جموں؍۲۸ ستمبر
چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف ’’ووٹ چوری‘‘ کے الزامات پر ان کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے زیر اہتمام ڈسٹرکٹ کانگریس کمیٹی جموں اربن نے پیر کو ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھا کر اور نعرے بازی کرتے ہوئے احتجاج کیا۔
کانگریس رہنماؤں نے یہاں شہیدی چوک پر احتجاج کیا اور ڈپٹی کمشنر کے دفتر کی جانب مارچ کیا، تاہم پولیس کی بھاری تعیناتی کے باعث مارچ کو ناکام بنا دیا گیا۔
احتجاج کی قیادت سابق وزیر یوگیش ساونی، ڈی سی سی جموں اربن کے صدر اور ڈی سی سی جموں رورل کے صدر نیرج کندن نے کی، جبکہ احتجاج کی صدارت پی سی سی کے ورکنگ صدر رمن بھلا اور سابق وزیر ملا رام نے کی۔ اس موقع پر کانگریس کے سینئر رہنما اور کارکن بھی موجود تھے۔
میڈیا سے بات کرتے ہوئے پی سی سی کے ورکنگ صدر رمن بھلا نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو اپنی آئینی ذمہ داری نبھاتے ہوئے انتخابی عمل میں مکمل شفافیت کو یقینی بنانا چاہیے۔
بھلا نے کہا کہ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے تین سال قبل ہی ملک کے سامنے ’’ووٹ چوری‘‘ کے خدشات کا اظہار کیا تھا اور کہا کہ اس کے بعد سے گینیش کمار اور ان کی ٹیم انتخابی بے ضابطگیوں میں ملوث رہی ہے۔
کانگریسی لیڈر نے کہا کہ انتخابات کی سالمیت سے متعلق الزامات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور حکام سے مطالبہ کیا کہ اپوزیشن اور عوام کی جانب سے اٹھائے گئے خدشات کا شفاف اور قابل اعتماد طریقہ کار کے ذریعے ازالہ کیا جائے۔
اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ڈی سی سی جموں اربن کے صدر اور سابق وزیر یوگیش ساونی نے ’’ووٹ چوری‘‘ کے الزامات پر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے فوری استعفے اور گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
ساونی نے کہا کہ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے تین سال قبل ملک کے سامنے ’’ووٹ چوری‘‘ کے خدشات اٹھائے تھے اور دعویٰ کیا کہ اس کے بعد سے گیانیش کمار اور ان کی ٹیم انتخابی بے ضابطگیوں میں ملوث رہی ہے۔انہوں نے کہا، ’’ووٹ چوری بند ہونی چاہیے اور گیانیش کمار کو فوری طور پر گرفتار کیا جانا چاہیے۔‘‘
انہوں نے مزید مطالبہ کیا کہ گیانیش کمار کے چیف الیکشن کمشنر کی حیثیت سے دورِ کار میں جاری کیے گئے تمام احکامات اور لیے گئے فیصلوں کو منسوخ کیا جائے۔ انہوں نے اس معاملے پر حکومت کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی کے استعفے کا بھی مطالبہ کیا۔
سابق وزیر ساونی نے کہا کہ جمہوری اداروں کی ساکھ اور آزادی کا تحفظ کیا جانا چاہیے اور عوام انتخابی عمل میں شفافیت اور جواب دہی کے حقدار ہیں۔
انہوں نے الیکشن کمیشن اور حکومت پر زور دیا کہ وہ انتخابی سالمیت کے حوالے سے اٹھائے جانے والے سنگین خدشات کا جواب دیں۔
۔۔۔۔۔۔(ایجنسیاں )










