ہم نے سنا تھا، اور ہمیں یقین ہے کہ آپ نے بھی سنا ہی ہو گا۔ یہ سنا ہو گا کہ جب لکیر کو چھوٹا کرنا ہو تو اس کے متصل ایک لمبی لکیر کھینچ لینی چاہئے، پہلی والی لکیر خود بخود چھوٹی ہو جائے گی ……. ایسا ہی کچھ اپنے وزیر اعلیٰ، عمر عبداللہ، کے ساتھ کیا جا رہا ہے ……. کون کر رہا ہے؟ اجی بی جے پی کے بغیر کس کی ہمت ہے جو جموں و کشمیر کی لولی لنگڑی حکومت کے وزیر اعلیٰ سے ہاتھ بھی لگائے ……. یہ ہمت، یہ حوصلہ صرف بی جے پی میں ہی ہے، وہی یہ جسارت کر سکتی ہے اور اللہ میاں، کر بھی رہی ہے۔اپنے وزیر اعلیٰ ریاستی درجے کی بحالی کا جب جب بھی راگ الاپتے ہیں تو ……. تو بی جے پی اُدھر سے ایسے سُر بکھیر دیتی ہے کہ وزیر اعلیٰ کا الاپا ہوا ریاستی درجے کی بحالی کے راگ کے حصے بخرے ہو جاتے ہیں۔ اور یوں وزیر اعلیٰ کی کھینچی ہوئی لکیر، بی جے پی کی لکیر کے سامنے خود بخود چھوٹی پڑ جاتی ہے۔بی جے پی کے سنیل شرما، جن کے بارے میں اب بھی کہتا ہوں کہ ……. کہ یہ وزیر اعلیٰ کے ساتھ فرینڈلی میچ کھیل رہے ہیں، کا اب مطالبہ ہے کہ ریاستی اسمبلی کو تحلیل کیا جائے۔ کل تک یہ جناب کہہ رہے تھے کہ ریاستی درجے کی بحالی کے لیے نئے الیکشن ……. اسمبلی الیکشن ضروری ہیں، اور آج یہ جناب ایک قدم آگے چل کر اسمبلی کو ہی تحلیل کرنے کی مانگ کر رہے ہیں۔۔۔ یقین کریں کہ ان کے اس مطالبے میں کوئی منطق نہیں ہے، اور یہ بات شرما جی بھی جانتے ہوں گے اور ……. اور سو فیصد جانتے ہوں گے ……. لیکن یہ بھی کیا کریں کہ انہیں ہدایت دی گئی ہے ……. یہ ہدایت کہ جب بھی وزیر اعلیٰ لکیر کھینچ لیں گے تو ……. ان کی کھینچی ہوئی لکیر کو چھوٹا بنانا ہو گا، اور ……. اور شرما جی یہی کام کر رہے ہیں ……. وزیر اعلیٰ کی لکیر کو مٹائے بغیر ان کی کھینچی ہوئی لکیر کو چھوٹا کرنے کا کام ……. ہمیں یقین ہے اور سو فیصد یقین ہے کہ وزیر اعلیٰ جب جب بھی ایسی باتیں سنتے ہوں گے ……. شرما جی کی باتیں سنتے ہوں گے تو ان کے تن بدن میں آگ لگتی ہو گی، اور ……. اور اس لیے لگتی ہو گی کیونکہ ان کی ان باتوں کا کوئی تُک نہیں ہوتا ہے ……. بالکل بھی نہیں ہوتا ہے ……. لیکن یہ بھی سچ ہے کہ وزیر اعلیٰ ان کی ان بے تُکی باتوں سے ہی تو پریشان ہوں گے یا انہیں پریشان کیا جائے گا۔۔۔ اتنا کہ وزیر اعلیٰ صاحب ریاستی درجے کی بحالی کی بات کرنا ہی چھوڑ دیں گے ……. ہے نا؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔




