بھی ہے کہ ان کی آواز فیصلہ سازی میں اہمیت رکھتی ہے۔ عمر عبداللہ کی جانب سے دہلی کے مارچ کی حمایت اسی تناظر میں اہم ہے۔ جمہوری حقوق کا تحفظ اسی وقت بامعنی ہوگا جب ان کا اطلاق تمام شہریوں پر یکساں ہو، خواہ ان کا تعلق کسی بھی خطے یا سیاسی نظریے سے ہو۔



