کہتے ہیں کہ اپنی آنکھ کا شہتیر کسی کو نظر نہیں آتا، لیکن دوسروں کی آنکھ کا تنکا بھی دکھائی دینے لگتا ہے۔ پاکستان کا رویہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ جموں و کشمیر کے معاملے پر بھارت کو تنقید کا نشانہ بنانے اور بین الاقوامی فورموں پر اس کے خلاف آواز بلند کرنے سے پہلے اگر پاکستان اپنے زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات کا جائزہ لیتا تو شاید اسے دوسروں پر انگلی اٹھانے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکنے کی ضرورت کا احساس ہوتا۔ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ پاکستان اپنے زیر انتظام علاقوں میں عوامی بے چینی، جمہوری حقوق کی بحالی کے مطالبات اور معاشی مشکلات سے پیدا ہونے والی صورت حال کو نظر انداز کرتے ہوئے بھارت کے خلاف بیانات اور قراردادوں کو اپنی سفارتی حکمت عملی کا اہم حصہ بنائے ہوئے ہے۔
بغداد میں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں جموں و کشمیر سے متعلق حوالوں پر مشتمل قراردادیں منظور کی گئیں، جنہیں بھارت نے مسترد کرتے ہوئے پاکستان پر سیاسی مقاصد کے تحت پروپیگنڈا کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ جموں و کشمیر اور لداخ بھارت کا اٹوٹ حصہ ہیں اور او آئی سی کو بھارت کے داخلی معاملات میں مداخلت کا کوئی اختیار حاصل نہیں۔ نئی دہلی نے ان قراردادوں کو پاکستان کی جانب سے اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کی کوشش قرار دیتے ہوئے تنظیم کی ساکھ پر بھی سوال اٹھائے ہیں۔
سوال صرف بھارت اور پاکستان کے درمیان سفارتی کشیدگی کا نہیں، بلکہ اس اصول کا ہے کہ کیا کسی بین الاقوامی تنظیم کو کسی خطے کے عوام کے حقوق کی فکر کرتے ہوئے تمام متعلقہ حقائق کو یکساں اہمیت نہیں دینی چاہیے؟ اگر کسی علاقے کے عوام اپنے معاشی مسائل، بنیادی ضروریات اور جمہوری حقوق کے لیے آواز بلند کرتے ہیں تو ان کی آواز کو محض سیاسی اختلاف یا بیرونی پروپیگنڈے کے پیمانے پر نہیں پرکھا جانا چاہیے۔ عوام کی مشکلات کا اعتراف اور ان کے حقوق کا احترام کسی ایک ملک کے لیے مخصوص اصول نہیں ہو سکتے۔
پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں گزشتہ کچھ عرصے کے دوران آٹے اور بجلی کی قیمتوں، مہنگائی اور دیگر بنیادی مسائل کے خلاف عوامی احتجاج نے حکمرانوں کے لیے سنجیدہ سوالات کھڑے کیے۔ عوامی تحریکوں نے مطالبہ کیا کہ انہیں بنیادی سہولتیں مناسب قیمتوں پر فراہم کی جائیں، ان کے معاشی بوجھ کو کم کیا جائے اور ان کے جمہوری حقوق کا احترام کیا جائے۔ ان مطالبات کے جواب میں انتظامیہ کے اقدامات، گرفتاریوں، مواصلاتی پابندیوں اور احتجاجی سرگرمیوں سے متعلق سامنے آنے والی اطلاعات نے صورت حال کی سنگینی کو اجاگر کیا۔ احتجاج کے دوران تشدد اور جانی نقصان کی اطلاعات بھی سامنے آئیں، جن کی شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کے تعین کی ضرورت اپنی جگہ موجود ہے۔
یہ امر قابل غور ہے کہ جو ملک جموں و کشمیر کے عوام کے حقوق کا علم بردار بننے کی کوشش کرتا ہے، اسے اپنے زیر قبضہ علاقے کے لوگوں کی شکایات سننے اور ان کا ازالہ کرنے میں بھی اسی سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ اگر عوام آٹے کی قیمتوں میں کمی، بجلی کی مناسب نرخوں پر فراہمی، روزگار اور سیاسی اختیار کا مطالبہ کریں تو ان کے مسائل کا حل طاقت کے استعمال یا آواز دبانے میں نہیں، بلکہ بامعنی مذاکرات اور عملی اقدامات میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ جمہوری حقوق کا احترام بیانات سے نہیں، حکومتی طرز عمل سے ثابت ہوتا ہے۔
اس معاملے میں او آئی سی کا کردار بھی توجہ طلب ہے۔ اسلامی تعاون تنظیم کا بنیادی مقصد رکن ممالک کے درمیان تعاون کو فروغ دینا اور مسلم دنیا کے مشترکہ مسائل پر مؤثر کردار ادا کرنا ہے۔ لیکن اگر تنظیم کسی معاملے پر قرارداد منظور کرتے وقت صرف ایک فریق کے مؤقف کو اہمیت دے اور اسی دوران دوسرے متعلقہ علاقے کے عوام کی مشکلات پر خاموشی اختیار کرے تو اس کی غیر جانب داری پر سوال اٹھنا فطری ہے۔ کیا عوامی حقوق کی اہمیت سیاسی وابستگیوں کے مطابق بدل جاتی ہے؟ کیا ایک خطے کے لوگوں کی تکالیف پر آواز اٹھانا ضروری اور دوسرے خطے کے عوام کی مشکلات کو نظر انداز کرنا قابل قبول ہے؟
او آئی سی کو یہ سمجھنا ہوگا کہ قراردادیں منظور کرنا نسبتاً آسان ہے، لیکن ان قراردادوں سے عوام کی زندگیوں میں بہتری لانا کہیں زیادہ اہم اور مشکل کام ہے۔ کسی ملک کے خلاف سخت الفاظ استعمال کرنے سے نہ غربت ختم ہوتی ہے، نہ بنیادی سہولتیں میسر آتی ہیں اور نہ ہی عوامی شکایات کا ازالہ ہوتا ہے۔ اگر تنظیم واقعی مسلم دنیا کے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے سنجیدہ ہے تو اسے سیاسی بیانات سے آگے بڑھ کر انسانی حقوق، معاشی انصاف اور عوامی آزادیوں کے معاملات پر اصولی مؤقف اختیار کرنا چاہیے۔
بھارت نے اپنی جانب سے آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد جموں و کشمیر میں بنیادی ڈھانچے، سیاحت اور رابطوں کے شعبوں میں ترقی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے زیر انتظام علاقوں کی صورت حال اس سے مختلف ہے۔ یہ بھارتی حکومت کا مؤقف ہے، تاہم اس کے ساتھ یہ حقیقت بھی اہم ہے کہ جموں و کشمیر میں ترقی کے دعووں کا جائزہ مقامی عوام کی معاشی حالت، روزگار کے مواقع، شہری آزادیوں اور سیاسی حقوق کی صورت حال کو سامنے رکھ کر ہی لیا جا سکتا ہے۔ ترقی صرف سڑکوں، عمارتوں اور سیاحوں کی تعداد کا نام نہیں، بلکہ اس کا اصل مقصد عام انسان کی زندگی کو بہتر بنانا ہے۔ یہی پیمانہ پاکستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر پر بھی لاگو ہونا چاہیے۔
پاکستان کو دوسروں پر انگلی اٹھانے سے پہلے اپنے زیر قبضہ جموں و کشمیر کے عوام کی آواز سننی چاہیے، جبکہ او آئی سی کو بھی کسی ایک ملک کے سیاسی مؤقف کی تائید کرنے کے بجائے تمام متعلقہ علاقوں میں عوام کے حقوق کے لیے یکساں اصول اپنانے چاہئیں۔ بصورت دیگر ایسی قراردادیں نہ عوام کی مشکلات کم کر سکیں گی اور نہ ہی اس تنظیم کی ساکھ میں اضافہ کر پائیں گی۔ آخرکار کسی بھی ملک یا تنظیم کی اصل اہمیت اس کے بیانات اور قراردادوں سے نہیں، بلکہ اس بات سے متعین ہوتی ہے کہ وہ عام انسان کے دکھ درد کو کس حد تک سمجھتی اور اس کے ازالے کے لیے کیا عملی قدم اٹھاتی ہے۔



