بھارتیہ جنتا پارٹی(بی جے پی )نے سینئر سیاست دان اور سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ کے کشمیر سے متعلق متنازع بیان پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے ’’بغاوت پر مبنی‘‘ اور ’’پاکستان نواز‘‘ قرار دیا ہے۔
جموں و کشمیر میں برسر اقتدار نیشنل کانفرنس کے سربراہ فاروق عبداللہ نے آج بارہمولہ میں مبینہ طور پر کہا کہ بھارتی حکومت کے کشمیریوں کے تئیں ارادے درست نہیں ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کی سفارتی کوششوں کے باعث کشمیریوں کی آواز عالمی سطح پر سنی جا رہی ہے۔
بی جے پی نے فوری ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ان کے بیان کو پاکستان کی حمایت میں دیا گیا اور افسوس ناک قرار دیا۔ پارٹی کے بعض رہنماؤں نے فاروق عبداللہ کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔
دوسری جانب جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس حکومت کی حمایت کرنے والی کانگریس نے کہا کہ فاروق عبداللہ نے ممکنہ طور پر اپنی ذاتی رائے کا اظہار کیا ہے، تاہم ہندوستان اپنے اندرونی معاملات میں کسی کی مداخلت برداشت نہیں کرے گا۔
ہندوستان کا مؤقف ہے کہ جموں و کشمیر ملک کا اٹوٹ اور ناقابل تقسیم حصہ ہے، جبکہ پاکستان پر مرکز کے زیر انتظام علاقے میں دہشت گردی کو فروغ دینے اور بدامنی پھیلانے کی کوششوں کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔
فاروق عبداللہ نے بارہمولہ میں پارٹی کارکنوں کے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ جموں و کشمیر کے لوگوں کی شناخت آج بھی برقرار ہے، کیونکہ پاکستان مختلف بین الاقوامی فورموں پر کشمیریوں کا مسئلہ اٹھا رہا ہے۔
این سی صدر نے ہندی میں کہا، ’’وہ (بھارتی ریاست) آج دنیا کے دباؤ کی وجہ سے خاموش ہیں۔ ہمارا پڑوسی (پاکستان) ہر جگہ جا کر کہتا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہوا۔ وہ ہماری حفاظت کر رہے ہیں، ورنہ ان (ہندوستان) کے ارادے درست نہیں ہیں۔‘‘
بی جے پی کے کئی رہنماؤں نے فاروق عبداللہ کے بیان کو بغاوت پر مبنی قرار دیتے ہوئے پاکستان کی دہشت گردانہ سرگرمیوں کو نظر انداز کرنے کا الزام عائد کیا۔
بی جے پی کی قومی ایگزیکٹیو کے رکن اور سابق ریاستی صدر رویندر رینا نے بیان کو افسوس ناک قرار دیتے ہوئے فاروق عبداللہ پر ’’ملک دشمن عناصر کی دھن پر ناچنے‘‘ کا الزام لگایا۔
رینا نے این ڈی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’ان کا بیان انتہائی قابل مذمت اور افسوس ناک ہے اور بغاوت کے الزامات کے زمرے میں آتا ہے۔ پاکستان جیسا دشمن ملک کشمیری عوام کا محافظ کیسے ہو سکتا ہے؟ پاکستان کشمیری عوام کا قاتل ہے۔ وہ معصوم کشمیریوں، بچوں اور خواتین کو ہلاک کرتا ہے۔‘‘
بی جے پی کے قومی ترجمان آر پی سنگھ نے بھی سینئر کشمیری رہنما کو مشورہ دیا کہ وہ سرحد پار دیکھیں اور وہاں کشمیریوں کی حالت کا جائزہ لیں۔
سنگھ نے خبر رساں ایجنسی آئی اے این ایس سے کہا، ’’یہاں کشمیر اچھا کام کر رہا ہے کیونکہ دفعہ۳۷۰ منسوخ کر دی گئی اور کشمیر کو ہندوستان کے ساتھ مکمل طور پر ضم کر دیا گیا۔ اسی لیے ہر سال دو کروڑ سیاح کشمیر آتے ہیں۔ اسی لیے کشمیر معاشی طور پر بہتر کارکردگی دکھا رہا ہے۔‘‘
بی جے پی کی قومی کونسل کی رکن یامنی شرما نے بھی فاروق عبداللہ پر پاکستان کے بیانیے کی تائید کرنے کا الزام عائد کیا۔
انہوں نے کہا، ’’جموں و کشمیر کے بارے میں فاروق عبداللہ کا بیان ہندوستانی آئین اور جموں و کشمیر کے محب وطن لوگوں کی توہین ہے۔ سب جانتے ہیں کہ سرحد پار دہشت گردی کے باعث وادی میں ہزاروں افراد اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔ نیشنل کانفرنس پاکستان کی ترجمان بن گئی ہے۔‘‘
۔۔۔۔۔۔۔(ویب ڈیسک)










