سچ تو یہ ہے کہ ایک بات جو ہماری سمجھ میں نہیں آتی ہے اور……. اور بالکل بھی نہیں آتی ہے وہ یہ ہے کہ آخر کیا ضرورت ہے کہ او آئی سی کی بات بات اور ہر ایک بات پر ردِعمل دیا جائے؟ ایسا کرکے صاحب، آپ او آئی سی کو اس زعم میں مبتلا کرتے ہیں کہ یہ واقعی اہم ہے، اس کے بیانات اور قراردادیں بھی اہمیت رکھتی ہیں……. نہیں رکھتیں تو پھر بھارت جیسا وشال دیش ان پر ردِعمل نہیں دیتا اور بالکل بھی نہیں دیتا۔کہنے والے کہہ گئے ہیں کہ خاموشی چاندی ہے اور جو کوئی بھی اسے اختیار کرے، جو کوئی بھی خاموش رہے تو اس کی خاموشی سونے جیسی قیمتی بن جاتی ہے اور سو فیصد بن جاتی ہے۔ بس صاحب، آپ نے بھی ایسا کرنا تھا، لیکن نہیں، نہ جانے آپ او آئی سی کے بیانات، بے ہنگم اور بے ہودہ بیانات پر ردِعمل دینے کے لیے اتنے بے صبرے کیوں ہوتے ہیں……. اللہ میاں کی قسم، اگر ہم آپ کی جگہ ہوتے تو ہم ایسا ہرگز نہ کرتے، بالکل بھی نہ کرتے……. اس کی بے تکی باتوں کو ایک کان سے سنتے، جس کان سے سنتے، اسی سے باہر بھی نکال دیتے کہ اسے اپنے دوسرے کان تک بھی پہنچنے نہیں دیتے، کہ……. کہ وقت وقت پر او آئی سی نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ ایک بے کار، بے وقعت اور غیر متعلقہ ادارہ ہے، جس کی دنیا میں کہیں بھی قدر و منزلت نہیں ہے اور بالکل بھی نہیں ہے۔اور ہوگی بھی کیسے کہ اس ادارے نے اپنی کرتوتوں سے خود کو اتنا بے وقعت کرکے رکھ دیا ہے کہ……. کہ اگر یہ کچھ بھی کہے تو کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی ہے……. بالکل بھی نہیں رینگتی ہے…….ہاں، سوائے ہمارے……. کیوں رینگتی ہے، ہمیں نہیں معلوم، بالکل بھی نہیں معلوم۔ہم زیادہ تو کچھ نہیں کہیں گے، سوائے اس ایک بات کے کہ……. کہ بالکل بھی ضروری نہیں ہے کہ او آئی سی کے بیانات اور قراردادوں پر ردِعمل دیا جائے……. کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اوراس لیے نہیں ہے کہ بے چارہ چار ٹانگوں والا یہ بے زبان دن رات اور رات دن بھونکتا رہتا ہے۔۔۔ لیکن کوئی اس کے بھونکنے پر ردِعمل نہیں دیتا ہے۔۔۔ بالکل بھی نہیں دیتا ہے۔اس لیے صاحب، او آئی سی کو بھی بھونکنے دیجیے، دیجیے نا۔ ہے نا؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔










