وفاقی وزیر داخلہ امت شاہ نے یہ اعلان کرکے کہ مرکزی حکومت نے بھارت کو ۲۰۲۹ تک منشیات سے پاک بنانے کا ہدف مقرر کیا ہے، ملک کو درپیش ایک انتہائی سنگین مسئلے کے خلاف جنگ کو ایک واضح مدت اور سمت فراہم کردی ہے۔ وزیر داخلہ کے مطابق حکومت نے منشیات کے پورے نیٹ ورک کو ختم کرنے کے لیے ایک جامع منصوبہ تیار کیا ہے، جس میں منشیات کی اسمگلنگ اور اس کی مالی معاونت سے لے کر علاج، بحالی اور روزگار تک کے اقدامات شامل ہیں۔ بلاشبہ یہ ایک بڑا ہدف ہے، لیکن اس ہدف کی اصل اہمیت ان علاقوں کے لیے کہیں زیادہ ہے جہاں منشیات کا مسئلہ محض ایک سماجی برائی نہیں رہا بلکہ نوجوان نسل، خاندانوں، معیشت اور داخلی سلامتی کے لیے خطرہ بنتا جارہا ہے۔ جموں و کشمیر بھی انہی علاقوں میں شامل ہے۔
گزشتہ چند برسوں کے دوران جموں و کشمیر میں منشیات کے استعمال اور اس کے کاروبار میں جس تیزی سے اضافہ دیکھنے کو ملا ہے، وہ تشویش کا باعث ہے۔ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے مسلسل کارروائیاں کررہے ہیں۔ منشیات کی کھیپیں ضبط کی جارہی ہیں، اسمگلروں اور منشیات فروشوں کو گرفتار کیا جارہا ہے، ان کی جائیدادیں سربمہر یا منہدم کی جارہی ہیں اور ایسے سرکاری ملازمین کے خلاف بھی کارروائی ہوئی ہے جن کا منشیات کی اسمگلنگ سے تعلق ثابت ہوا۔ بظاہر یہ سب اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ حکومت مسئلے کی سنگینی سے آگاہ ہے اور اس کے خلاف کارروائی بھی کررہی ہے۔ مگر اس کے باوجود صورتحال میں وہ بہتری دکھائی نہیں دے رہی جس کی توقع کی جانی چاہیے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ’’مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی‘‘۔
یہ صورتحال اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ منشیات کے خلاف موجودہ حکمت عملی کا ازسرنو جائزہ لیا جائے۔ سوال صرف یہ نہیں کہ کتنے افراد گرفتار ہوئے یا کتنی مقدار میں منشیات ضبط کی گئیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ اگر ہر سال کارروائیاں بڑھ رہی ہیں تو منشیات کی دستیابی، اس کے استعمال اور اس کاروبار سے وابستہ نئے لوگوں کی تعداد کیوں کم نہیں ہورہی؟ اگر اسمگلروں کی جائیدادیں ضبط یا منہدم کی جارہی ہیں تو پھر منشیات کا نیا نیٹ ورک کہاں سے اور کیسے پیدا ہورہا ہے؟ اور اگر نوجوانوں کو منشیات کے نقصانات سے مسلسل آگاہ کیا جارہا ہے تو پھر نشے کی طرف ان کا بڑھتا ہوا رجحان اس بات کی نشاندہی نہیں کرتا کہ محض آگاہی مہمیں کافی نہیں؟
وفاقی وزیر داخلہ کا ۲۰۲۹ کا ہدف اسی مقام پر جموں و کشمیر کے لیے غیر معمولی اہمیت اختیار کرجاتا ہے۔جموں و کشمیر میں منشیات کا مسئلہ دوہری نوعیت رکھتا ہے۔ ایک طرف یہ نوجوانوں کی صحت، تعلیم، روزگار اور مستقبل کو متاثر کررہا ہے، دوسری طرف سرحد پار سے منشیات کی اسمگلنگ کے ذریعے غیر قانونی نیٹ ورک کو مالی وسائل فراہم ہونے کا خدشہ بھی موجود ہے۔ چنانچہ منشیات کے خلاف کارروائی کو محض جرائم پیشہ افراد کی گرفتاری تک محدود رکھنا کافی نہیں۔ جس نیٹ ورک کے ذریعے منشیات یہاں پہنچتی ہیں، جس نظام کے ذریعے اس کی ترسیل ہوتی ہے اور جس مالی ڈھانچے سے اس کاروبار کو طاقت ملتی ہے، اس پورے سلسلے کو توڑنا ہوگا۔
تاہم اس جنگ کا دوسرا اور شاید زیادہ اہم محاذ طلب میں کمی ہے۔ جب تک منشیات خریدنے والے موجود رہیں گے، منشیات کا کاروبار کسی نہ کسی شکل میں جاری رہے گا۔ ایک اسمگلر گرفتار ہوگا تو دوسرا اس کی جگہ لے سکتا ہے، ایک راستہ بند ہوگا تو دوسرا راستہ تلاش کیا جاسکتا ہے، لیکن اگر معاشرے میں منشیات کی طلب ہی کم ہوجائے تو اس پورے کاروبار کی بنیاد کمزور پڑ جائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ وزیر داخلہ کی جانب سے علاج، کونسلنگ، بحالی اور روزگار کو منشیات مخالف مہم کا حصہ قرار دینا خاص اہمیت رکھتا ہے۔
جموں و کشمیر میں بھی یہی جامع نقطۂ نظر اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ نشے کے عادی ہر شخص کو محض مجرم سمجھنا مسئلے کا مکمل حل نہیں۔ جو لوگ منشیات کا کاروبار کرتے ہیں اور نوجوانوں کو اس دلدل میں دھکیلتے ہیں، ان کے خلاف سخت ترین کارروائی ہونی چاہیے؛ لیکن جو افراد نشے کے عادی ہوچکے ہیں، ان کے لیے علاج، ذہنی معاونت، بحالی اور معاشرے میں دوبارہ باعزت زندگی شروع کرنے کے مواقع بھی پیدا کرنا ہوں گے۔ ورنہ گرفتاریاں اور مقدمات بڑھتے رہیں گے لیکن نشے کے شکار افراد کی تعداد کم نہیں ہوگی۔
اس ضمن میں خاندان، تعلیمی ادارے، مذہبی و سماجی تنظیمیں اور مقامی برادریاں بھی اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔ نوجوانوں کو صرف یہ بتانا کافی نہیں کہ منشیات بری ہیں۔ انہیں ایک ایسا ماحول بھی دینا ہوگا جہاں تنہائی، بے مقصدیت، مایوسی اور بے روزگاری انہیں نشے کی طرف نہ دھکیلیں۔ کھیل، تعلیم، ہنر، روزگار اور مثبت سماجی سرگرمیوں کے مواقع بڑھانا بھی دراصل منشیات کے خلاف جنگ کا حصہ ہے۔
مرکز کا ۲۰۲۹ کا ہدف جموں و کشمیر کے لیے اس اعتبار سے بھی اہم ہے کہ اس کے ذریعے مرکزی اور مقامی اداروں کے درمیان زیادہ مضبوط تعاون، وسائل اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔ منشیات کے خلاف کارروائی میں صرف مقدار ضبط کرنے کے بجائے یہ بھی دیکھا جانا چاہیے کہ وہ کہاں سے آئی، کس نے بھیجی، کس نے رقم فراہم کی، کن راستوں سے گزری اور اس رقم کا استعمال کہاں ہوا۔ یعنی کارروائی سپلائی چین کے آخری سرے پر موجود چھوٹے منشیات فروش تک محدود نہ رہے بلکہ پورے مالی اور انتظامی نیٹ ورک تک پہنچے۔
اسی طرح قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اندر بھی احتساب ناگزیر ہے۔ اگر کسی سرکاری ملازم یا اہلکار کا منشیات کے کاروبار سے تعلق ثابت ہوتا ہے تو اس کے خلاف کارروائی محض ایک مثال قائم کرنے کے لیے نہیں بلکہ ادارہ جاتی صفائی کے حصے کے طور پر ہونی چاہیے۔ منشیات کا کاروبار اس وقت زیادہ خطرناک ہوجاتا ہے جب اسے کسی سرکاری یا بااثر حلقے کی پشت پناہی حاصل ہوجائے۔
جموں و کشمیر کے لیے اصل کامیابی یہ نہیں ہوگی کہ منشیات کی کتنی کھیپیں پکڑی گئیں، بلکہ یہ ہوگی کہ کتنے نوجوان اس لعنت سے بچائے گئے، کتنے متاثرہ افراد صحت یاب ہوکر معمول کی زندگی میں واپس آئے اور منشیات کے کاروبار کا نیٹ ورک کس حد تک کمزور ہوا۔ اگر اس قومی ہدف کو اسی جامع انداز میں جموں و کشمیر میں نافذ کیا گیا تو ۲۰۲۹ کا خواب محض سرکاری نعرہ نہیں رہے گا بلکہ ایک ایسی نسل کی بنیاد بن سکتا ہے جو نشے سے نہیں، علم، ہنر اور امید سے اپنا مستقبل تعمیر کرے۔





