جموں و کشمیر میں عمر عبداللہ سرکار کی کابینہ میں متوقع توسیع اور رد و بدل حکومت کے لیے اپنے دو سالہ دورِ اقتدار کا جائزہ لینے کا ایک اہم موقع بھی ہے۔سوال یہ نہیں کہ کابینہ میں کون شامل ہوگا اور کس کو باہر کا راستہ دکھایا جائے گا، بلکہ یہ ہے کہ اس تبدیلی سے عوام کو کیا فائدہ پہنچے گا اور حکومت اپنے انتخابی وعدوں کی تکمیل کے لیے کون سے عملی اقدامات کرے گی۔
عمر عبداللہ حکومت ۱۶ اکتوبر کو اپنے دو سال مکمل کرنے جا رہی ہے۔ یہ مدت کسی بھی منتخب حکومت کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے کافی ہے۔ انتخابات کے دوران عوام سے بڑے وعدے کیے گئے تھے اور ان وعدوں کی بنیاد پر لوگوں نے نیشنل کانفرنس کو اقتدار سونپا۔ اب وقت آگیا ہے کہ حکومت خود احتسابی کرے اور دیکھے کہ ان دو برسوں میں اس نے کیا حاصل کیا، کہاں ناکامی ہوئی اور کن شعبوں میں فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
کابینہ میں توسیع اور رد و بدل ہر حکومت کا اختیار ہے۔ اگر کسی وزیر کی کارکردگی تسلی بخش نہیں تو اس کی جگہ کسی دوسرے شخص کو ذمہ داری دینا ایک مناسب فیصلہ ہو سکتا ہے۔ اسی طرح تجربہ کار اور اہل افراد کو کابینہ میں شامل کرنا بھی حکومت کے مفاد میں ہے۔ لیکن اس عمل کا مقصد صرف سیاسی توازن قائم کرنا، مختلف گروہوں کو مطمئن کرنا یا جماعت کے اندر اختلافات کو کم کرنا نہیں ہونا چاہیے۔ کابینہ میں تبدیلی اسی وقت بامعنی ثابت ہوگی جب اس کے نتیجے میں انتظامی کارکردگی بہتر ہو، سرکاری محکموں میں جواب دہی بڑھے اور عوامی مسائل کے حل کی رفتار تیز ہو۔
یہ اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ کابینہ میں سینئر قانون سازوں کو ترجیح دی جا سکتی ہے۔ تجربہ یقیناً اپنی جگہ اہمیت رکھتا ہے، لیکن کسی شخص کی سیاسی سنیارٹی ہی اسے بہتر منتظم ثابت نہیں کرتی۔ اصل معیار اہلیت، دیانت داری، انتظامی صلاحیت اور عوام کے مسائل سے واقفیت ہونا چاہیے۔ نئے وزیروں کو محض عہدے نہیں بلکہ بھاری ذمہ داریاں بھی سونپی جائیں گی۔ ان سے یہ توقع کی جانی چاہیے کہ وہ اپنے محکموں کو روایتی دفتری طریقہ کار سے نکال کر کارکردگی اور نتائج پر مبنی نظام کی طرف لے جائیں گے۔ اگر کابینہ میں تبدیلی کے باوجود کام کرنے کا انداز وہی پرانا رہا تو اس مشق سے کسی بڑی تبدیلی کی امید رکھنا بے سود ہوگا۔
جموں و کشمیر کے عوام کو آج بھی متعدد بنیادی مسائل کا سامنا ہے۔ بے روزگاری نوجوانوں کے لیے ایک بڑا مسئلہ بنی ہوئی ہے، سرکاری محکموں میں خالی اسامیاں پُر ہونے کی منتظر ہیں، کاروباری طبقہ معاشی مشکلات سے دوچار ہے اور باغبانی سے وابستہ لوگوں کو اپنی پیداوار کی مناسب قیمت اور اسے منڈیوں تک پہنچانے کے مسائل درپیش رہتے ہیں۔ تعلیم، صحت، بجلی، پینے کے پانی، سڑکوں اور شہری سہولیات کے شعبوں میں بھی لوگوں کی توقعات پوری نہیں ہو سکی ہیں۔ حکومت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ عوام کے لیے سیاسی بیانات سے زیادہ اہمیت ان مسائل کے حل کی ہے جو ان کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرتے ہیں۔
خصوصاً نوجوانوں کے روزگار کے معاملے میں حکومت کو ٹھوس پیش رفت دکھانی ہوگی۔ بھرتی کے اشتہارات جاری کرنا یا خالی اسامیوں کی نشاندہی کرنا کافی نہیں، بلکہ بھرتی کا عمل شفاف اور مقررہ مدت کے اندر مکمل ہونا چاہیے۔ نوجوان برسوں تک امتحانات، نتائج اور تقرریوں کے انتظار میں اپنی زندگی کا قیمتی وقت ضائع کرتے ہیں۔ حکومت کو سرکاری ملازمتوں کے ساتھ نجی شعبے میں روزگار کے مواقع بڑھانے پر بھی توجہ دینی چاہیے۔ سیاحت، باغبانی، دست کاری اور مقامی صنعتوں کو فروغ دے کر معاشی سرگرمیوں میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ نئے وزیروں کی کارکردگی کا ایک اہم پیمانہ یہ ہونا چاہیے کہ وہ اپنے متعلقہ شعبوں میں لوگوں کے لیے کتنے حقیقی مواقع پیدا کرتے ہیں۔
یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ جموں و کشمیر کو تاحال ریاستی درجہ واپس نہیں ملا ہے اور اس وجہ سے منتخب حکومت کو بعض معاملات میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ عمر عبداللہ اس مسئلے کو مسلسل اٹھاتے رہے ہیں، لیکن ریاستی درجے کی بحالی میں تاخیر کے باوجود حکومت اپنی ذمہ داریوں سے بری الذمہ نہیں ہو سکتی۔ ریاستی درجے کی بحالی ایک اہم سیاسی اور آئینی مطالبہ ہے، تاہم اسے ہر انتظامی کمی یا ناکامی کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔ متعدد ایسے شعبے ہیں جن میں موجودہ اختیارات کے اندر رہتے ہوئے بہتر منصوبہ بندی، مؤثر نگرانی اور بروقت فیصلوں کے ذریعے نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے۔ حکومت کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ دستیاب اختیارات کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے عوامی مسائل حل کرنے کے لیے سنجیدہ ہے۔
ابھی عمر عبداللہ حکومت کے پاس اپنی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے تین سال کا وقت موجود ہے۔ یہ مدت کم نہیں، لیکن اسے ضائع کرنے کی گنجائش بھی نہیں۔ کابینہ میں توسیع کے ساتھ حکومت کو ایک واضح ترجیحی منصوبہ سامنے لانا چاہیے۔ ہر محکمے کے لیے اہداف مقرر کیے جائیں، ان کی تکمیل کی مدت طے ہو اور وزیر اس بات کے پابند ہوں کہ وہ عوام کو اپنی کارکردگی کے بارے میں جواب دیں۔ حکومت کو اپنے وعدوں کی تکمیل کا باقاعدہ جائزہ بھی لینا چاہیے تاکہ عوام کو معلوم ہو سکے کہ کون سے وعدے پورے ہوئے، کون سے ابھی باقی ہیں اور تاخیر کی وجوہات کیا ہیں۔
حکومت کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر عوامی مفاد کے معاملات پر توجہ دے۔ کانگریس نے ریاستی درجے کی بحالی تک حکومت میں شامل نہ ہونے کا موقف اختیار کیا ہے، لیکن سیاسی جماعتوں کے اختلافات کا نقصان عوام کو نہیں اٹھانا چاہیے۔ حکومت اور اس کی حمایت کرنے والی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ بنیادی مسائل کے حل کو سیاسی مفادات پر ترجیح دیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ کابینہ میں رد و بدل کو رسمی کارروائی کے بجائے ایک نئے عزم کا آغاز بنایا جائے۔ نئے وزیروں کو ذمہ داریوں کا احساس ہو اور موجودہ وزیروں کو یہ پیغام ملے کہ ان کی کارکردگی ہی ان کے عہدے کا جواز ہے۔ وزیر اعلیٰ کو بھی اپنی حکومت کے پہلے دو برسوں کا غیر جانب دارانہ جائزہ لے کر خامیوں کو دور کرنے کے لیے عملی اقدامات کرنے چاہئیں۔
اقتدار کی مدت دیکھتے ہی دیکھتے گزر جاتی ہے۔ اگر دو سال گزرنے کے بعد بھی حکومت اپنی تمام تر توجہ اختیارات کی کمی اور حالات کی دشواریوں کا ذکر کرنے پر مرکوز رکھے گی تو باقی تین سال بھی اسی طرح گزر سکتے ہیں۔ عوام نے حکومت کو اپنے مسائل حل کرنے کے لیے منتخب کیا ہے، نہ کہ وعدوں کی مسلسل یاد دہانی سننے کے لیے۔ اگر کابینہ میں توسیع اور رد و بدل کے بعد بھی لوگوں کو روزگار، بہتر سہولیات اور انتظامی جواب دہی کے معاملے میں کوئی فرق محسوس نہیں ہوتا تو یہ تبدیلی محض علامتی ثابت ہوگی۔ دس بار بھی کابینہ میں رد و بدل کر لیا جائے، اس کی افادیت اسی وقت ہوگی جب حکومت کی کارکردگی میں واضح بہتری آئے۔ عمر عبداللہ حکومت کے لیے اصل امتحان نئے وزیروں کا انتخاب نہیں، بلکہ ان وعدوں کی تکمیل ہے جن سے عوام نے امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں۔



