مانتے ہیں جناب، سو فیصد مانتے ہیں کہ اپنے گورے گورے بانکے چھورے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ہمت دکھائی، جرأت دکھائی……. ایل جی منوج سنہا سے ملاقات کرکے نہیں، ان سے ملاقات کرنے میں ہمت اور جرأت کی کیا ضرورت ہے کہ کہنے والوں کا کہنا ہے کہ سنہا صاحب بھی بھلے مانس ہیں۔ وزیر اعلیٰ صاحب نے کابینہ میں توسیع اور ردوبدل کا اعلان کرکے ہمت اور جرأت دکھائی، جس کی ان سے بالکل بھی توقع نہیں تھی……. کم از کم ہمیں تو نہیں تھی کہ کچھ لوگوں نے ہمارے کان بھر دیے تھے، وزیر اعلیٰ صاحب کے خلاف بھر دیے تھے، یہ کہہ کر بھر دیے تھے کہ وزیر اعلیٰ صاحب بزدل ہیں، ان میں کابینہ میں توسیع کرنے کی ہمت ہے اور نہ جرأت۔لیکن صاحب، ماننا پڑے گا کہ ہم غلط تھے اور سو فیصد غلط تھے۔ وزیر اعلیٰ صاحب بزدل نہیں ہیں کہ کابینہ میں، یوٹی کی کابینہ میں توسیع، جب معاملہ ایک انار اور ایک ہزار بیمار کا ہو، کوئی ہمت والا ہی کر سکتا ہے، جرأت والا ہی کر سکتا ہے۔ اور توسیع کا اعلان کرکے اپنے گورے گورے بانکے چھورے وزیر اعلیٰ صاحب نے ثابت کیا کہ ان میں ہمت ہے اور جرأت بھی ہے۔دُعا ہے، ہماری اللہ میاں سے دُعا ہے کہ ان کی اس ہمت اور جرأت کو کسی کی نظر ِ بد نہ لگ جائے کہ ایسے لوگوں کی کوئی کمی نہیں ہے، اور بالکل بھی نہیں ہے، جو اس تاک میں بیٹھے ہیں کہ کب……. جی ہاں، کب وزیر اعلیٰ صاحب کابینہ میں توسیع کا اعلان کریں اور یہ بھی کام پر لگ جائیں……. ان پر جو بیمار تو ہیں لیکن انہیں انار نہیں ملے گا……. ان کے بدلے انار کسی اور کو ملے گا۔یقین کریں کہ یہ لوگ بڑے ماہر ہیں، ایسے لوگوں کا ’علاج‘ کرنے میں ان کا کوئی ثانی نہیں ہے۔ انہیں اس کا تجربہ بھی ہے اور……. اور یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ آزمائے ہوئے ہیں، اپنے کام میں آزمائے ہوئے ہیں کہ انہوں نے اپنی مہارت ثابت کر دی ہے……. بار بار کر دی ہے‘ ملک کے مختلف حصوں میں کی ہے۔کیا یہاں اپنے کشمیر میں بھی یہ ایسا کریں گے……. ہم نہیں جانتے ہیں، سوائے اس ایک بات کے کہ……. کہ بہت مشکل ہے ڈگر پنگھٹ کی، اور وزیر اعلیٰ صاحب اس ڈگر پر چل پڑے ہیں اور اس پر چل کر انہوں نے سچ میں ثابت کر دیا ہے کہ یہ واقعی میں ہمت والے ہیں اور جرأت والے بھی۔ ہے نا؟
۔۔۔۔۔۔۔



