نہیں صاحب، کچھ تو گڑبڑ ہے، یا پھر اگر گڑبڑ نہیں ہے تو کنفیوژن ضرور ہے……. رہا سوال کہ یہ کنفیوژن کس کو ہے، تو اللہ میاں کی قسم، اس پر بھی کنفیوژن ہے……. یہ کنفیوژن کہ آیا یہ کنفیوژن ہمیں ہے یا پھر درخشاں اندرابی صاحبہ کو ہے۔کنفیوژن وقف بورڈ کو لے کر ہے۔ وہ کیا ہے کہ محترمہ کا کہنا ہے کہ وقف بورڈ ایک مذہبی ادارہ ہے اور اللہ میاں کی قسم، ان کی یہی بات، یہی دعویٰ سارے فساد کی جڑ ہے۔ اور اس لیے ہے کہ کیا واقعی وقف بورڈ مذہبی ادارہ ہے؟ محترمہ کیسے اس فیصلے پر پہنچ گئیں کہ وہ جو ادارہ چلا رہی ہیں، جس کی یہ میڈم بنی بیٹھی ہیں، وہ ایک مذہبی ادارہ ہے؟……. یہی کنفیوژن ہے۔ہمیں لگتا ہے کہ وقف بورڈ ایک مذہبی ادارہ نہیں ہے، بلکہ مذہبی اداروں کو چلانے یا ان کی دیکھ ریکھ کرنے والا ایک ادارہ ہے، اور کچھ نہیں، بالکل بھی نہیں۔ اس ادارے میں آج تک ہمیں ایسا ویسا کچھ بھی نظر نہیں آیا، اور اللہ میاں کی قسم، بالکل بھی نظر نہیں آیا، جو ہمیں مذہبی لگے……. ہمیں یہ ادارہ سب کچھ لگتا ہے اور یہ ادارہ سب کچھ ہے، لیکن مذہبی نہیں ہے……. بالکل بھی نہیں ہے۔بس یہی کنفیوژن ہے کہ محترمہ پھر کیوں کہہ رہی ہیں کہ وقف بورڈ ایک مذہبی ادارہ ہے؟نہیں محترمہ، ایسا نہیں ہے، ایسا نہیں ہو سکتا ہے……. اور اگر مان بھی لیا جائے کہ وقف بورڈ ایک مذہبی ادارہ ہے، تو صاحب، اس کا یہ مطلب نہیں ہے، اور بالکل بھی نہیں ہے، کہ یہ کچھ بھی کہے…….کچھ بھی کرے۔ نہیں صاحب، ایسا ہو نہیں سکتا ہے، ایسا ہوتا نہیں ہے۔اور…….اور صاحب، یہ بھی تو سچ ہے کہ اگر یہ ادارہ واقعی مذہبی ہوتا، تو پھر کیا اس کی ہیئتِ ترکیبی ویسی ہی نہیں ہوتی؟……. مذہبی نہیں ہوتی؟……. یقیناً ایسی ہی ہوتی، مذہبی ہی ہوتی، لیکن صاحب، ایسا نہیں ہے……. بالکل بھی نہیں ہے۔ہم نے وقف بورڈ کو جب بھی دیکھا تو……. تو ہمیں صرف یہ نظر آیا……. کچھ اور نظر نہیں آیا ہے کہ محترمہ آگے آگے چل رہی ہیں اور ان کے پیچھے کچھ باریش حضرات، جو ان کی ہاں میں ہاں اور ناں میں ناں ملاتے ہیں‘ چلتے ہیں……. اگر وقف بورڈ ایک مذہبی ادارہ ہے، تو جو ہم دیکھتے ہیں یا جو ہمیں دکھائی دیتا ہے، صاحب، وہ تو مذہبی نہیں ہے……. بالکل بھی نہیں ہے۔بس یہی ایک کنفیوژن ہے۔ ہے نا؟
۔۔۔۔۔۔



