نئی دہلی؍۷؍ اگست
چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت نے کہا ہے کہ ایسی کوئی وجہ نہیں کہ بھارت عالمی سطح پر ثالثی کا ایک اہم مرکز نہ بن سکے۔
وہ آج یہاں مادھیم انٹرنیشنل کونسل فار کانفلکٹ ریزولوشن کے زیر اہتمام منعقدہ انٹرنیشنل اے ڈی آر کانفرنس۲۰۲۶ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ میڈی ایشن ایکٹ۲۰۲۳ نے پہلی مرتبہ متبادل طریقۂ حلِ تنازعات کے اس نظام کو ایک آزاد اور جامع قانونی ڈھانچہ فراہم کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کے ثالثی ادارے اب اس قابل ہو چکے ہیں کہ وہ پیچیدہ اور سرحد پار تنازعات کو بھی اسی اعتماد کے ساتھ نمٹا سکیں، جس طرح دنیا بھر میں بین الاقوامی فریقین تجارتی تنازعات کے حل کے لیے ثالثی کے نظام پر اعتماد کرتے ہیں۔
چیف جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ یہ کامیابی بھارتی عدلیہ، عدالتوں سے منسلک ثالثی مراکز اور دیگر متعلقہ اداروں کی مسلسل، سنجیدہ اور دانشمندانہ کاوشوں کی بدولت ممکن ہوئی ہے۔انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ موجودہ قانونی اور ادارہ جاتی ڈھانچے کی بدولت بھارت مستقبل میں عالمی سطح پر ثالثی کے ایک نمایاں مرکز کے طور پر ابھر سکتا ہے۔










