اپنے آزاد صاحب…….غلام نبی آزاد صاحب جانتے ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ سیاست میں کیا غلط ہے اور کیا صحیح۔ انہیں سب معلوم ہے اور اس لئے معلوم ہے کیونکہ ان کے بال دھوپ میں نہیں، بلکہ سیاست کرتے کرتے نکلے ہیں……. معاف کیجئے، کہنے کا مطلب ہے کہ سفید ہوئے ہیں……. دھوپ میں نہیں ہوئے ہیں سفید!اس لئے جب انہوں نے اپنے قائدِ ثانی، اعلیٰ حضرت جناب ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے پاکستان سے متعلق بیان کو غلط قرار دیا تو انہیں معلوم تھا کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں اور یہ بھی کہ……. کہ اپنے فاروق صاحب کیا کہہ گئے ہیں۔آزاد صاحب کو کچھ بھی سکھانے یا سمجھانے کی ضرورت نہیں ہے، بالکل بھی نہیں ہے……. کیونکہ یہ ہماری طرح ناسمجھ نہیں ہیں کہ ان کی سمجھ میں یہ بات نہ آئے کہ ڈاکٹر صاحب نے ایسا بیان کیوں دیا۔ یہ جانتے ہیں کہ فاروق صاحب نے ایسا بیان اس لئے دیا کہ……. کہ جب کبھی این سی کو لگتا ہے، اس کی قیادت کو محسوس ہوتا ہے کہ اس کا سیاسی گراف تھوڑا نیچے جا رہا ہے تو ایسا ویسا ایک عدد بیان دے ہی دیتی ہے……. شیخ صاحب بھی ایسا ہی کرتے تھے اور ان کے فرزندِ ارجمند بھی انہی کے بیٹے ٹھہریں‘ سو یہ بھی کبھی کبھی ایسی باتیں کرتے ہیں۔ورنہ ہم حلفاً بیان کرتے ہیں کہ کشمیر میں اگر کوئی سیاست دان اپنے دیش کا حقیقی معنوں میں دیش بھگت ہے تو وہ قائدِ ثانی ہیں، ان کے والد صاحب تھے اور ان کے والد صاحب کے پوتے صاحب ہیں……. ان جیسا دیش بھگت کوئی نہیں ہے، کوئی کشمیری ہو ہی نہیں سکتا ہے۔رہی پاکستان والی بات تو یہ بات دہلی والے بھی جانتے ہیں کہ سیاست میں کبھی کبھی ایسی ویسی بات نکل ہی جاتی ہے، منہ سے نکل ہی جاتی ہے اور……. اور فاروق صاحب کے منہ سے بھی نکل گئی، لیکن دانستہ طور پر نکل گئی!یہ بات آزاد صاحب بھی جانتے ہیں اور سو فیصد جانتے ہیں……. ہاں، انہیں ڈاکٹر صاحب کی یہ بات ’غلط‘ لگی اور اس لئے لگی ہوگی کہ یہ جناب کشمیر……. جموں و کشمیر کے وہ واحد سیاست دان ہیں جو سیاست میں پاکستان کا سہارا نہیں لیتے ہیں……. ان کے علاوہ اس حمام میں کشمیر کے سبھی سیاست دان……. فاروق صاحب کیا اور کوئی صاحب کیا، سبھی کے سبھی برہنہ ہیں اور سو فیصد ہیں۔لیکن آزاد صاحب نہیں ‘ وہ اس سب سے آزاد ہیں ۔ہے نا؟
۔۔۔۔۔۔۔



