(ایجنسیا)
نئی دہلی؍۲۸ستمبر
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے پیر کو دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں ’’صفر تاخیر‘‘ یقینی بنانے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ملک کے انسداد دہشت گردی کے فریم ورک ’پراہار‘ کی ہر سطح پر ایک ’’خودکار ردعمل کے طریقہ کار‘‘ کو ادارہ جاتی شکل دینے پر زور دیا۔
شاہ نے ’پراہار—انسداد دہشت گردی پالیسی اور حکمت عملی‘ کے موضوع پر منعقدہ کانفرنس کا افتتاح کرتے ہوئے ایک خصوصی حوالگی پورٹل بھی شروع کیا، جس کا مقصد بیرون ملک موجود مفرور افراد کو بھارت واپس لانے کی کوششوں میں تیزی لانا ہے۔
ذرائع کے مطابق نئے پورٹل کے ذریعے وزارت داخلہ، وزارت خارجہ، مرکزی تفتیشی بیورو اور ریاستی ایجنسیوں کو حوالگی کی کارروائی کے لیے ایک ہی پلیٹ فارم پر لایا گیا ہے۔ جب کسی مفرور شخص کو بیرون ملک حراست میں لیا جاتا ہے اور مجاز عدالت کی منظوری کے بعد متعلقہ ملک کو حوالگی کی درخواست بھیجنی ہوتی ہے تو یہ پورٹل مختلف اداروں کے درمیان کارروائی کو مربوط کرنے میں مدد دے گا۔
مرکزی وزیر داخلہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں حکومت ہند نے دہشت گردی کی تمام شکلوں اور مظاہر کے خلاف ’’زیرو ٹالرنس‘‘ کی پالیسی اختیار کر رکھی ہے۔
انہوں نے دہشت گردی کے واقعات کے مسلسل تجزیے کے ذریعے ’پراہار‘ حکمت عملی کو مسلسل مضبوط اور بہتر بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ۱۰ برسوں کے لیے ایک مضبوط اور ٹھوس ’پراہار‘ نظام قائم کیا جانا چاہیے۔
’پراہار‘ کے اصولوں کو تھانہ کی سطح تک پہنچانے پر زور دیتے ہوئے امت شاہ نے اس اقدام کے ہر پہلو کے حوالے سے فعال اور پیشگی حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
دہشت گردی کے خطرات کو کم کرنے کے لیے اٹھائے گئے مختلف اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے فریم ورک کی ہر سطح پر خودکار انسدادِ دہشت گردی ردعمل کے نظام کو ادارہ جاتی شکل دینے کی وکالت کی۔
شاہ نے ’پراہار‘ کے ہر ستون کے حوالے سے نتائج پر مبنی طریقہ کار اپنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے تمام متعلقہ فریقوں کے درمیان مؤثر رابطے کی اپیل کی، تاکہ کارروائی میں کسی بھی قسم کی تاخیر کو روکا جاسکے
۔۔۔۔۔۔










