نیشنل کانفرنس کی کابینہ میں حالیہ توسیع اور ردوبدل کے بعد پارٹی کے اندر جو ناراضگی اور بے چینی پیدا ہوئی تھی، جمعہ کو پارٹی صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی ناراض اراکین اسمبلی کے ساتھ ملاقات کے بعد بظاہر اس صورتحال پر قابو پانے کی کوشش کی گئی ہے۔ تقریباً ۱۶ اراکین اسمبلی نے قیادت کے سامنے اپنے تحفظات رکھے اور انہیں حل کرنے کی یقین دہانی بھی حاصل کی۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے جہاں پارٹی میں ممکنہ تقسیم کی خبروں کو بے بنیاد قرار دیا، وہیں یہ بھی تسلیم کیا کہ اراکین اسمبلی کے مسائل حقیقی تھے اور قیادت نے انہیں سنجیدگی سے سنا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ان یقین دہانیوں پر کس حد تک عمل ہوتا ہے۔
جمہوری نظام میں اختلاف رائے کوئی غیر معمولی بات نہیں، بلکہ کسی بھی سیاسی جماعت کی مضبوطی کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ وہ اپنے اندر اٹھنے والی مختلف آوازوں کو کس حد تک برداشت کرتی ہے اور ان کے تحفظات کا کس طرح ازالہ کرتی ہے۔ اراکین اسمبلی عوام کے منتخب نمائندے ہیں اور انہیں اپنی جماعت کی قیادت کے سامنے سیاسی اور انتظامی مسائل رکھنے کا پورا حق حاصل ہے۔ تاہم یہ بھی ضروری ہے کہ داخلی اختلافات اس حد تک نہ بڑھیں کہ ان کا اثر حکومت کی کارکردگی اور عوامی معاملات پر پڑنے لگے۔ نیشنل کانفرنس جیسی ایک تجربہ کار جماعت سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اختلافات کو تصادم کے بجائے مشاورت کے ذریعے حل کرے گی۔
حالیہ کابینہ توسیع کے بعد سامنے آنے والی صورتحال نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ سیاسی فیصلے کرتے وقت پارٹی کے اندر مشاورت اور اعتماد سازی کتنی اہمیت رکھتی ہے۔ وزارتوں کی تقسیم یا کابینہ میں ردوبدل محض انتظامی فیصلہ نہیں ہوتا بلکہ اس کے سیاسی اثرات بھی ہوتے ہیں۔ اگر منتخب نمائندوں میں نظرانداز کیے جانے کا احساس پیدا ہو تو اس سے پارٹی کے اندر بے چینی جنم لیتی ہے۔ اس لیے قیادت کو آئندہ ایسے فیصلے کرتے وقت اپنے اراکین کو اعتماد میں لینے کی ضرورت ہے تاکہ اختلافات پیدا ہونے کے بعد انہیں سلجھانے کی نوبت ہی نہ آئے۔
تاہم اب جبکہ ناراض اراکین اور قیادت کے درمیان ملاقات ہو چکی ہے اور مسائل کے حل کی یقین دہانی بھی دی گئی ہے، ضروری ہے کہ اس معاملے کو مزید طول نہ دیا جائے۔ عوام کو اس بات سے کوئی سروکار نہیں کہ پارٹی کے اندر کون کس عہدے کا خواہش مند ہے یا وزارتوں کی تقسیم پر کس کے کیا تحفظات ہیں۔ عوام نے نیشنل کانفرنس کو جن توقعات کے ساتھ اقتدار سونپا تھا، ان کی تکمیل حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ انہیں بہتر انتظامیہ، بنیادی سہولیات، روزگار کے مواقع اور روزمرہ مسائل سے نجات درکار ہے۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے پاس اب آٹھ وزراء کی ٹیم موجود ہے۔ کابینہ کی توسیع کے بعد حکومت کے پاس یہ موقع ہے کہ وہ اپنی انتظامی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے کام کی رفتار تیز کرے۔ وزراء کو اپنے محکموں کی ذمہ داریاں سنبھالتے ہوئے کارکردگی بہتر بنانے اور عوامی شکایات کے ازالے پر توجہ دینی چاہیے۔ محکموں کے درمیان بہتر تال میل، سرکاری افسران کی جواب دہی اور ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے۔ سیاسی استحکام اسی وقت معنی رکھتا ہے جب اس کے نتیجے میں عوام کو بہتر حکمرانی میسر آئے۔
اس وقت حکومت کے سامنے سب سے اہم فوری چیلنج موسم سرما کی آمد ہے۔ وادی کشمیر میں سردی کی شدت بڑھنے کے ساتھ ہی بجلی کی فراہمی کا مسئلہ ایک مرتبہ پھر عوام کے لیے پریشانی کا باعث بن سکتا ہے۔ ہر سال موسم سرما میں غیر اعلانیہ بجلی کٹوتی، کم وولٹیج اور مقررہ شیڈول پر عمل درآمد نہ ہونے کی شکایات سامنے آتی ہیں۔ سرد موسم میں بجلی محض ایک سہولت نہیں بلکہ بنیادی ضرورت بن جاتی ہے۔ گھریلو صارفین کے علاوہ کاروباری ادارے، تعلیمی مراکز اور دیگر شعبے بھی بجلی کی مناسب فراہمی پر انحصار کرتے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس مرتبہ ماضی کی خامیوں سے سبق حاصل کرتے ہوئے بجلی کی معقول فراہمی کے لیے پہلے سے انتظامات کرے۔ اگر ترسیل اور تقسیم کے نظام میں خامیاں موجود ہیں تو انہیں دور کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے جانے چاہئیں۔
اسی طرح پینے کے پانی کی دستیابی، سڑکوں کی دیکھ بھال، برف باری کے دوران آمدورفت کی بحالی اور ضروری اشیائے خوردونوش کی فراہمی بھی اہم معاملات ہیں۔ بالائی اور دور دراز علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو موسم سرما کے دوران اضافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انتظامیہ کو ان علاقوں کے لیے پیشگی منصوبہ بندی کرنی چاہیے تاکہ برف باری اور شدید سردی کے دوران لوگوں کو بنیادی ضروریات سے محروم نہ ہونا پڑے۔ صحت عامہ کی سہولیات اور اسپتالوں میں مناسب انتظامات بھی اسی منصوبہ بندی کا حصہ ہونے چاہئیں۔
بے روزگاری، مہنگائی اور نوجوانوں کے مسائل بھی ایسے معاملات ہیں جنہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ حکومت کو ان مسائل کے حل کے لیے محض اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔ عوام کو اب حکومت کی کارکردگی اس بنیاد پر پرکھنے کا حق حاصل ہے کہ ان کے حالات میں کتنی بہتری آئی ہے۔
نیشنل کانفرنس کی قیادت نے ریاستی درجے کی بحالی اور دفعہ ۳۷۰ و ۳۵ اے کے حوالے سے اپنی جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ یہ جماعت کے اہم سیاسی مطالبات ہیں، تاہم ان کے ساتھ موجودہ انتظامی ذمہ داریوں کی ادائیگی بھی اتنی ہی ضروری ہے۔ عوام نے ایک منتخب حکومت کو اپنے روزمرہ مسائل حل کرنے اور بہتر مستقبل کی امید کے ساتھ اقتدار سونپا ہے۔
بہرحال، جمعہ کی ملاقات نے پارٹی کے اندر پیدا ہونے والی کشیدگی کم کرنے کا ایک موقع فراہم کیا ہے۔ اب اصل امتحان قیادت کا ہے کہ وہ اراکین اسمبلی سے کیے گئے وعدوں کو عملی جامہ پہنائے۔ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کو چاہیے کہ وہ داخلی سیاسی معاملات سے آگے بڑھ کر اپنی تمام تر توجہ حکمرانی کی بہتری پر مرکوز کریں۔ موسم سرما کی آمد کے پیش نظر بجلی سمیت بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ عوام کو سیاسی بیانات اور یقین دہانیوں سے زیادہ عملی نتائج درکار ہیں۔ حکومت اگر ان توقعات پر پورا اترنے میں کامیاب ہوتی ہے تو نہ صرف عوام کا اعتماد مضبوط ہوگا بلکہ پارٹی کے اندرونی اختلافات کی اہمیت بھی خودبخود کم ہو جائے گی۔






