کشمیر ایک ایسا معاشرہ ہے جہاں مذہب، تہذیب، روایات اور سماجی اقدار کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ یہاں مذہبی معاملات نہ صرف لوگوں کے عقیدے سے وابستہ ہیں بلکہ ان کا تعلق معاشرتی زندگی، اجتماعی شناخت اور عوامی جذبات سے بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مذہبی امور سے متعلق کسی بھی تجویز یا بیان پر عوامی ردعمل فطری طور پر سامنے آتا ہے۔ ایسے حساس ماحول میں ذمہ دار عہدوں پر فائز افراد اور اداروں سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنے طرزِ عمل اور بیانات میں غیر معمولی احتیاط برتیں، تاکہ ایسے تنازعات جن سے بآسانی بچا جا سکتا ہے، جنم نہ لیں۔ جموں و کشمیر وقف بورڈ کے اجلاس میں مساجد کے جمعہ کے خطبات کو یکساں بنانے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دینے سے متعلق سامنے آنے والی تجویز اور اس پر پیدا ہونے والا تنازعہ بھی اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔
وقف بورڈ کی چیئرپرسن ڈاکٹر سید درخشاں اندرابی نے وضاحت کی ہے کہ جمعہ کے خطبات کے سلسلے میں کوئی باضابطہ حکم جاری نہیں کیا گیا اور اس معاملے پر ائمہ اور مذہبی علما کے درمیان محض تبادلہ خیال ہوا تھا۔ اگر واقعی ایسا کوئی حکم جاری نہیں ہوا تو اس وضاحت کو اہمیت دی جانی چاہیے۔ تاہم، اس پورے معاملے سے یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ آخر ایسی تجویز پر گفتگو کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی جس سے مذہبی معاملات میں مداخلت کا تاثر پیدا ہونے کا اندیشہ تھا۔ جب کسی ادارے کا تعلق مذہبی امور سے ہو تو اس کے ہر اقدام کو اسی حساسیت کے ساتھ دیکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ محض وضاحتیں جاری کرنے کے بجائے بہتر یہی ہے کہ ایسے اقدامات اور بیانات سے ابتدا ہی میں گریز کیا جائے جو غیر ضروری تنازعات کا سبب بن سکتے ہیں۔
یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ کشمیر کے معاشرے کو اس وقت متعدد سنگین سماجی مسائل کا سامنا ہے۔ منشیات کا بڑھتا ہوا استعمال، نوجوانوں میں بے راہ روی، خاندانی نظام پر بڑھتے ہوئے دباؤ، شادیوں میں غیر معمولی تاخیر، فضول رسم و رواج اور اخلاقی اقدار سے دوری جیسے مسائل معاشرے کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔ ان مسائل کے اثرات صرف کسی ایک خاندان یا طبقے تک محدود نہیں رہتے بلکہ پوری سماجی زندگی کو متاثر کرتے ہیں۔ ایسے حالات میں مساجد اور مذہبی اداروں کا کردار یقیناً اہم ہے۔ جمعہ کے خطبات لوگوں کو ان کی سماجی ذمہ داریوں کا احساس دلانے، نوجوانوں کی رہنمائی کرنے، منشیات کے مضر اثرات سے آگاہ کرنے اور خاندانی و اخلاقی اقدار کے تحفظ کی ترغیب دینے کا ایک مؤثر ذریعہ بن سکتے ہیں۔
تاہم، یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کشمیر کے ائمہ حضرات اور مذہبی علما ان مسائل سے لاتعلق نہیں ہیں۔ وہ اپنے خطبات اور وعظ و نصیحت کے ذریعے مختلف سماجی برائیوں کے خلاف آواز اٹھاتے رہے ہیں۔ منشیات کے خلاف شعور پیدا کرنے سے لے کر نکاح کو آسان بنانے، غیر ضروری اخراجات سے بچنے، والدین کے احترام، نوجوانوں کی اخلاقی تربیت اور معاشرتی ذمہ داریوں کی ادائیگی تک، مختلف موضوعات پر مساجد کے منبر سے رہنمائی فراہم کی جاتی رہی ہے۔ اس لیے یہ تصور درست نہیں ہوگا کہ ان مسائل پر بات کرنے کے لیے ائمہ کو کسی بیرونی ہدایت یا سرکاری نگرانی کی ضرورت ہے۔ وہ اپنے دینی علم، مقامی حالات اور معاشرتی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے ان موضوعات کا انتخاب کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ہر مسجد کا اپنا ماحول، اپنے سامعین اور اپنے علاقے کے مخصوص مسائل ہوتے ہیں۔ کسی علاقے میں منشیات کا مسئلہ زیادہ سنگین ہو سکتا ہے، تو کہیں نوجوانوں میں بے روزگاری، خاندانی تنازعات یا شادیوں میں تاخیر اہم سماجی مسائل کی صورت اختیار کر چکی ہوتی ہے۔ ایسے میں کسی ایک طرز کا خطبہ تمام مساجد کے لیے موزوں قرار دینا مشکل ہے۔ مذہبی خطبات کی افادیت اسی وقت برقرار رہ سکتی ہے جب ان میں دینی تعلیمات کے ساتھ مقامی حالات اور لوگوں کی حقیقی مشکلات کو بھی مناسب جگہ دی جائے۔ اس مقصد کے لیے ائمہ کے درمیان مشاورت، تجربات کا تبادلہ اور سماجی مسائل پر مشترکہ غور و فکر یقیناً مفید ہو سکتا ہے، لیکن یہ عمل رضاکارانہ اور باہمی اعتماد کی بنیاد پر ہونا چاہیے، نہ کہ کسی ایسی ہدایت کے تحت جسے مذہبی معاملات میں مداخلت سمجھا جائے۔
وقف بورڈ کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ اپنے دائرۂ اختیار اور مذہبی رہنمائی کے معاملات کے درمیان فرق کو پوری وضاحت کے ساتھ ملحوظ رکھے۔ وقف املاک کا انتظام، ان کی حفاظت، آمدنی اور اخراجات میں شفافیت، مساجد اور دیگر وقف اداروں کی ضروریات کی تکمیل اور متعلقہ انتظامی معاملات اس کی اہم ذمہ داریوں میں شامل ہیں۔ ان امور پر توجہ دینا اور انہیں بہتر بنانا بورڈ کی ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے۔ اگر بورڈ سماجی مسائل کے حل میں تعاون کرنا چاہتا ہے تو وہ ائمہ اور علما کے ساتھ مشاورت کر سکتا ہے، آگاہی مہمات کی حوصلہ افزائی کر سکتا ہے اور ایسے پروگراموں کی سرپرستی کر سکتا ہے جن سے معاشرے کو فائدہ پہنچے۔ لیکن اس تعاون کو اس انداز میں پیش کرنا ضروری ہے کہ کسی کو مذہبی آزادی محدود ہونے یا خطبات پر انتظامی اختیار قائم کرنے کا شبہ نہ ہو۔
اس معاملے پر وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ، سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی اور متحدہ مجلس علما کی جانب سے سامنے آنے والے ردعمل سے بھی یہ اندازہ ہوتا ہے کہ مذہبی امور میں مداخلت کا تاثر کس قدر حساس معاملہ بن سکتا ہے۔ ان رہنماؤں اور مذہبی تنظیموں نے مجوزہ اقدام پر اپنے تحفظات ظاہر کیے ہیں۔ اگرچہ اس تجویز کے حوالے سے وقف بورڈ کی چیئرپرسن نے بعد میں وضاحت جاری کی، لیکن اس واقعے نے ایک مرتبہ پھر یہ واضح کیا کہ مذہبی معاملات سے متعلق گفتگو میں الفاظ کے انتخاب اور طریقۂ کار کی کتنی اہمیت ہے۔ اس معاملے کو سیاسی کشمکش کا ذریعہ بنانے کے بجائے بہتر ہوگا کہ تمام متعلقہ فریق اس بات کو یقینی بنائیں کہ مذہبی اداروں کے بارے میں عوامی اعتماد متاثر نہ ہو۔
کشمیر کے معاشرے کو اس وقت منشیات کے خلاف مؤثر جدوجہد، نوجوانوں کی بہتر رہنمائی، شادیوں کو آسان بنانے، خاندانی رشتوں کو مضبوط کرنے اور اخلاقی و سماجی اقدار کے تحفظ کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے۔ ان مقاصد کے حصول میں مذہبی علما، سماجی تنظیموں، تعلیمی اداروں، والدین اور انتظامیہ سب اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر فریق اپنے دائرۂ کار میں رہتے ہوئے دوسرے کے کردار کا احترام کرے۔ ائمہ کو سماجی مسائل پر بات کرنے کے لیے کسی ہدایت کا پابند بنانے کے بجائے ان کی آواز کو تقویت دی جائے اور ان کے تجربے سے فائدہ اٹھایا جائے۔
وقف بورڈ کی حالیہ وضاحت کے بعد اب اس معاملے کو مزید طول دینے کے بجائے اسے خوش اسلوبی سے ختم کیا جانا چاہیے۔ اصل توجہ اس بات پر مرکوز ہونی چاہیے کہ کشمیر کے سماجی مسائل کا حل کیسے نکالا جائے اور مذہبی اداروں کے ساتھ عوام کے اعتماد کو کس طرح مزید مستحکم بنایا جائے۔ کسی بھی ادارے کی نیک نیتی اسی وقت مؤثر ثابت ہوتی ہے جب اس کے اقدامات سے اعتماد پیدا ہو، شکوک و شبہات نہیں۔









