اتوار, اکتوبر 18, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اداریہ

سینئر بیوکریٹ کی ایک خاتون افسر کی تذلیل             

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-10-18
in اداریہ
A A
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

    جموں و کشمیر میں ایک سینئر آئی اے ایس افسر کے ہاتھوں ایک خاتون جے کے اے ایس افسر کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کا معاملہ دو سرکاری افسران کے درمیان اختلاف یا کسی اجلاس میں تلخ کلامی کا واقعہ نہیں، بلکہ اس نے انتظامی نظام کے مزاج، افسر شاہی کے رویوں اور سرکاری ملازمین کے درمیان باہمی احترام سے متعلق کئی بنیادی سوالات کھڑے کردیے ہیں۔ اگر کوئی اعلیٰ عہدے پر فائز افسر اپنے ساتھی یا ماتحت کے ساتھ توہین آمیز زبان استعمال کرتا ہے، اسے اپنا موقف پیش کرنے کا مناسب موقع نہیں دیتا اور مبینہ طور پر معطلی کا حکم تیار کرنے کی ہدایت دیتا ہے تو اس معاملے کو معمول کی دفتری کارروائی سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ سرکاری عہدہ ذمہ داری کی علامت ہے، کسی دوسرے انسان کی عزت نفس مجروح کرنے کا اختیار نہیں۔

                سینئر آئی اے ایس افسر کمار راجیو رنجن اور گاندربل میں تعینات اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایمپلائمنٹ بینش وانی کے درمیان پیش آنے والے مبینہ واقعے کے بعد جموں و کشمیر حکومت نے تحقیقات کا حکم دیا ہے۔تاہم، اس مرحلے پر یہ بات ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ الزامات کی حقیقت کا تعین تحقیقات کے بعد ہی ہوسکتا ہے۔ محض عوامی غصے یا سیاسی مطالبات کی بنیاد پر کسی افسر کو قصوروار قرار دینا انصاف کے تقاضوں کے منافی ہوگا، لیکن اسی طرح کسی اعلیٰ افسر کے عہدے اور اثر و رسوخ کی وجہ سے الزامات کو معمولی سمجھ لینا بھی ناقابل قبول ہے۔ انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ نہ کسی کو غیر ضروری تحفظ حاصل ہو اور نہ کسی کے خلاف پیشگی فیصلہ صادر کیا جائے۔

                اس واقعے کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ حکومت نے اس کے فوراً بعد ایک سرکلر جاری کرکے تمام سرکاری افسران اور ملازمین کو شائستگی، تحمل اور باہمی احترام کا مظاہرہ کرنے کی ہدایت دی ہے۔ جموں کشمیر گورنمنٹ ایمپلائز کنڈکٹ رولز۱۹۷۱ کے تحت سرکاری ملازمین سے دیانت داری، نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ طرز عمل کی توقع کی جاتی ہے۔ سرکلر میں توہین آمیز، دھمکی آمیز اور نامناسب زبان سے گریز کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔

متعلقہ

جمہوریت کا تحفظ، احتجاج اور عدلیہ کا کردار

کابینہ میں رد و بدل یا کارکردگی کا امتحان؟

                یہ ہدایات اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا محض سرکلر جاری کرنے سے سرکاری دفاتر میں احترام اور شائستگی کو یقینی بنایا جاسکتا ہے؟ اگر ملازمین کو بار بار ان کے طرز عمل کی یاد دہانی کرانی پڑتی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ مسئلہ صرف قواعد کی عدم موجودگی کا نہیں، بلکہ ان پر عمل درآمد اور ادارہ جاتی جواب دہی کا بھی ہے۔ ضابطوں کی اصل اہمیت اس وقت سامنے آتی ہے جب ان کا اطلاق بلاامتیاز ہو۔

                سرکاری دفاتر میں عہدوں کی درجہ بندی انتظامی ضرورت ہے، مگر اسے انسانی وقار کی درجہ بندی میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔ ایک سینئر افسر کے پاس اختیارات اور ذمہ داریاں زیادہ ہوسکتی ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ جونیئر ملازمین کی عزت نفس کو نظرانداز کرے۔ اختلاف رائے، غلطی کی نشاندہی اور کارکردگی پر سوال اٹھانا کسی بھی مہذب انتظامی نظام کا حصہ ہیں، تاہم ان کے لیے مقررہ طریقہ کار اور پیشہ ورانہ آداب کی پابندی ضروری ہے۔

                اگر کسی ملازم کی کارکردگی غیر تسلی بخش ہو یا اس سے کوئی انتظامی غلطی سرزد ہوئی ہو تو اس کے خلاف کارروائی کے لیے قواعد موجود ہیں۔ وضاحت طلب کرنا، ریکارڈ کی جانچ کرنا اور ضرورت پڑنے پر تادیبی کارروائی کرنا انتظامیہ کا اختیار ہے۔ لیکن کسی ملازم کو ذلیل کرنا، دھمکانا یا صفائی پیش کرنے کا مناسب موقع دیے بغیر سزا دینے کی کوشش کرنا منصفانہ انتظامی اصولوں کے منافی ہے۔ اصل سوال یہی ہے کہ قانونی اختیار کا استعمال کہاں ختم ہوتا ہے اور اس کے مبینہ غلط استعمال کا آغاز کہاں سے ہوتا ہے۔

                واقعہ پرسیاسی جماعتوں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے لیکن اس معاملے کو محض سیاسی اختلاف یا جموں و کشمیر کی انتظامی حیثیت سے متعلق بحث تک محدود کرنا مناسب نہیں ہوگا۔ پانچ اگست۲۰۱۹کے بعد اختیارات کی تقسیم، منتخب حکومت اور لیفٹیننٹ گورنر کے درمیان تعلقات اور مقامی انتظامیہ کی خودمختاری جیسے سوالات مسلسل زیر بحث رہے ہیں۔ تاہم خاتون افسر کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کی تحقیقات ان سیاسی مباحث سے الگ ہوکر بھی ہونی چاہیے۔ کسی غلط رویے کے خلاف کارروائی کا اصول یکساں ہونا چاہیے، خواہ متعلقہ افسر کسی بھی سروس سے تعلق رکھتا ہو یا کسی بھی عہدے پر فائز ہو۔

                وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی حکومت کے لیے بھی یہ ایک اہم امتحان ہے۔ انکوائری کا حکم دینا ابتدائی قدم ضرور ہے، لیکن حکومت کی ذمہ داری تحقیقات کے اعلان تک محدود نہیں رہ سکتی۔ شفاف تحقیقات، متعلقہ فریقین کو اپنا موقف پیش کرنے کا موقع، شواہد کی غیر جانب دارانہ جانچ اور مقررہ مدت میں رپورٹ پیش کرنا ضروری ہے۔ اگر الزامات ثابت ہوتے ہیں تو قواعد کے مطابق مناسب کارروائی ہونی چاہیے، اور اگر ثابت نہیں ہوتے تو اس حقیقت کو بھی واضح طور پر سامنے لایا جائے۔ کسی بھی صورت میں نتیجہ پہلے سے طے شدہ نہیں ہونا چاہیے۔

                اس معاملے کا ایک اہم پہلو خاتون افسر کا تحفظ بھی ہے۔ کسی شکایت کی تحقیقات کے دوران اس بات کو یقینی بنانا ضروری ہے کہ شکایت کنندہ کو دباؤ، دھمکی یا انتقامی کارروائی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اگر ملازمین کو یہ خوف ہو کہ شکایت کرنے سے ان کی ملازمت، ترقی یا پیشہ ورانہ مستقبل خطرے میں پڑ سکتا ہے تو اداروں میں جواب دہی کا تصور کمزور ہوجائے گا۔ اسی لیے شکایات کے ازالے کا ایسا مؤثر نظام ہونا چاہیے جس میں سماعت، کارروائی اور فیصلے پر نظرثانی کے واضح طریقے موجود ہوں۔

                جموں و کشمیر پہلے ہی بے روزگاری، انتظامی تاخیر، عوامی شکایات اور سرکاری اداروں پر اعتماد کی کمی جیسے مسائل سے دوچار ہے۔ ایسے حالات میں سرکاری افسران کا طرز عمل غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ عام شہری جب کسی دفتر میں اپنے مسئلے کے حل کے لیے جاتا ہے تو وہ صرف قواعد و ضوابط نہیں دیکھتا، بلکہ یہ بھی محسوس کرتا ہے کہ اس کے ساتھ کس طرح پیش آیا جارہا ہے۔ اگر سرکاری ملازمین کے درمیان ہی احترام اور تحمل کا فقدان ہو تو عوام سے بہتر رویے کی توقع کیسے کی جاسکتی ہے؟

                اس واقعے کو محض ایک افسر کے خلاف کارروائی یا دو انتظامی خدمات کے درمیان تنازعے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ یہ موقع ہے کہ انتظامی نظام میں جواب دہی، شفافیت اور پیشہ ورانہ اخلاقیات کو مضبوط بنانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔ اعلیٰ عہدوں پر فائز افسران کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ ان کی ذمہ داریاں جتنی بڑی ہیں، ان کے طرز عمل کا معیار بھی اتنا ہی بلند ہونا چاہیے۔

                 کسی حکومت کی ساکھ اس بات سے طے نہیں ہوتی کہ وہ کتنے سرکلر جاری کرتی ہے، بلکہ اس سے ہوتی ہے کہ ان پر عمل درآمد کس حد تک یقینی بنایا جاتا ہے۔ اگر تحقیقات منصفانہ ہوں اور ثابت شدہ خلاف ورزیوں پر بلاامتیاز کارروائی کی جائے تو یہ پورے نظام کے لیے مثبت مثال بن سکتی ہے۔ لیکن اگر معاملہ بیانات اور احتجاج کے شور میں دب گیا تو سرکاری ملازمین اور عوام، دونوں کا اعتماد متاثر ہوگا۔جموں و کشمیر کی انتظامیہ کو ثابت کرنا ہوگا کہ یہاں قانون اور انسانی وقار کی اہمیت عہدے اور اثر و رسوخ سے زیادہ ہے۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

ایئر انڈیا نے سعودی عرب کے لیے 20 اکتوبر تک کی پروازیں منسوخ کیں

Next Post

برشٹاچار اورجموںکشمیر

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

جمہوریت کا تحفظ، احتجاج اور عدلیہ کا کردار

2026-10-14
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

کابینہ میں رد و بدل یا کارکردگی کا امتحان؟

2026-10-11
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

این او سی کیلئے ۲۱ دن کی مدت: بدعنوانی کے خاتمے کی جانب ایک اہم قدم          

2026-10-10
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

کشمیر کی جنگلی حیات کی واپسی

2026-10-08
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

سڑکوں کی کھدائی کا مستقل حل؟

2026-10-07
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

حقوق کی بحالی کے لیے اتحاد ناگزیر ہے

2026-10-06
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

جموں و کشمیر کمپریسڈ بایو گیس پالیسی : کچرے سے توانائی، صفائی اور روزگار کی نئی راہ؟

2026-10-04
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

حرمین شریفین کی حفاظت پوری امت کی مشترکہ ذمہ داری

2026-10-03
Next Post
کانگریسی قیادت ‘ بھاجپا کیلئے اثاثہ

برشٹاچار اورجموںکشمیر

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.