قاہرہ؍۱۰ ؍اکتوبر
سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے ہوائی اڈے کو ہفتہ کے روز ایک بار پھر نشانہ بنایا گیا۔ دو علاقائی حکام نے یہ اطلاع دی۔ یہ واقعہ دو روز بعد پیش آیا ہے جب ہوائی اڈے پر ایک پائلٹ سمیت تین سعودی شہری ہلاک ہوگئے تھے۔
ایک عہدیدار کے مطابق، ریاض کے ہوائی اڈے کو خالی کرا لیا گیا، جبکہ دوسرے عہدیدار نے بتایا کہ فضائی آمد و رفت روک دی گئی ہے۔ دونوں نے ذرائع ابلاغ سے بات کرنے کی مجاز اجازت نہ ہونے کے باعث اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر یہ معلومات فراہم کیں۔
کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو گزشتہ ایک ہفتے کے دوران حملوں کے ایک غیر معمولی سلسلے میں بار بار نشانہ بنایا گیا ہے۔ یہ حملے اس وقت شروع ہوئے جب سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے پڑوسی ملک یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی شروع کی۔
حوثی باغیوں نے اس سے قبل ہونے والے حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ ان میں بدھ کو کیا گیا حملہ بھی شامل ہے، جس میں سوڈان کا ایک شہری ہلاک اور آٹھ دیگر افراد زخمی ہوئے تھے۔
ہفتہ کو ہونے والے تازہ حملے کے حوالے سے حوثیوں کی جانب سے فوری طور پر کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔
ریاض کے ایک رہائشی احمد سید نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ انہوں نے کم از کم دو زوردار دھماکوں کی آوازیں سنیں، جن سے دارالحکومت لرز اٹھا۔
ہوائی اڈے کی انتظامیہ نے مسافروں کے لیے مختصر ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہوائی اڈے کی طرف روانہ ہونے سے پہلے اپنی پرواز کی صورتِ حال متعلقہ فضائی کمپنی سے معلوم کرلیں۔
دریں اثنا، یمن میں حوثی باغیوں اور سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومتی فورسز کے درمیان لڑائی میں شدت آگئی ہے۔ سعودی قیادت میں قائم اتحاد حکومتی فورسز کو فضائی مدد فراہم کر رہا ہے تاکہ بحیرۂ احمر کے ساحلی علاقوں میں حوثیوں کی حالیہ پیش قدمی کو روکا جا سکے۔
۔۔۔۔۔۔ایجنسیاں









