ماضی سچ میں عذاب ہے……. اس لیے عذاب نہیں کہ کم بخت یہ یاد آتا رہتا ہے، بن بلائے مہمان کی طرح اس کی یاد آتی رہتی ہے۔ نہیں صاحب، اس لیے نہیں، بلکہ صرف اس لیے کہ کبھی نہ کبھی ماضی کی ایسی کوئی غلطی سامنے آ ہی جاتی ہے جو شاندار مستقبل پر گہن لگا دیتی ہے، اور سو فیصد لگا دیتی ہے۔ اور……. اور اپنے شرما جی، سنیل شرما جی کچھ ایسا ہی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں……. کرنے کی نہ سہی، لیکن کہنے کی کوشش کر رہے ہیں۔وہ کیا ہے کہ اپنے راہل بابا ووٹ چوری کے خلاف آج کل سڑکوں پر ہیں، اور سو فیصد ہیں۔ اکیلے نہیں ہیں، بلکہ دوسری اپوزیشن جماعتیں بھی ان کے ساتھ ساتھ ہیں……. راہل بابا چاہتے ہیں کہ بی جے پی کے حق میں ووٹ چوری کرنے والے گیانیش کمار کا کام تمام کیا جائے، اور……. اور اس لیے کیا جائے کیونکہ انہوں نے کام ہی کچھ ایسا کیا ہے۔ ٹھہریے جناب! کام تمام سے مراد وہ کام تمام نہیں، جو آپ سمجھ رہے ہیں‘ بلکہ صرف یہ کہ ان سے استعفیٰ لیا جائے یا انہیں کمیشن سے چلتا کیا جائے۔اب گیانیش نے ووٹ چوری……. بی جے پی کے حق میں ووٹ چوری کی ہے یا نہیں، یہ تو ہم نہیں جانتے ہیں۔ اس لیے نہیں جانتے ہیں کہ ابھی اس کا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا ہے……. ہاں، الزامات ضرور ہیں۔ لیکن ایک ایسی بھی ووٹ چوری ہوئی ہے……. ماضی میں ہوئی ہے، جس کے کافی ثبوت موجود ہیں، اور سو فیصد موجود ہیں۔ یہ ووٹ چوری اپنے کشمیر میں ہوئی، ۱۹۸۷ء کے اسمبلی انتخابات میں ہوئی……. ایسی ووٹ چوری کہ احمد کی ٹوپی محمد کے سر پر رکھی گئی، اور دن کے اجالے میں رکھی گئی۔اس ووٹ چوری کو راہل بابا کی جماعت، کانگریس نے انجام دیا تھا، نیشنل کانفرنس کے ساتھ مل کر انجام دیا تھا۔ کہنے والوں کا کہنا ہے کہ بس پھر کیا تھا کہ کشمیر میں جمہوریت کے ساتھ ساتھ امن اور شانتی کا بھی جنازہ اٹھ گیا، اور……. اور وہ دن اور آج کا دن کہ اب بھی ایسے لوگوں کی کوئی کمی نہیں ہے……. بالکل بھی نہیں ہے، جن کا جاننا اور ماننا ہے کہ جمہوریت ٹنل کے اُس پار رک جاتی ہے، اس کی بریک لگ جاتی ہے، اور اِس پار یہ نہیں آتی ہے……. کبھی نہیں آتی ہے۔اپنے شرما جی……. سنیل شرما جی یہ بات، یہی ماضی راہل بابا کو یاد دلانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ جناب! ہمارے کہنے پر، بی جے پی کے کہنے پر گیانیش نے ووٹ چوری کی یا نہیں، یہ توثابت نہیں، لیکن آپ کی پارٹی نے کی، اور سو فیصد کی……. جموں و کشمیر میں کی۔ ہے نا؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔



