کشمیر ……. اپنے کشمیر میں ٹھنڈ پڑ رہی ہے اور اللہ میاں کی قسم بڑھ بھی رہی ہے۔ نہیں صاحب، دھوپ برابر ہے اور دھوپ کی شدت بھی ہے، لیکن ہم ٹھنڈ ……. سرما کی ٹھنڈ، ٹھنڈ اور سردی سے نہیں ماپتے ہیں، بلکہ اس بات کا فیصلہ بجلی شیڈول کرتا ہے کہ کیا واقعی ٹھنڈ پڑ گئی ہے اور سرما نے ڈیرہ ڈال دیا ہے۔چونکہ محکمہ ……. محکمہ بجلی کا کہنا ہے کہ دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح کم نہیں بلکہ بہت کم ہو گئی ہے، اس لیے بجلی کٹوتی مزید بڑھ جائے گی۔ اس لیے صاحب، یہ اس بات کا واضح اشارہ اور اعلان ہے کہ اپنے کشمیر میں ٹھنڈ پڑ بھی گئی ہے اور بڑھ بھی گئی ہے۔ اس لیے آپ ٹھنڈ کا مقابلہ کرنے کے لیے تیاری پکڑ لیں۔لیکن ……. لیکن اب کی بار ہم آپ کو ایک خوشخبری دینے والے ہیں اور وہ خوشخبری یہ ہے کہ اب کی بار آپ کو ٹھنڈ زیادہ محسوس نہیں ہو گی اور بالکل بھی نہیں ہو گی ……. درجہ حرارت میں اگر متواتر گراوٹ بھی آ جائے، اگر پارہ نقطۂ انجماد سے نیچے اور بہت نیچے بھی لڑھک جائے گا، تو بھی صاحب، آپ کو ٹھنڈ ……. زیادہ ٹھنڈ نہیں لگے گی، کیونکہ کشمیر ……. اپنے کشمیر میں سیاسی درجہ حرارت گرم گرم ہے ……. اور فی الحال آنے والے دنوں میں یہ مزید بڑھ جائے گا، اس میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔اللہ میاں آغا روح اللہ صاحب کو صحتِ بدن عطا کرے کہ انہوں نے نیشنل کانفرنس سے منقطع ہوا ناطہ توڑ کیا دیا کہ ……. کہ درجہ حرارت ……. سیاسی درجہ حرارت میں اچانک سے اچھال آ گیا ہے ……. اتنا اچھال اگر بازارِ حصص میں آ جائے تو ……. تو ۲۰۴۷ ءمیں نہیں بلکہ بھارت دیش آج اور ابھی ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں خود کو پائے گا۔روح اللہ نے جلسے میں کچھ کہا، این سی نے اسی شدت سے اس کا جواب دیا ……. این سی کے جواب پر مہدی صاحب نے ایک ردعمل ظاہر کیا تو آج این سی اپنے لنگوٹے کس کر میدان میں آ گئی اور ان کے پارٹی سے مستعفی ہونے کو بی جے پی کے ’آپریشن لوٹس‘ کی ایک کڑی قرار دیا۔اب آگے کیا کیا ہو گا، یہ تو صاحب ہمیں معلوم نہیں کہ ……. کہ اگر ہمیں کچھ معلوم ہے تو ……. تو یہ ایک بات معلوم ہے کہ امسال سرما میں کشمیر ……. اپنا کشمیر گرم گرم رہنے والا ہے۔ ہے نا؟




