کسی بھی ملک کی ترقی، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور مستقبل کی منصوبہ بندی کے لیے یہ جاننا بنیادی اہمیت رکھتا ہے کہ وہاں کتنے لوگ رہتے ہیں، ان کی سماجی و معاشی حالت کیا ہے، ان کے روزگار کے ذرائع کیا ہیں اور ان کی بنیادی ضروریات کیا ہیں۔ اسی لیے مردم شماری محض لوگوں کو گننے کا عمل نہیں بلکہ قومی زندگی کی ایک اہم مشق ہے، جس کے نتائج آنے والے برسوں کی پالیسی سازی اور ترقیاتی منصوبہ بندی کی بنیاد بنتے ہیں۔
جموں و کشمیر اور لداخ میں مردم شماری۲۰۲۷ کے پہلے مرحلے، یعنی مکانات کی فہرست سازی اور خود اندراج، کو کامیابی کے ساتھ مکمل کیا جا چکا ہے۔ اب برف پوش علاقوں میں مردم شماری کے دوسرے اور اہم مرحلے کا آغاز ہو رہا ہے۔ موسم سرما میں ان علاقوں تک رسائی مشکل ہوجاتی ہے، اس لیے وہاں مردم شماری پہلے مکمل کرنے کا فیصلہ ایک عملی ضرورت ہے۔۱۷سے۳۱؍ اگست تک متاثرہ علاقوں کے رہائشی خود اپنے کوائف آن لائن درج کرا سکیں گے، جبکہ یکم سے۳۰ ستمبر تک گھر گھر جاکر مردم شماری مکمل کی جائے گی۔
آج جب برف پوش علاقوں میں مردم شماری کے اگلے مرحلے کی تیاری ہو رہی ہے تو سب سے اہم پیغام یہی ہے کہ کوئی بھی فرد شمار ہونے سے نہ رہ جائے اور کوئی خاندان غلط معلومات فراہم نہ کرے۔ گھر کے تمام افراد کی درست تعداد، صحیح عمر، پیشہ، تعلیم اور دیگر مطلوبہ معلومات پوری ذمہ داری کے ساتھ فراہم کی جائیں۔ کیونکہ مردم شماری میں دیا گیا ہر درست جواب دراصل مستقبل کی بہتر منصوبہ بندی میں ایک چھوٹا مگر اہم حصہ ہے۔
یہ امر اطمینان بخش ہے کہ جموں و کشمیر اور لداخ کے عوام نے مردم شماری کے ابتدائی مرحلے میں انتظامیہ کے ساتھ بھرپور تعاون کیا۔ مشکل جغرافیہ، دور افتادہ بستیاں اور بعض علاقوں کی موسمی دشواریاں اس عمل کو آسان نہیں بناتیں، لیکن عوامی تعاون کے باعث پہلا مرحلہ کامیابی سے مکمل ہوا۔ امید کی جانی چاہیے کہ اب دوسرے مرحلے میں بھی اسی ذمہ داری اور تعاون کا مظاہرہ کیا جائے گا۔
مردم شماری میں حصہ لینا ہر شہری کا قومی فرض ہے۔ بظاہر چند سوالات کے جوابات دینا یا گھر کے افراد کی صحیح تعداد بتانا معمولی عمل محسوس ہوسکتا ہے، لیکن یہی معلومات جب لاکھوں خاندانوں سے جمع ہوتی ہیں تو قومی سطح پر ایسا بنیادی ڈیٹا تیار ہوتا ہے جس کی بنیاد پر حکومتیں آئندہ کی پالیسیاں وضع کرتی ہیں۔ اس لیے ہر شہری پر لازم ہے کہ وہ اپنی اور اپنے خاندان کی معلومات درست اور مکمل طور پر فراہم کرے۔
یہ سمجھنا ضروری ہے کہ مردم شماری صرف افراد کی تعداد معلوم کرنے تک محدود نہیں ہوتی۔ اس کے ذریعے عمر، جنس، تعلیم، روزگار، پیشہ، ازدواجی حالت، زرخیزی اور دیگر سماجی و معاشی پہلوؤں کے بارے میں معلومات حاصل کی جاتی ہیں۔ اس بار ذات سے متعلق معلومات بھی مردم شماری کا حصہ ہیں۔ اس جامع ڈیٹا سے حکومت کو یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ معاشرے کے مختلف طبقات کی صورتحال کیا ہے اور کن علاقوں یا گروہوں کو کس نوعیت کی سہولتوں اور منصوبوں کی ضرورت ہے۔
اس کا براہ راست تعلق ہماری روزمرہ زندگی سے ہے۔ اسکول کہاں اور کتنے بننے چاہئیں، اسپتال اور طبی مراکز کہاں درکار ہیں، پینے کے پانی اور بجلی کی سہولت کہاں بڑھانے کی ضرورت ہے، سڑکوں، ٹرانسپورٹ اور رہائش کے منصوبے کس علاقے میں ترجیحی بنیادوں پر شروع کیے جائیں، روزگار کے مواقع کہاں پیدا کیے جائیں—ان تمام معاملات میں درست اعداد و شمار بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر مردم شماری میں معلومات غلط دی جائیں یا کوئی فرد شمار ہونے سے رہ جائے تو اس کا اثر مستقبل کی منصوبہ بندی پر بھی پڑسکتا ہے۔
جموں و کشمیر میں مردم شماری کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ یہ خطہ جغرافیائی اور معاشی اعتبار سے انتہائی متنوع ہے۔ ایک طرف بڑے شہری مراکز ہیں تو دوسری طرف پہاڑی، دور افتادہ اور برف پوش بستیاں۔ کہیں باغبانی روزگار کا اہم ذریعہ ہے، کہیں سیاحت اور کہیں سرکاری یا نجی ملازمت۔ ان تمام علاقوں کی ضروریات ایک جیسی نہیں ہوسکتیں۔ درست مردم شماری ہی یہ واضح کرسکتی ہے کہ کس علاقے میں آبادی کا دباؤ کتنا ہے، کہاں تعلیمی اور طبی سہولتوں کی کمی ہے اور کن علاقوں میں بنیادی ڈھانچے یا روزگار کی زیادہ ضرورت ہے۔
لداخ کے لیے یہ مردم شماری مزید اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ۲۰۱۹ میں مرکز کے زیر انتظام علاقہ بننے کے بعد یہ وہاں کی پہلی آزاد مردم شماری ہوگی۔ وسیع رقبے اور منتشر آبادی کے باعث لداخ کے لیے بھی درست اعداد و شمار آئندہ ترقیاتی منصوبہ بندی میں اہم کردار ادا کریں گے۔
موجودہ مردم شماری کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ اس میں جدید ٹیکنالوجی اور خود اندراج کی سہولت استعمال کی جارہی ہے۔ اس سے عمل کو مزید آسان اور تیز بنانے میں مدد مل سکتی ہے، مگر ٹیکنالوجی اس وقت ہی مفید ثابت ہوگی جب شہری اپنی ذمہ داری کو سمجھتے ہوئے درست معلومات فراہم کریں۔ خود اندراج ہو یا گھر گھر مردم شماری، اصل مقصد ایک ہی ہے کہ کوئی فرد شمار ہونے سے نہ رہ جائے اور کوئی غلط معلومات درج نہ ہو۔
ذرائع ابلاغ اور مقامی نمائندوں پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ عوام میں اس عمل کے بارے میں آگاہی پیدا کریں اور یہ واضح کریں کہ مردم شماری کسی فرد یا خاندان کو کسی مشکل میں ڈالنے کا ذریعہ نہیں بلکہ قومی منصوبہ بندی کا بنیادی وسیلہ ہے۔ شہریوں کو چاہیے کہ وہ شمار کنندگان کے ساتھ تعاون کریں، مطلوبہ معلومات فراہم کریں اور کسی بھی مرحلے پر ابہام ہو تو متعلقہ حکام سے وضاحت حاصل کریں۔
پہلے مرحلے میں عوام نے جس طرح تعاون کیا، وہ قابل ستائش ہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ برف پوش علاقوں میں شروع ہونے والے اس مرحلے کو بھی اسی جذبے کے ساتھ کامیاب بنایا جائے۔ مردم شماری حکومت کی تنہا ذمہ داری نہیں بلکہ عوام اور حکومت کی مشترکہ قومی ذمہ داری ہے۔
درست مردم شماری کا مطلب درست منصوبہ بندی، درست ترجیحات اور بہتر وسائل کی تقسیم ہے۔ آج فراہم کی جانے والی درست معلومات آنے والے برسوں میں بہتر اسکولوں، زیادہ مؤثر اسپتالوں، بہتر سڑکوں، مناسب بنیادی سہولتوں اور روزگار کے زیادہ مواقع کی صورت میں سامنے آسکتی ہیں۔ اس لیے مردم شماری میں حصہ لینا صرف ایک سرکاری عمل مکمل کرنا نہیں، بلکہ اپنے اور آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل میں اپنا حصہ ڈالنا ہے۔





