ہمیں سیاستدانوں پر رشک ہو رہا ہے اور……. اور سو فیصد ہو رہا ہے……. اس لیے ہو رہا ہے کہ……. کہ انہیں کچھ بھی کہنے کی آزادی ہے…….یہ کچھ بھی کہہ سکتے ہیں اور……. اور کہتے ہیں۔ اس لیے تو صاحب، ہمارا بس چلے تو……. تو ہم بھی سیاستدان بن جائیں……. ہم بھی سیاست جوائن کرکے سیاستدانوں کی تعداد میں اضافہ کرنے کا کریڈٹ لیں……. وہ کیا ہے کہ……. کہ لوگ سیاستدانوں کے بارے میں کچھ بھی رائے رکھیں……. لیکن……. لیکن جو مزے سیاستدانوں کے ہیں……. جو چھوٹ، جو آزادی انہیں حاصل ہے، وہ کسی اور کو نہیں ہے……. بالکل بھی نہیں ہے۔اب دیکھیے نا، ہمیں تول مول کر بولنے کی صلاح دی جاتی ہے……. ہم اور آپ کو پہلے سوچنا……. سو بار سوچنا پڑتا ہے……. پھر جا کے ہم کچھ کہہ سکتے ہیں، بول سکتے ہیں……. لیکن……. لیکن سیاستدانوں پر ایسی کوئی قید، کوئی بندش نہیں ہے……. وہ کہیں بھی، کچھ بھی کہہ سکتے ہیں…….انہیں کچھ بھی کہنے کی آزادی حاصل ہے اور…….اور اللہ میاں کی قسم، وہ اپنی اس آزادی کا خوب فائدہ بھی اٹھاتے ہیں……. جب، جہاں، جو چاہیں کہتے ہیں……. کہہ سکتے ہیں……. چاند اور ستارے زمین پر لانے کی باتیں، دودھ اور شہد کی نہریں بہانے کی باتیں……. اور وہ باتیں بھی جن کے سچ ہونے کا کوئی امکان ہی نہیں……. بالکل بھی نہیں۔اب آپ ہی بتائیے کہ کیا آپ اور ہمیں ایسی باتیں کرنے کی آزادی ہے؟ بالکل بھی نہیں ہے۔ ہم سیاستدان نہیں ہیں کہ ہمیں کچھ بھی کہنے کی آزادی ہو……. جن کو یہ آزادی حاصل ہے……. سیاستدانوں کو حاصل ہے، وہ کچھ بھی کہتے ہیں……. کچھ بھی، اور انہیں لگتا ہے کہ انہیں کچھ بھی کہنے کی مکمل چھوٹ ہے۔ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے……. بالکل بھی نہیں ہے۔ اللہ میاں کی قسم، ہمیں جلن بھی نہیں ہو رہی ہے……. لیکن……. لیکن ہاں، یہ کیا بات ہوئی کہ ان حضرات کو، سیاستدانوں کو، کچھ بھی بولنے کی آزادی ہے اور…….اور یہی حضرات، یہی سیاستدان، آپ اور ہم سے بولنے کی، بات کرنے کی آزادی چھین لیتے ہیں……. اور سو فیصد چھین لیتے ہیں۔اور اس لیے چھین لیتے ہیں تاکہ ان کی آزادی……. کچھ بھی بولنے اور کہنے کی آزادی برقرار رہے…….اس پر کوئی روک اور ٹوک نہ لگے……. بالکل بھی نہ لگے۔ہے نا؟
۔۔۔۔۔۔



