چلئے جی، اسمبلی……. جموں کشمیر کی اسمبلی میں ریاستی درجے کی بحالی کے حق میں پیش کی گئی قرارداد پاس ہوگئی ہے۔ کہنے والوں کا کہنا ہے کہ قرارداد اچھے نمبروں سے پاس ہوئی۔ اس کا یہ مطلب ہے کہ قرارداد نے سخت محنت اور پڑھائی کی تھی، اسی لئے تو اسمبلی میں پاس ہوئی۔ اگر اس نے محنت نہ کی ہوتی تو یقینا پاس نہ ہوتی، فیل ہوتی……. جیسے وہ سب فیل ہوتے ہیں جو محنت نہیں کرتے ہیں۔کہنے والوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ قرارداد پاس ہونے کی خوشی میں نیشنل کانفرنس بہت خوش ہے اور وہ خوشی کے اس موقع پر خوشیاں منا رہی ہے……. نوائے صبح کمپلیکس میں چائے قہوے کا بھی اہتمام کیا گیا ہے اور لوگ وہاں ’مبارکس‘ بھی جا رہے ہیں۔خیر! ہم تو ’مبارکس‘ نہیں جائیں گے، لیکن مبارکباد ضرور دیں گے……. اس ایک چھوٹے سوال کے ساتھ کہ اب آگے کیا؟قرارداد کو اسمبلی میں پاس کرانا تو ٹھیک ہے، لیکن اب آگے کیا……. کیا قرارداد پاس ہونے سے ریاستی درجے کی بحالی ممکن ہے……. کیا اس سے وہ ’موزوں‘ اور ’مناسب وقت‘ وقت سے پہلے آئے گا؟ایسا ہم اس لئے پوچھ رہے ہیں کہ……. کہ ہم ڈر رہے ہیں۔ ہم اس لئے ڈر رہے ہیں کیونکہ ہمیں ڈرایا گیا……. ہمیں ایل او پی شرما صاحب کی باتوں نے ڈرایا ہے کہ……. کہ ان باتوں میں شرما صاحب صاف کہہ رہے ہیں کہ وزیر اعلیٰ اسمبلی میں یہ قرارداد لا کر ریاستی درجے کی بحالی کے عمل یا امکان کو سبوتاژ کر رہے ہیں یا ایسی کوشش کر رہے ہیں۔شرما جی جس انداز میں بول رہے ہیں، ہمیں تو اس سے دو باتیں سمجھ آگئیں……. پہلی بات یہ کہ شرما جی ایسے کہہ رہے تھے، گویا ریاستی درجہ بس بحال ہونے ہی والا تھا کہ اسمبلی کی یہ کم بخت قرارداد حائل ہو گئی اور……. اور دوسری بات یہ کہ ہمیں لگا کہ شرما جی ہمیں کہہ رہے ہیں……. یہ کہہ رہے ہیں کہ جناب! اب بھول جائیے ریاستی درجے کی بحالی کے خواب کو، بھول جائیے کہ……. کہ اسمبلی میں اس کے حق میں قرارداد لا کر، اسے منظور کرکے اصل میں اس کے ہونے کے……. اس کے بحال ہونے کے امکانات کو تقریباً تقریباً ختم کردیا گیا ہے……. دفن کردیا گیا ہے۔اور شاید یہی خوف اور ڈر ہمارے من میں گھر کر گیا ہے اور اسی لئے ہم این سی والوں کو ’مبارکس‘ نہیں جا رہے ہیں……. بالکل بھی نہیں جا رہے ہیں۔
ہے نا؟
۔۔۔۔۔۔۔۔




