ہفتہ, اکتوبر 17, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اہم ترین

دو سالہ دورِ حکومت: وعدوںاور عوامی توقعات کے درمیان عمر عبداللہ حکومت

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-10-17
in اہم ترین
A A
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

                جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی حکومت کو اقتدار سنبھالے دو سال مکمل ہوگئے ہیں۔۱۶؍اکتوبر۲۰۲۴کو عمر عبداللہ نے وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے حلف لیا تھا تو عوام کو امید تھی کہ ایک دہائی کے وقفے کے بعد قائم ہونے والی منتخب حکومت نہ صرف روزمرہ مسائل کے حل میں پیش رفت کرے گی بلکہ ریاستی درجے کی بحالی، سیاسی حقوق کے تحفظ، بے روزگاری کے خاتمے اور معاشی ترقی کے حوالے سے بھی ٹھوس اقدامات کرے گی۔ اسمبلی انتخابات میں نیشنل کانفرنس کو۴۲ نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی تھی، جبکہ اس کی اتحادی کانگریس نے چھ نشستیں جیتی تھیں۔ یہ کامیابی عوام کی جانب سے ایک واضح سیاسی پیغام تھی، جس میں تبدیلی کی امید بھی شامل تھی اور برسوں سے زیر التوا مسائل کے حل کا مطالبہ بھی۔ تاہم دو سال بعد حکومت کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو ایک ایسی تصویر سامنے آتی ہے جس میں کچھ اقدامات ضرور دکھائی دیتے ہیں، لیکن بڑے انتخابی وعدوں کی تکمیل اب بھی تشنہ ہے۔

                عمر عبداللہ حکومت کے دفاع میں سب سے اہم دلیل یہ پیش کی جاتی ہے کہ جموں و کشمیر اب مکمل ریاست نہیں بلکہ مرکز کے زیر انتظام علاقہ ہے، جہاں منتخب حکومت کے اختیارات محدود ہیں۔ پولیس، امن و قانون،آئی اے ایس افسران کے تبادلے اور انتظامیہ کے متعدد اہم معاملات میں لیفٹیننٹ گورنر کا اختیار فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے۔ اس دوہرے نظامِ حکمرانی کے باعث منتخب حکومت اور لوک نواس کے درمیان اختیارات کی کشمکش کئی مرتبہ سامنے آچکی ہے۔ یہ حقیقت اپنی جگہ اہم ہے کہ ایک ایسی حکومت سے تمام وعدوں کی تکمیل کی توقع نہیں کی جاسکتی جس کے پاس ریاستی حکومت جیسے اختیارات موجود نہ ہوں، لیکن یہ دلیل بھی ہر ناکامی کی مکمل توجیہہ نہیں بن سکتی۔ عوام نے حکومت کو محدود اختیارات کے باوجود اپنی ترجیحات طے کرنے، دستیاب وسائل کے بہتر استعمال اور اپنے سیاسی مطالبات کو مؤثر انداز میں آگے بڑھانے کے لیے منتخب کیا تھا۔

                ریاستی درجے کی بحالی اس حکومت کے سامنے سب سے بڑا سیاسی سوال ہے۔ عمر عبداللہ نے اقتدار سنبھالتے وقت امید ظاہر کی تھی کہ ایک سال کے اندر ریاستی درجہ بحال ہوجائے گا، لیکن دو سال گزرنے کے باوجود یہ وعدہ پورا نہیں ہوسکا۔ وزیر اعلیٰ نے وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کے ساتھ اس معاملے کو اٹھایا ہے، جبکہ اسمبلی میں بھی ریاستی درجے کی بحالی کے حق میں قرارداد منظور کی گئی۔ یہ اقدامات اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن عوام کو اب محض یقین دہانیوں کے بجائے ایک واضح پیش رفت درکار ہے۔ جموں و کشمیر کے لوگوں کے لیے ریاستی درجہ صرف انتظامی حیثیت کا مسئلہ نہیں بلکہ سیاسی اختیار، منتخب نمائندوں کی جواب دہی اور اپنے معاملات پر زیادہ مؤثر کنٹرول سے بھی جڑا ہوا ہے۔ حکومت کو یہ واضح کرنا ہوگا کہ اس مطالبے کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے اس کی آئندہ حکمت عملی کیا ہے۔

متعلقہ

خاتون افسر سے مبینہ بدسلوکی‘تحقیقات کا حکم

جموںکشمیر کی سیاسی جماعتوں کی خاتون افسر سے مبینہ بدسلوکی کی مذمت 

                روزگار کا مسئلہ حکومت کے لیے ایک اور بڑا امتحان ہے۔ انتخابی مہم کے دوران سرکاری خالی اسامیوں کو پُر کرنے اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے وعدے کیے گئے تھے۔ فروری۲۰۲۶ میں اسمبلی کو بتایا گیا کہ مختلف محکموں میں۷۷ ہزار سے زیادہ اسامیاں خالی ہیں، جن میں۴۰ ہزار سے زائد براہِ راست بھرتی کے زمرے میں آتی ہیں۔ حکومت نے بھرتی کے عمل کو آگے بڑھانے اور مشن یووا کے ذریعے کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے کی بات کی ہے، لیکن خالی اسامیوں کی نشاندہی یا کاروباری درخواستوں کی تعداد اپنے آپ میں روزگار پیدا ہونے کا ثبوت نہیں۔ نوجوانوں کو اشتہارات، بھرتی کے امتحانات اور منصوبوں کے اعلانات سے آگے بڑھ کر عملی نتائج درکار ہیں۔ اسی طرح ہزاروں عارضی اور یومیہ اجرت پر کام کرنے والے ملازمین کی مستقلی کا معاملہ بھی برسوں سے زیر التوا ہے۔ ان کارکنوں کے لیے واضح پالیسی اور قابلِ عمل وقت بندی کا اعلان حکومت کی ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے۔

                معاشی مشکلات نے عوام کی پریشانیوں میں مزید اضافہ کیا ہے۔ مفت بجلی، سستی توانائی، غذائی تحفظ اور کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے مالی امداد جیسے وعدے انتخابی منشور کا اہم حصہ تھے۔ حکومت نے انتودیہ انا یوجنا کے مستحق صارفین کیلئے۲۰۰یونٹ مفت بجلی اور چھ مفت رسوئی گیس سلنڈروں کی فراہمی کا اعلان کیا، جبکہ خواتین کے لیے سرکاری بسوں میں مفت سفر جیسی سہولت بھی فراہم کی گئی۔ یہ اقدامات مستحق طبقوں کو کچھ راحت پہنچا سکتے ہیں، لیکن بجلی کے معاملے میں تمام گھرانوں سے کیے گئے وعدے اور محدود زمرے کے صارفین کے لیے اعلان کردہ سہولت کے درمیان واضح فرق موجود ہے۔ اسی طرح سالانہ بارہ مفت گیس سلنڈروں کے وعدے کے مقابلے میں چھ سلنڈروں کی تجویز مکمل تکمیل نہیں کہلا سکتی۔ حکومت کو عوام کو صاف طور پر بتانا چاہیے کہ ان وعدوں پر عمل درآمد میں کیا رکاوٹیں ہیں اور انہیں دور کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جارہے ہیں۔

                ترقیاتی محاذ پر سڑکوں، پینے کے پانی، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں کچھ پیش رفت کے دعوے کیے گئے ہیں۔ سرکاری طبی اداروں میں جدید تشخیصی سہولیات، ٹیلی میڈیسن مراکز اور نجی جامعات سے متعلق قانون سازی کو اہم اقدامات قرار دیا جارہا ہے۔ اسکولوں کے تعلیمی کیلنڈر کو دوبارہ اکتوبر اور نومبر کے روایتی نظام سے ہم آہنگ کرنا بھی ایسا فیصلہ ہے جس کا براہِ راست تعلق کشمیر کے موسمی حالات سے ہے۔ لیکن بنیادی سہولیات کی بہتری کا اندازہ صرف منصوبوں کے افتتاح یا سرمایہ کاری کے اعلانات سے نہیں لگایا جاسکتا۔ اصل پیمانہ یہ ہے کہ کتنے علاقوں میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی بہتر ہوئی، کتنی سڑکیں قابلِ استعمال بنیں، اسپتالوں میں مریضوں کو بروقت علاج ملا اور تعلیمی اداروں میں معیارِ تعلیم میں کتنا اضافہ ہوا۔

                باغبانی اور سیاحت جیسے شعبے بھی حکومت کی خصوصی توجہ چاہتے ہیں۔ کشمیر کی معیشت میں سیب، زعفران اور دیگر باغبانی کی پیداوار کا بنیادی کردار ہے، لیکن نقل و حمل کے مسائل، موسمی آفات، ذخیرہ کرنے کی محدود سہولیات اور منڈیوں تک رسائی میں رکاوٹیں کسانوں کی آمدنی کو متاثر کرتی ہیں۔ حکومت نے ذخیرہ اندوزی کی صلاحیت بڑھانے، فصلوں کی بیمہ کاری اور باغبانی کے فروغ کے لیے اقدامات کا ذکر کیا ہے، مگر کسانوں کو ان منصوبوں کے عملی فوائد ملنے چاہئیں۔ اسی طرح سیاحت کے شعبے میں بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور نئے مقامات کی ترقی ضروری ہے، لیکن سیاحت کو صنعت کا درجہ دینے اور ہوٹلوں و ہاؤس بوٹ مالکان کے لیے جامع مراعات جیسے وعدوں پر بھی پیش رفت ہونی چاہیے۔

                عوامی اعتماد کی بحالی کے لیے حکومت کو اپنی کامیابیوں اور ناکامیوں دونوں کا غیر جانب دارانہ جائزہ لینا ہوگا۔ اپوزیشن کی تنقید کو محض سیاسی مخالفت قرار دے کر نظرانداز کرنا مناسب نہیں، کیونکہ روزگار، بجلی، ریزرویشن پالیسی اور سیاسی حقوق سے متعلق عوامی شکایات حقیقی مسائل سے جڑی ہیں۔ دوسری جانب یہ بھی درست ہے کہ محدود اختیارات کے باوجود منتخب حکومت کے پاس ایسے شعبے موجود ہیں جہاں بہتر منصوبہ بندی، شفافیت اور انتظامی صلاحیت کے ذریعے نمایاں تبدیلی لائی جاسکتی ہے۔

                دو سالہ کارکردگی کا بنیادی سبق یہی ہے کہ انتخابی وعدے حکومت بنانے کا ذریعہ ضرور ہوتے ہیں، لیکن عوامی اعتماد برقرار رکھنے کے لیے ان کی تکمیل ناگزیر ہے۔ عمر عبداللہ حکومت کو اب اعلانات سے آگے بڑھ کر ترجیحات کا تعین، ہر وعدے کے لیے واضح وقت بندی اور کارکردگی کی باقاعدہ عوامی رپورٹ پیش کرنی چاہیے۔ ریاستی درجے کی بحالی کے لیے سنجیدہ کوششیں جاری رہنی چاہئیں، مگر ساتھ ہی روزگار، بجلی، تعلیم، صحت اور باغبانی جیسے فوری مسائل کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ اختیارات کی محدودیت ایک حقیقی رکاوٹ ہے، لیکن اس کے باوجود دستیاب گنجائش کو مؤثر طور پر استعمال کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ بالآخر عوام حکومت کو اس بنیاد پر پرکھیں گے کہ اس نے ان کی زندگیوں میں کتنی بہتری پیدا کی، نہ کہ اس بنیاد پر کہ اس نے کتنے وعدے کیے یا کتنی مشکلات کا ذکر کیا۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

وزارت دفاع نے کیئے 4,106 کروڑ روپے کے معاہدے، فضائیہ کو مواصلاتی سیٹلائٹ اور بحریہ کو ٹارپیڈو ملیں گے

Next Post

دو سال گزر گئے

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

خاتون افسر سے مبینہ بدسلوکی‘تحقیقات کا حکم
اہم ترین

خاتون افسر سے مبینہ بدسلوکی‘تحقیقات کا حکم

2026-10-17
ُاین سی اور پی ڈی پی اکھٹا الیکشن لڑیں گی /فاروق‘محبوبہ
اہم ترین

جموںکشمیر کی سیاسی جماعتوں کی خاتون افسر سے مبینہ بدسلوکی کی مذمت 

2026-10-17
لداخ مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہیں‘اگلا اجلاس۲۲؍ اکتوبر کو نئی دہلی میں ہوگا
اہم ترین

لداخ مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہیں‘اگلا اجلاس۲۲؍ اکتوبر کو نئی دہلی میں ہوگا

2026-10-17
جموں کشمیر میںحد بندی کیخلاف عرضی پرسپریم کورٹ میں سماعت آج
اہم ترین

سوشل میڈیا پر بچوں کے تحفظ کیلئےضابطہ بندی کا معاملہ‘ سپریم کورٹ کامرکز سے جواب طلب

2026-10-17
لہیہ میںفوجی ٹینک دریا کے بہاؤ میں بہہ گئی ‘۵ فوجی اہلکار ہلاک
اہم ترین

لداخ میں ایک اور ضلع سانکو قائم، مجموعی تعداد آٹھ ہوگئی

2026-10-17
جموں وکشمیر کے ضلع ڈوڈہ میں آئی ای ڈی ناکارہ بنادی گئی: پولیس
اہم ترین

راجوری میں تلاشی کارروائی کے دوران آئی ای ڈی برآمد‘ناکارہ

2026-10-17
بغیر اجازت تعمیر ہونے والی سرکاری عمارتوں کو بجلی اور پانی کا کنکشن نہیں
اہم ترین

ملازمین کو پیشہ ورانہ آداب  برقرار رکھنے کی ہدایت‘ نامناسب زبان کے استعمال سے گریز کرنے پر زور

2026-10-17
’بڈگام کے فوجی جوان کی ہلاکت میں ملوث لشکر کا جنگجو اعانت کار گرفتار‘
اہم ترین

ایس ایم سی کا وارڈ افسر رشوت  لینے کے الزام میں گرفتار

2026-10-17
Next Post
کانگریسی قیادت ‘ بھاجپا کیلئے اثاثہ

دو سال گزر گئے

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.