پتہ ہی نہیں چلا، اور بالکل بھی نہیں چلا کہ ……. کہ یہ دو سال کیسے نکل گئے۔ جیسے دو سال نہیں، بلکہ دو ہفتے ہو گئے ہوں، جب لوگوں ……. کشمیر کے لوگوں نے گورے گورے بانکے چھورے، عمر عبداللہ کی ’ٹوپس‘ کی لاج رکھتے ہوئے انہیں اس کرسی پر بٹھا دیا، جس پر بیٹھنا بھی عمر عبداللہ الیکشن سے کچھ وقت قبل اپنی بے عزتی سمجھتے تھے۔آج دو سال سے عمر عبداللہ اسی کرسی پر بیٹھے ہیں ……. اب بھی اس پر بیٹھنا عمر عبداللہ اپنی بے عزتی سمجھتے ہیں یا نہیں، ہم نہیں جانتے ……. اگر ہم کچھ جانتے ہیں تو صرف ایک بات جانتے ہیں کہ اس کرسی پر براجمان ہوئے انہیں دو سال ہو گئے۔اور یہ دو سال ان کے یہ کہتے ہوئے گزر گئے کہ ہم یہاں ہفتوں اور مہینوں کا نہیں، بلکہ پانچ برسوں کا حساب دیں گے۔ اور یہ صحیح بھی ہے ……. لیکن اس سوچ میں اگر کوئی صحیح بات نہیں ہے تو وہ یہ کہ ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے۔ اور اس پارٹی کو شروع ہوئے دو سال ہو گئے، اور آئندہ کے تین سال بھی ایسے ہی گزر جائیں گے ……. پلک جھپکتے ہی گزر جائیں گے، اور اللہ میاں کی قسم، ان صاحب کو خبر بھی نہیں ہو گی ……. کانوں کان خبر نہیں ہو گی۔اور جب ایسا ہو گا، دو جمع تین، پانچ سال مکمل ہوں گے تو ……. تو وزیر اعلیٰ صاحب کریں گے کیا ……. اور لوگوں سے کہیں گے کیا؟ کیا پھر سے ’ٹوپس‘ کی لاج رکھنے کی دہائی دیں گے، فریاد کریں گے یا کچھ اور؟یقیناً ابھی تین سال ہیں، لیکن لکھ لیجیے، ابھی لکھ لیجیے کہ جیسے یہ دو سال بیت گئے، تین سال بھی ایسے ہی گزر جائیں گے اور عمر عبداللہ ہاتھ ملتے رہ جائیں گے ……. بقیہ مدت کے دوران کشمیر میں دودھ کی نہریں بہیں گی اور نہ شہد کی ……. اور اس لیے نہیں بہیں گی، کیوںکہ اگر ایسا ہونا ہوتا تو ……. تو کم از کم ان نہروں کی کھدائی کا کام اب تک ……. پہلے دو برسوں میں مکمل نہ سہی، لیکن ……. لیکن شروع تو ہونا چاہیے تھا۔لیکن نہیں ہوا، اور بالکل بھی نہیں ہوا۔اور یہ بات عمر عبداللہ جانتے ہیں ……. مانتے ہیں یا نہیں، ہمیں نہیں معلوم، لیکن وہ جانتے ہیں، اسی طرح جس طرح آپ جانتے ہیں ……. یہ جانتے ہیں کہ پہلے کے دو سال عمر عبداللہ کی ’یہ نہیں ہے، وہ نہیں ہے‘ کی لن ترانیوں میں ہی گزر گئے، اور سو فیصد گزر گئے۔ہے نا؟
۔۔۔۔۔۔۔۔



