جمعرات, اگست 27, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اداریہ

مالی خود مختاری: جموں کشمیر آخر کب اپنے پاؤں پر کھڑا ہوگا؟                

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-08-27
in اداریہ
A A
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

متعلقہ

استعفیٰ نہیں، مینڈیٹ کا احترام ضروری ہے

بجلی کے نرخ اور وعدوں کا بوجھ                

 جموں کشمیر کی حکمران جماعت‘ نیشنل کانفرنس کے صدر‘ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے ایک حالیہ بیان نے خطے کے دیرینہ مالی بحران کو ایک بار پھر بحث کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے۔ بجلی کے نرخوں میں حالیہ اضافے پر سوال کیا گیا تو ڈاکٹر فاروق نے یہ سوال اٹھایا کہ جموں کشمیر آخر کب تک دہلی کی طرف دیکھتا رہے گا اور کب اپنے پاؤں پر کھڑا ہوگا۔ بظاہر یہ جواب بجلی کے نرخوں سے متعلق تھا، مگر اس کے اندر ایک بہت بنیادی اور اہم سوال پوشیدہ ہے:ٓخر جموں کشمیر مالی طور پر خود مختار کیوں نہیں بن سکتا؟ اسے اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے بار بار مرکزی حکومت کی طرف کیوں دیکھنا پڑتا ہے؟

                یہ سوال کسی سیاسی بحث، مرکز اور جموں کشمیر کے تعلقات یا مالی امداد کی مخالفت کا سوال نہیں۔ دنیا کی ہر وفاقی اکائی کو ضرورت کے مطابق مرکز سے وسائل ملتے ہیں اور بھارت کی ریاستوں کو بھی مرکزی محاصل میں حصہ اور مختلف مدوں میں امداد حاصل ہوتی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ جموں کشمیر کی اپنی آمدنی اور اس کے اخراجات کے درمیان جو بڑا خلا ہے، وہ اب ایک مستقل ساختی مسئلہ بن چکا ہے۔

                وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے خود بجٹ پیش کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ جموں کشمیر کی اپنی ٹیکس اور غیر ٹیکس آمدنی بجٹ کی ضروریات کا صرف تقریباً ایک چوتھائی پورا کرتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ تنخواہوں، پنشن اور قرضوں کی ادائیگی جیسے لازمی اخراجات مالی دباؤ کی بنیادی وجہ ہیں۔ 2026-27 میں ان تین مدوں پر مجموعی طور پر 52,743 کروڑ روپے خرچ ہونے کا اندازہ ہے۔

                وزیراعلیٰ کا یہ مؤقف اپنی جگہ درست ہے کہ موجودہ آمدنی کے ڈھانچے میں سرکاری ملازمین کی تنخواہیں، پنشن اور قرضوں کی ادائیگی ایک بھاری بوجھ ہیں۔ مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا کبھی اس مسئلے کی جڑ تک پہنچنے کی سنجیدہ کوشش ہوئی؟ کیا کبھی یہ طے کیا گیا کہ اگلے دس، پندرہ یا بیس برس میں جموں کشمیر اپنی داخلی آمدنی کو کس سطح تک لے جائے گا؟ کیا آمدنی بڑھانے، نئی معاشی سرگرمیاں پیدا کرنے، نجی سرمایہ کاری لانے اور سرکاری اداروں کو پیداواری بنانے کے لیے کوئی واضح اور مسلسل معاشی حکمت عملی اختیار کی گئی؟

                صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ آمدنی کم ہے اور اخراجات زیادہ ہیں۔ سوال یہ ہونا چاہیے کہ آمدنی کم کیوں ہے؟جموں کشمیر قدرتی وسائل، زراعت، باغبانی، سیاحت، دستکاری، جنگلات اور پن بجلی کے اعتبار سے ایک غیر معمولی خطہ ہے۔ خاص طور پر پن بجلی اس خطے کی سب سے بڑی معاشی صلاحیتوں میں سے ایک ہے۔

                 سرکاری ہائیڈرو پاور پالیسی کے مطابق جموں کشمیر میں مجموعی طور پر تقریباً 18 ہزار میگاواٹ پن بجلی کی صلاحیت کا اندازہ ہے، جس میں 14,867 میگاواٹ کی صلاحیت کی باقاعدہ نشاندہی ہوچکی ہے، مگر اب تک صرف 3,540.15 میگاواٹ، یعنی تقریباً 23.81 فیصد، استعمال میں لائی گئی ہے۔

                یہ اعداد و شمار محض توانائی کے شعبے کی ناکامی نہیں، بلکہ ہماری وسیع تر معاشی سوچ کی عکاسی کرتے ہیں۔ ایک ایسا خطہ جس کے پاس اتنی بڑی پن بجلی کی صلاحیت موجود ہو، وہ اگر بجلی کی خریداری پر خطیر رقم خرچ کر رہا ہو، تو اس صورتحال پر سنجیدہ سوال اٹھنا لازمی ہے۔ 2026-27 کے بجٹ میں بجلی سے 7,100 کروڑ روپے کی غیر ٹیکس آمدنی کا تخمینہ ہے، مگر اسی سال بجلی کی خریداری پر تقریباً 9,300 کروڑ روپے خرچ ہونے کا اندازہ ہے۔ یعنی جس شعبے سے آمدنی حاصل ہونی چاہیے، وہی شعبہ خود حکومت کے لیے بڑے اخراجات کا باعث بنا ہوا ہے۔

                مسئلہ صرف بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت تک محدود نہیں۔ بجلی کی تقسیم کے نقصانات، ناقص وصولی، پرانے نظام، چوری اور موسمی طلب کا دباؤ اس پورے شعبے کو مالی طور پر کمزور بناتے ہیں۔ سردیوں میں جب طلب بڑھتی ہے، پن بجلی کے بعض منصوبوں کی پیداوار کم ہوجاتی ہے اور مہنگی بجلی باہر سے خریدنی پڑتی ہے۔ اس کے بعد صارف پر نرخ بڑھانے کا دباؤ آتا ہے اور حکومت پر سبسڈی کا۔ یوں ایک ہی کمزوری عوام اور سرکاری خزانے، دونوں کو متاثر کرتی ہے۔

                یہ بھی حقیقت ہے کہ گزشتہ برسوں میں مرکز نے جموں کشمیر کی مدد سے ہاتھ نہیں کھینچا۔ بجٹ میں مرکزی امداد، خصوصی منصوبوں، بجلی کے شعبے اور بنیادی ڈھانچے کے لیے بڑے وسائل فراہم کیے جارہے ہیں۔ 2026-27 میں مجموعی ریونیو وصولیوں میں مرکزی گرانٹس کا حصہ 65 فیصد ہے، جبکہ بجلی کے شعبے میں بھی بڑے سرمایہ کاری پروگرام جاری ہیں۔

                لیکن مرکزی امداد کو مسئلے کا مستقل حل سمجھ لینا بھی درست نہیں۔ امداد وقتی سہارا دے سکتی ہے، مگر مستقل مالی استحکام تبھی پیدا ہوگا جب اپنی آمدنی میں اضافہ ہو، اپنی پیداوار بڑھے، روزگار کے مواقع وسیع ہوں اور حکومت کے ہر بڑے خرچ کے مقابلے میں کوئی مضبوط معاشی بنیاد موجود ہو۔

                جموں کشمیر کو مالی خود مختاری کے لیے ایک طویل المدت معاشی منصوبے کی ضرورت ہے۔ اس منصوبے میں سب سے پہلے یہ طے ہونا چاہیے کہ حکومت کن شعبوں سے اگلے دس برس میں کتنی اضافی آمدنی پیدا کرے گی۔ پن بجلی کو محض بجلی کی ضرورت پوری کرنے والے شعبے کے طور پر نہیں بلکہ طویل مدتی آمدنی کے اثاثے کے طور پر دیکھنا ہوگا۔ بڑے ہائیڈرو منصوبوں میں مقامی حصص داری، بہتر رائلٹی، مفت بجلی کے حقوق اور مستقبل میں اثاثوں کی منتقلی کی شرائط پر زیادہ سنجیدگی سے توجہ دینی ہوگی۔ سرکاری پالیسی کے مطابق آئندہ دس برس میں تقریباً 7,000 میگاواٹ اضافی پن بجلی صلاحیت کو، تقریباً 59,294 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کے ساتھ، ترقی دینے کا منصوبہ ہے۔

                اسی طرح سیاحت کو محض ہوٹلوں اور سیزنل آمدنی تک محدود رکھنے کے بجائے سال بھر کی معاشی سرگرمی میں تبدیل کرنا ہوگا۔ باغبانی میں خام پیداوار بیچنے کے بجائے کولڈ چین، فوڈ پروسیسنگ، پیکیجنگ اور برآمدات کو فروغ دینا ہوگا۔ دستکاری اور ہینڈی کرافٹس کو جدید مارکیٹنگ اور عالمی ای کامرس سے جوڑنا ہوگا۔ سب سے بڑھ کر ایسا کاروباری ماحول پیدا کرنا ہوگا جس میں سرمایہ کار کو یہ اعتماد ہو کہ وہ اپنی سرمایہ کاری کے ساتھ غیر یقینی صورت حال سے دوچار نہیں ہوگا۔

                جموں کشمیر کے لیے سب سے بڑا المیہ شاید یہ ہے کہ ہمارے پاس مسائل کے اعداد و شمار بھی موجود ہیں اور وسائل کے امکانات بھی، مگر ایک مستقل معاشی سمت کا فقدان ہے۔ ہم ہر سال بجٹ پیش کرتے ہیں، مرکز سے امداد طلب کرتے ہیں، بجلی کے نرخوں پر بحث کرتے ہیں، تنخواہوں اور پنشن کے بوجھ کا ذکر کرتے ہیں، مگر اس بنیادی سوال کو مؤخر کر دیتے ہیں کہ اگلے عشرے میں ہم اپنی کمائی کو دوگنا یا تین گنا کیسے کریں گے۔

                مرکز سے مالی تعاون حاصل کرنا کوئی عیب نہیں۔ مگر ہمیشہ اسی تعاون پر منحصر رہنا بھی کوئی قابلِ فخر معاشی ماڈل نہیں ہوسکتا۔ جموں کشمیر کی حقیقی عزت اور مضبوطی اسی وقت ہوگی جب اس کی معیشت اتنی توانا ہو کہ وہ اپنے روزمرہ اخراجات کے لیے مسلسل بیرونی سہارے کی محتاج نہ ہو۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

لگی ہوئی آگ کو بھجانا!

Next Post

کولگام میں مشترکہ کارروائی، اسلحہ و گولہ  بارود سمیت۵ دہشت گرد معاون گرفتار

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

استعفیٰ نہیں، مینڈیٹ کا احترام ضروری ہے

2026-08-26
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

بجلی کے نرخ اور وعدوں کا بوجھ                

2026-08-25
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

کشمیر میں گرتی شرحِ پیدائش: مسئلہ صرف طب کا نہیں، معاشرے کا بھی ہے                

2026-08-23
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

جدید مذبح خانہ: ایک ضرورت‘لیکن ایک ہی نہیں 

2026-08-22
کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

کشمیر میں غیر قانونی تارکینِ وطن کی بڑھتی تعداد

2026-08-20
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

مردم شماری: درست اعداد و شمار، بہتر مستقبل کی بنیاد                

2026-08-18
کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

آزادی کا جشن، امن کی حفاظت کا عہد                

2026-08-16
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

آزادی کا سفر اور کشمیر کا بدلتا منظرنامہ

2026-08-15
Next Post
کپوارہ میں ایل او سی پر در اندازی کی الگ الگ کوششوں میں تین ملی ٹنٹ جاں بحق:فوج

کولگام میں مشترکہ کارروائی، اسلحہ و گولہ  بارود سمیت۵ دہشت گرد معاون گرفتار

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.