دہلی کا جو حال بے حال ہم آج دیکھ رہے ہیں، اس سے ہمیں کچھ یاد آ رہا ہے ……کیا یاد آ رہا ہے؟ بس کم بخت، وہ یاد نہیں آ رہا ہے۔ انٹرنیٹ بند، میٹرو کی خدمات بند، کالج، اسکول اور دفاتر بند، اور ہاں، سینکڑوں افراد بھی بند …… سلاخوں کے پیچھے بند …… بس یہ یاد نہیں آ رہا ہے کہ دہلی کا بے حال جیسا حال ہم نے کہاں دیکھا۔خیر، عمر کے جس پڑاؤ پر ہم ہیں، وہاں سب کچھ کہاں یاد رہتا ہے! کچھ کچھ آدمی بھول ہی جاتا ہے، اور یہ بھی سچ ہے کہ کچھ کچھ بھولنا اچھا ہوتا ہے …… صحت کے لیے اچھا ہوتا ہے، ورنہ اس دماغ میں ایسا الجھاؤ آتا ہے جس سے الجھنیں الجھتی ہیں، سلجھتی نہیں …… بالکل بھی نہیں۔جیسے یہ الجھن کہ اپنے راہل بابا کہتے ہیں …… اجی، آج کل یہ کہتے کہاں ہیں، یہ تو فرماتے ہیں …… جیسے انہوں نے آج اور ابھی یہ فرمایا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر‘ گیانیش بابو کو جانا پڑے گا …… انہیں اپنے گھر کی راہ پکڑنی ہوگی اور …… اور پھر کمالِ جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے راہل بابا نے یہ بھی فرمایا کہ مودی جی اور امیت بھائی شاہ کو بھی جانا ہوگا۔واقعی، یہ بات کہنے کے لیے جرأت ہونی چاہیے، اور راہل بابا میں یہ جرأت ہے …… اس لیے جرأت نہیں کہ یہ مودی جی اور امیت بھائی شاہ سے ڈرتے نہیں ہیں، بلکہ اس لیے کہ ابھی کل ہی کی بات ہے …… جی ہاں، بالکل کل، جمعہ کی بات ہے، جب ملک کی کچھ ریاستوں میں ضمنی انتخابات ہوئے اور ان میں مودی جی اور امیت بھائی شاہ کی جماعت، بی جے پی، کی جیت ہوئی۔اور اس جیت کے ٹھیک ایک دن بعد اگر راہل بابا کہیں کہ گیانیش بابو کے ساتھ ساتھ مودی جی اور امیت بھائی شاہ کو بھی جانا ہوگا تو اللہ میاں کی قسم، ان سے بڑا جرأت مند سیاست دان اور کوئی نہیں ہو سکتا …… بالکل بھی نہیں ہو سکتا۔ہم میں تو راہل بابا جیسی جرأت نہیں ہے، بالکل بھی نہیں ہے، لیکن پھر بھی ہم انہی کو اپنا رول ماڈل مانتے ہوئے، ان سے حوصلہ پاتے ہوئے، ان سے ایک سوال …… بالکل چھوٹا سا سوال پوچھیں گے …… بس اتنا سا سوال کہ۔۔۔ کہ کیسے؟کیسے مودی جی اور امیت بھائی شاہ اپنے گھر کی راہ پکڑ لیں گے۔۔۔ کیسے؟ ہے نا؟
۔۔۔۔۔۔۔۔



