جمعہ, نومبر 6, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home رائے

 ہر نیکی کا فائدہ فوراً نظر نہیں آتا

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-11-06
in رائے
A A
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

محمد توقیر رحمانی

            مکھی جب چائے میں گر جائے تو لوگ عموماً چائے پھینک دیتے ہیں، لیکن وہی مکھی اگر دیسی گھی میں گر جائے تو شاید گھی پھینکنے کے بجائے اسے بچانے کی تدبیریں تلاش کرتے ہیں۔ یہ محض ایک عام مشاہدہ نہیں، بلکہ انسانی نفسیات اور معاشرتی رویّوں کی ایک گہری تمثیل ہے۔ اکثر انسان چیزوں کے بارے میں فیصلہ ان کے اصولی معیار پر نہیں، بلکہ ان سے وابستہ اپنے مفادات کے مطابق کرتے ہیں۔ جہاں نقصان کا اندیشہ ہو، وہاں اصول یاد آنے لگتے ہیں اور جہاں فائدہ نظر آئے، وہاں انہی اصولوں کی تعبیر بدل جاتی ہے۔ یہی دوہرا معیار جب انسانی تعلقات میں داخل ہوتا ہے تو اخلاقیات محض الفاظ، اصول محض دکھاوا اور انسانیت مفادات کی تابع بن کر رہ جاتی ہے۔

            آج کی تیز رفتار دنیا میں وقت یقیناً قیمتی ہے، پیشہ ورانہ خدمات کا معاوضہ بھی ایک جائز معاشرتی ضرورت ہے، لیکن المیہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ہر تعلق کو نفع و نقصان کے ترازو میں تولا جانے لگے۔ ملاقات کے لئے فیس، مشورے کے لئے معاوضہ اور خدمت کے لئے قیمت مقرر ہونا اپنی جگہ درست ہو سکتا ہے، مگر جب کسی مجبور کی فریاد سننے، کسی ضرورت مند کی مدد کرنے اور کسی بے سہارا کا ہاتھ تھامنے کیلئے بھی صرف مالی فائدہ معیار بن جائے تو سوال اٹھتا ہے کہ کیا انسان نے اپنی صلاحیتوں کو تو ترقی دی ہے، مگر اپنے دل کو تنگ کر لیا ہے؟ کیا ہم اتنے مصروف ہو گئے ہیں کہ انسان کو انسان سمجھنے کیلئے بھی کسی منفعت کی ضرورت  ہے؟

متعلقہ

غیر مجاز وصولیاں: مستقل حل تلاش کرنا ناگزیر                

آوارہ کتوں کا بحران : اعداد و شمار سے آگے کی حقیقت

            حقیقت یہ ہے کہ ہر خدمت کا معاوضہ نہیں ہوتا اور ہر نیکی کا فائدہ فوری طور پر نظر نہیں آتا۔ کسی پریشان شخص کی بات سن لینا، کسی ضرورت مند کی رہنمائی کر دینا، کسی کمزور کے حق میں آواز اٹھانا یا کسی بے بس کو اس کے مشکل وقت میں سہارا دینا بظاہر معمولی اعمال ہیں، مگر یہی اعمال معاشرے میں اعتماد، محبت اور انسانیت کو زندہ رکھتے ہیں۔ جس معاشرے میں ہر شخص صرف اپنا فائدہ دیکھے، وہاں دولت تو جمع ہو سکتی ہے، مگر دلوں میں جگہ نہیں بنتی؛ تعلقات تو قائم ہو سکتے ہیں، مگر اخلاص پیدا نہیں ہوتا۔

            اسلام نے انسان کو صرف اپنے خالق کے حقوق ادا کرنے کی تعلیم نہیں دی، بلکہ بندوں کے حقوق کی ادائیگی کو بھی بنیادی اہمیت دی ہے۔ عبادت انسان کے تعلق کو اللہ تعالیٰ سے مضبوط کرتی ہے، جبکہ خدمت خلق اس کے اخلاق، کردار اور معاشرتی ذمہ داری کا اظہار کرتی ہے۔ نماز، روزہ اور توبہ اپنی جگہ عظیم عبادات ہیں، لیکن کسی انسان پر ظلم کرکے، اس کا حق دبا کر یا اس کی ضرورت سے بے اعتنائی برت کر محض عبادات کے ذریعے اپنی ذمہ داری سے سبک دوش نہیں ہوا جا سکتا۔ حقوق اللہ میں کوتاہی پر اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے معاف فرما سکتا ہے، لیکن حقوق العباد کا معاملہ اس لئے زیادہ حساس ہے کہ اس میں متاثرہ انسان کا حق بھی شامل ہے؛ اس کی تلافی اور معافی کا معاملہ محض زبانی توبہ سے ختم نہیں ہو جاتا۔

            اللہ کے رسولؐ  نے مفلس کی حقیقت بیان کرتے ہوئے اس شخص کا ذکر فرمایا جو قیامت کے دن نماز، روزہ اور زکوٰۃ لے کر آئے گا، لیکن اس نے کسی کو گالی دی ہوگی، کسی پر تہمت لگائی ہوگی، کسی کا مال کھایا ہوگا یا کسی پر ظلم کیا ہوگا۔ چنانچہ اس کی نیکیاں حق داروں کو دے دی جائیں گی اور جب نیکیاں ختم ہو جائیں گی تو ان کے گناہ اس پر ڈال دیئے جائیں گے۔ (صحیح مسلم)

            یہ حدیث ہمیں متنبہ کرتی ہے کہ نیکی کی حقیقت صرف اپنی نجات کی فکر میں محدود نہیں، بلکہ دوسروں کو اپنے شر سے محفوظ رکھنا اور ان کے حقوق ادا کرنا بھی اس کا لازمی حصہ ہے۔

            بالآخر انسان کی اصل قدر اس کی دولت، عہدے، شہرت یا سماجی حیثیت سے نہیں، بلکہ اس کردار سے متعین ہوتی ہے جو وہ ان لوگوں کے ساتھ اختیار کرتا ہے جن سے اسے کوئی فائدہ حاصل ہونے کی توقع نہیں ہوتی۔ طاقتور کے سامنے جھکنا اور کمزور کو نظرانداز کرنا مصلحت ہو سکتی ہے، اخلاق نہیں؛ ضرورت کے وقت کسی کا ساتھ دینا انسانیت ہے، اور کسی کی مجبوری کو اپنے مفاد کا ذریعہ بنانا اخلاقی زوال ہے۔

            انسانیت کا اصل امتحان یہ نہیں کہ ہم طاقتور کے ساتھ کیسا سلوک کرتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ کمزور کے ساتھ ہمارا رویہ کیا ہوتا ہے۔ اصول وہ نہیں جو ہم دوسروں کو سناتے ہیں، اصول وہ ہیں جن پر ہم اس وقت بھی قائم رہتے ہیں جب ان پر عمل کرنے میں ہمیں اپنا نقصان دکھائی دیتا ہو۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کا کردار اس کی زبان سے بلند ہو جاتا ہے اور انسانیت محض ایک لفظ نہیں، ایک زندہ حقیقت بن جاتی ہے۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

بی جے پی کا کوئی بھی نوجوان رہنما گاندھی کا مباحثے میں مقابلہ کرنے کے لیے کافی ہے: بی جے پی رہنما

Next Post

آپریشن لوٹس؟

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
رائے

غیر مجاز وصولیاں: مستقل حل تلاش کرنا ناگزیر                

2026-07-01
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

آوارہ کتوں کا بحران : اعداد و شمار سے آگے کی حقیقت

2025-10-30
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

ریاستی درجے کی بحالی :سیاسی جماعتیں لداخ سے کچھ سیکھیں

2025-10-29
کانگریسی قیادت ‘ بھاجپا کیلئے اثاثہ
اداریہ

نیتن یاہوکے وارنٹ گرفتار ی

2024-11-23
وادی میں گردوں کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوتاجارہا ہے
رائے

وادی میں گردوں کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوتاجارہا ہے

2023-02-25
Next Post
کانگریسی قیادت ‘ بھاجپا کیلئے اثاثہ

آپریشن لوٹس؟

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.