لو جی، سن لو گل……. بی جے پی کا کہنا ہے کہ گورے گورے بانکے چھورے عمر عبداللہ نے جموں کے ساتھ زیادتی کی ہے اور ناانصافی بھی۔ ایک ایسا الزام، ایسا طعنہ جو عمر عبداللہ کو کشمیر میں بھی دیا جا رہا ہے……. نظرانداز کرنے کا الزام اور ہاں، ناانصافی کا بھی۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ جموں کے ساتھ ساتھ کشمیر بھی عمر عبداللہ سے خوش نہیں ہے، اور بالکل بھی نہیں ہے……. ہاں، البتہ جموں اور کشمیر میں ایک فرق ہے، اور وہ یہ ہے کہ جہاں جموں میں بی جے پی گورے گورے بانکے چھورے پر ناانصافی کا الزام لگا رہی ہے، وہیں کشمیر میں انہیں اپنے لوگ، اپنے ممبرانِ اسمبلی یہ الزام دے رہے ہیں۔عمر عبداللہ سے ان کا یہ ملال، ان کی ناراضگی تو سمجھ میں آتی ہے، لیکن ایک بات جو ہماری اس ناسمجھ، سمجھ میں نہیں آ رہی ہے، اور بالکل بھی نہیں آ رہی ہے، وہ یہ ہے کہ بی جے پی عمر عبداللہ سے ناراض کیوں ہے……. کیوں وہ ان پر جموں کو فراموش اور نظرانداز کرنے کا الزام عائد کر رہی ہے؟ ایسا نہیں ہے، اور بالکل بھی نہیں ہے، کہ عمر عبداللہ جموں سے کسی بھی ایرے غیرے نتھو خیرے کو سڑک سے اٹھا لے اور وزارت کی کرسی پر بٹھا دے……. جموں نے ووٹ دیا بی جے پی کو، اور ہول سیل میں دیا، اور بی جے پی جموں کے لیے نمائندگی عمر عبداللہ سرکار میں، این سی سرکار میں ڈھونڈ رہی ہے، تلاش کر رہی ہے……. کیسے؟ کس منطق اور حساب کتاب سے؟اجی، یہاں تو ان لوگوں کو نمائندگی نہیں مل رہی ہے جنہوں نے عمر عبداللہ کو سرکار دی……. ان کے دل جلے ہوئے ہیں، وہ بے چارے خون کے آنسو رو رہے ہیں، ان کے تن بدن میں آگ لگی ہوئی ہے،وہ انتقام کی آگ میں عمرسرکار تک کو راکھ اور خاک میں ملانے کا خیالی پلان تیز آنچ پر پکا رہے ہیں……. اور اور ایک بی جے پی ہے جو جموں کے لیے نمائندگی تلاش کر رہی ہے……. عمر عبداللہ کی کابینہ میں!ہم تو صاحب، کچھ کہیں گے نہیں، یا ہم کچھ زیادہ کہنا نہیں چاہتے، سوائے اس ایک بات کے کہ بی جے پی جانتی ہے کہ عمر عبداللہ جموں کو نمائندگی نہیں دے سکتے، کیوں کہ جموں نے بی جے پی کو چنا ہے……. وہ جموں سے امتیاز، جموں سے ناانصافی اور جموں سے زیادتی کا الزام اس لیے لگا رہی ہے کہ صاحب، جموں و کشمیر میں اس جماعت کی سیاست کی بنیاد یہی دو تین نعرے ہیں، اور کچھ نہیں……. بالکل بھی نہیں۔ ہے نا؟
۔۔۔۔۔۔۔



