جموں میں سالگرہ کی ایک تقریب کے دوران کیک چہرے پر لگانے جیسی بظاہر معمولی بات پر ایک نوجوان کی جان چلی جاناہمارے معاشرے کے لیے ایک گہرا سوال چھوڑ گیا ہے۔ پولیس کے مطابق نیرج عرف ’’انشو‘‘ نے اپنے دوست پون نائر عرف سمیر پر تیز دھار ہتھیار سے حملہ کیا، جس کے نتیجے میں وہ جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ دونوں کے درمیان تلخ کلامی کی وجہ بھی کوئی بڑا تنازع نہیں بلکہ کیک چہرے پر لگانے کا معاملہ بتایا گیا ہے۔ ایک لمحے کا غصہ، ہاتھ میں موجود ہتھیار، چند وار اور ایک گھر کا چراغ ہمیشہ کے لیے بجھ گیا۔ سوال یہ ہے کہ ہم آخر کہاں پہنچ رہے ہیں؟
یہ کہنا شاید جلد بازی ہوگی کہ صرف اس ایک واقعے کی بنیاد پر پورے جموں و کشمیر کے نوجوانوں کو عدم برداشت کا شکار قرار دے دیا جائے۔ ہمارے نوجوانوں کی اکثریت ذمہ دار، محنتی اور امن پسند ہے۔ لیکن ایسے واقعات بار بار سامنے آئیں تو ان کے پیچھے موجود سماجی ذہنیت پر غور کرنا ضروری ہوجاتا ہے۔ مسئلہ صرف یہ نہیں کہ ایک شخص نے غصے میں آکر انتہائی قدم اٹھایا، بلکہ یہ ہے کہ معمولی اختلاف یا مذاق برداشت کرنے کی ہماری صلاحیت آخر کم کیوں ہورہی ہے؟ ایک لفظ، ایک اشارہ، ایک طنز، ایک بحث یا معمولی توہین کا احساس بعض اوقات ایسا غصہ کیوں پیدا کردیتا ہے جو انسان کو اپنے ہی دوست یا جاننے والے کے خلاف تشدد پر آمادہ کر دیتا ہے؟
نوجوانی ویسے بھی جذبات کی عمر ہوتی ہے۔ اس مرحلے میں انسان اپنی شناخت، عزت، سماجی حیثیت اور قبولیت کے بارے میں زیادہ حساس ہوتا ہے۔ لیکن یہی حساسیت اگر برداشت، تربیت اور خود پر قابو پانے کی صلاحیت کے بغیر پروان چڑھے تو معمولی اختلاف بھی انا کا مسئلہ بن سکتا ہے۔ پھر انا کو دھچکا لگے تو انسان دلیل کے بجائے طاقت کا سہارا لینے لگتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں یہ رجحان صرف نوجوانوں تک محدود نہیں، لیکن نوجوان نسل پر اس کے اثرات زیادہ خطرناک ہوسکتے ہیں کیونکہ ان کے ہاتھ میں جسمانی توانائی، جذباتی بے قراری اور بعض اوقات خطرناک چیزوں تک آسان رسائی بھی ہوتی ہے۔
اس مسئلے کا ایک پہلو ذہنی دباؤ بھی ہے۔ آج کا نوجوان کئی طرح کے دباؤ میں گھرا ہوا ہے۔ روزگار کے محدود مواقع، مسابقت، معاشی مشکلات، مستقبل کے بارے میں بے یقینی، خاندانی توقعات، سوشل میڈیا کا مسلسل دباؤ اور دوسروں سے اپنے آپ کا موازنہ، یہ سب ذہنی بوجھ بڑھاتے ہیں۔ ہر نوجوان ان مسائل کا شکار نہیں ہوتا، لیکن جب ذہنی دباؤ کے ساتھ غصے کو قابو کرنے کی تربیت بھی کم ہو، تو چھوٹی بات بڑے ردعمل کی صورت اختیار کرسکتی ہے۔
سوشل میڈیا نے اس مسئلے کو ایک نئی شکل دی ہے۔ وہاں اختلاف کو اکثر بحث کے بجائے جنگ سمجھا جاتا ہے۔ دوسروں کو نیچا دکھانا، سخت زبان استعمال کرنا، فوری ردعمل دینا اور اپنے مؤقف کو ہر حال میں درست ثابت کرنا معمول بنتا جارہا ہے۔ نوجوان جب روزانہ ایسی گفتگو دیکھتے ہیں تو ممکن ہے کہ یہ طرز عمل ان کی حقیقی زندگی کے رویوں پر بھی اثر ڈالے۔ پہلے اختلاف پر خاموشی، مسکراہٹ یا نظرانداز کرنا ممکن تھا، اب بعض اوقات فوری جواب دینا ضروری سمجھا جاتا ہے۔ یہی فوری ردعمل جب غصے میں بدل جائے تو صورتحال خطرناک ہوسکتی ہے۔
ایک اور مسئلہ تشدد کو معمولی سمجھنے کا ہے۔ ہمارے معاشرے میں بعض اوقات لڑائی جھگڑے کو ’’مردانگی‘‘، ’’عزت‘‘ یا ’’غیرت‘‘ کے ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے۔ یہ سوچ انتہائی خطرناک ہے۔ کسی کی بے عزتی کا جواب ہاتھ اٹھا کر دینا، ایک بحث کا جواب دھمکی سے دینا یا معمولی تنازع کو طاقت کے ذریعے ختم کرنا بہادری نہیں، بلکہ خود پر قابو نہ رکھنے کی علامت ہے۔ ہمیں اپنے نوجوانوں کو یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ اصل طاقت غصہ دکھانے میں نہیں بلکہ غصے کو قابو کرنے میں ہے۔
ہتھیاروں تک رسائی بھی اس بحث کا اہم پہلو ہے۔ ایک معمولی جھگڑا اگر خالی ہاتھ ہو تو شاید چند تلخ جملوں، دھکم پیل یا وقتی ناراضی تک محدود رہ جائے، لیکن اگر کسی شخص کے پاس تیز دھار ہتھیار یا کوئی اور خطرناک چیز موجود ہو تو چند سیکنڈ میں صورتحال ناقابلِ واپسی ہوجاتی ہے۔ اس لیے غیر قانونی ہتھیاروں کی موجودگی، ان کی آسان دستیابی اور ان کے استعمال کے خلاف مسلسل کارروائی ناگزیر ہے۔ کسی بھی معاشرے میں امن صرف قانون بنانے سے نہیں بلکہ قانون کے مؤثر نفاذ سے قائم رہتا ہے۔
لیکن صرف پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ گھر، اسکول، کالج اور معاشرہ سب کو اپنا حصہ ادا کرنا ہوگا۔ والدین کو بچوں کی صرف تعلیمی کامیابی نہیں بلکہ ان کے جذباتی رویوں پر بھی توجہ دینا ہوگی۔ اسکولوں اور کالجوں میں غصے پر قابو پانے، اختلاف کو پرامن انداز میں حل کرنے اور ذہنی دباؤ سے نمٹنے کی بنیادی تربیت ہونی چاہیے۔ نوجوانوں کے لیے کھیل، ثقافتی سرگرمیاں، مباحثے اور مثبت سماجی مشغلے بھی ضروری ہیں تاکہ توانائی اور جذبات کے اظہار کے صحت مند راستے موجود رہیں۔
ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ کیا ہمارے نوجوانوں کے پاس اپنی پریشانی، غصے یا مایوسی کے اظہار کے لیے محفوظ جگہیں موجود ہیں؟ اکثر ایک نوجوان غصے میں اس لیے بھی پھٹ پڑتا ہے کیونکہ وہ اپنی اندرونی کیفیت کسی کے ساتھ بانٹ نہیں پاتا۔ خاندان میں گفتگو کم ہو، دوستوں میں صرف مذاق اور دکھاوے کی باتیں ہوں اور معاشرہ کمزوری کے اظہار کو ناپسند کرے تو انسان اپنے اندر بہت کچھ جمع کرتا رہتا ہے۔ پھر ایک دن معمولی واقعہ اس جمع شدہ غصے کا سبب بن جاتا ہے۔
پون نائر کی موت ہمیں یہی سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ تشدد ہمیشہ بڑے تنازع سے پیدا نہیں ہوتا۔ کبھی ایک چھوٹی سی بات، چند سیکنڈ کا غصہ اور ایک غلط فیصلہ پوری زندگی بدل دیتا ہے۔ ایک نوجوان جیل پہنچ جاتا ہے، ایک خاندان اپنے بیٹے سے محروم ہوجاتا ہے، دوسرے خاندان کے لیے قانونی اور جذباتی مشکلات شروع ہوجاتی ہیں اور معاشرہ ایک ایسے واقعے کا گواہ بن جاتا ہے جسے چند لمحے پہلے کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا تھا۔
اس لیے ہمیں اپنے نوجوانوں میں عدم برداشت کے بڑھنے کے خدشے کو سنجیدگی سے لینا ہوگا، لیکن خوف اور الزام کے ساتھ نہیں، بلکہ اصلاح اور تربیت کے ساتھ۔ ہر ناراض نوجوان مجرم نہیں اور ہر غصہ قتل میں تبدیل نہیں ہوتا۔ مگر ہر ایسا واقعہ ہمیں خبردار ضرور کرتا ہے کہ جذباتی ضبط، اختلاف برداشت کرنے اور تنازع کو پرامن طریقے سے حل کرنے کی صلاحیت کو اب ہماری سماجی ترجیحات میں شامل کرنا ہوگا۔
جموں و کشمیر کا نوجوان ہمارے معاشرے کا سب سے قیمتی اثاثہ ہے۔ اس کے ہاتھ میں مستقبل ہونا چاہیے، ہتھیار نہیں؛ اس کی زبان پر دلیل ہونی چاہیے، دھمکی نہیں؛ اس کے ذہن میں امید ہونی چاہیے، انتقام نہیں۔ اگر ہم یہ بنیادی سبق اپنے گھروں، تعلیمی اداروں اور معاشرے میں نہیں دے سکے تو معمولی واقعات بڑے سانحات میں بدلتے رہیں گے۔ اور ہر بار ہمارے پاس افسوس کے سوا کچھ نہیں بچے گا۔
۔۔۔۔۔۔



