کشمیر کی صدیوں پرانی دستکاری کی روایت نے ایک بار پھر قومی سطح پر اپنا لوہا منوایا ہے۔ بڈگام کے کنی ہاما سے تعلق رکھنے والے دو ماہر بُنکروں، منظور احمد حجام اور فیاض احمد وانی، کو ان کی مشترکہ تخلیق ’’چاند دار کانی شال‘‘ پر قومی ہینڈلوم ایوارڈ سے نوازا جانا پوری وادی کے لیے باعثِ مسرت اور باعثِ فخر ہے۔ صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو کے ہاتھوں یہ اعزاز حاصل کرنا نہ صرف دونوں فن کاروں کی غیر معمولی مہارت کا اعتراف ہے بلکہ کشمیر کی اُس عظیم دستکاری روایت کی قومی سطح پر پذیرائی بھی ہے جس نے صدیوں سے دنیا کو اپنے حسن، نفاست اور انفرادیت سے متاثر کیا ہے۔ وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب سے دونوں دستکاروں کو مبارک باد دینا بھی بجا طور پر قابلِ تحسین ہے۔
لیکن اس خوشی کے موقع پر ایک بنیادی سوال بھی اٹھنا چاہیے: جن ہاتھوں کی تخلیق کو ملک کے اعلیٰ ترین سطح پر اعزاز مل رہا ہے، کیا انہی ہاتھوں کو ان کی محنت کا وہ معاوضہ بھی مل رہا ہے جس کے وہ مستحق ہیں؟یہ سوال ایک دو دستکاروں کا سوال نہیں بلکہ کشمیر کی پوری دستکاری صنعت کے مستقبل کا سوال ہے۔
کانی شال کشمیر کی شناخت کا ایک اہم استعارہ ہے۔ پشمینہ کی نرم و لطیف اون، ہاتھ سے تیار ہونے والا کپڑا، لکڑی کی سوئیوں سے پیچیدہ نقش و نگار کی بُنائی اور ایک شال کو مکمل کرنے میں مہینوں بلکہ بعض اوقات برسوں کا عرصہ، اسے دنیا کی منفرد ترین دستکاریوں میں شامل کرتا ہے۔ ایک اعلیٰ معیار کی کانی شال محض لباس نہیں بلکہ فن، صبر، مہارت اور نسل در نسل منتقل ہونے والے ہنر کا شاہکار ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے مالدار طبقے، معروف شخصیات اور مشہور فن کار بھی کانی شال کو وقار اور نفاست کی علامت سمجھتے ہیں۔
مگر اس شاندار تصویر کا دوسرا رخ انتہائی تشویش ناک ہے۔ جن دستکاروں کے ہاتھ اس فن کو زندہ رکھتے ہیں، ان کی آمدنی اکثر اتنی کم ہے کہ ان کے اپنے بچے اس پیشے کو اختیار کرنے کے لیے تیار نہیں۔ اگر ایک دستکار کو کئی ماہ کی محنت کے بعد ایسی اجرت ملے جو ایک غیر ہنرمند مزدور کی یومیہ اجرت کے مقابلے میں بھی معمولی ثابت ہو تو پھر یہ سوال ناگزیر ہے کہ ہم کس بنیاد پر اپنی روایتی دستکاری کے تحفظ کی بات کر رہے ہیں؟
یہ حقیقت خاص طور پر غور طلب ہے کہ ایک کانی شال کی تیاری میں ڈیزائن کی پیچیدگی کے اعتبار سے تین ماہ سے لے کر تین سال تک کا عرصہ لگ سکتا ہے۔ اس کے باوجود اگر ایک ہنرمند کی روزانہ آمدنی چند سو روپے تک محدود رہ جائے تو اس صنعت کا مستقبل خطرے میں پڑنا کوئی حیرت کی بات نہیں۔ محض ایوارڈ، سرکاری تقریبات، نمائشیں اور تعریفیں اس فن کو زندہ نہیں رکھ سکتیں۔ فن کو زندہ رکھنے کے لیے فن کار کو زندہ اور باوقار معاش فراہم کرنا ہوگا۔
کشمیر کی دستکاریوں کے ساتھ سب سے بڑا المیہ یہی رہا ہے کہ عالمی سطح پر ان کی قیمت بڑھتی گئی مگر اصل دستکار کی آمدنی اسی تناسب سے نہیں بڑھی۔ ایک شال جب بین الاقوامی منڈی یا کسی بڑے شہر کے مہنگے شوروم تک پہنچتی ہے تو اس کی قیمت کئی گنا بڑھ جاتی ہے، لیکن اس قیمت میں وہ حصہ کتنا ہے جو اسے اپنے ہاتھوں سے تیار کرنے والے بُنکر تک پہنچتا ہے؟ یہی وہ سوال ہے جس کا جواب حکومت، صنعت اور تجارت سے وابستہ حلقوں کو دینا چاہیے۔
اس صورت حال کے کئی اسباب ہیں۔ سب سے اہم مسئلہ مارکیٹنگ اور قیمت کے تعین کا ہے۔ دستکار اکثر اپنی مصنوعات کو براہ راست صارف تک پہنچانے کی پوزیشن میں نہیں ہوتا۔ وہ درمیانی حلقوں، تاجروں اور برآمد کنندگان پر انحصار کرتا ہے۔ نتیجتاً اصل منافع اوپر کی سطح پر تقسیم ہوتا ہے جبکہ ہنرمند کو اس کی محنت کا محدود حصہ ملتا ہے۔ اگر حکومت واقعی کشمیر کی دستکاری کو عالمی برانڈ بنانا چاہتی ہے تو اسے دستکار اور عالمی صارف کے درمیان موجود اس غیر متوازن نظام کو تبدیل کرنا ہوگا۔
کانی شال کے لیے جغرافیائی اشاریہ یا GI شناخت ایک اہم قدم ہے۔ اس سے اصلی ہاتھ سے بنی کانی شال اور مشینی طور پر تیار کی جانے والی نقل میں فرق واضح کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ یہ اقدام نہ صرف صارف کے اعتماد کو بڑھا سکتا ہے بلکہ اصلی دستکار کی مصنوعات کو بہتر قیمت دلانے میں بھی معاون ثابت ہوسکتا ہے۔ لیکن GI ٹیگ صرف لیبل لگانے کا نام نہیں۔ اس کی کامیابی اس وقت ہوگی جب صارف کو یقین ہو کہ وہ جس قیمت پر ’’کانی‘‘ خرید رہا ہے وہ واقعی ہاتھ سے تیار شدہ کانی شال ہے، اور اس کی اضافی قیمت کا مناسب حصہ اس فن کار تک بھی پہنچ رہا ہے۔
مشینی نقلی مصنوعات کی وجہ سے کشمیر کی دستکاری کو پہنچنے والے نقصان کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اگر مشین سے تیار شدہ شال کو ہاتھ سے بنی کانی شال کے نام پر فروخت کیا جائے تو اس سے نہ صرف صارف دھوکہ کھاتا ہے بلکہ اصل دستکار کی محنت اور مارکیٹ بھی متاثر ہوتی ہے۔ GI لیبلنگ کے نظام کو سختی سے نافذ کرنا، جعلی مصنوعات کے خلاف کارروائی کرنا اور صارفین میں آگاہی پیدا کرنا اس سلسلے میں ناگزیر ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ حکومت کو دستکاروں کے لیے ایسے کلسٹرز اور مراکز قائم کرنے چاہئیں جہاں انہیں خام مال، جدید ڈیزائن، تربیت، بہتر آلات، مارکیٹنگ اور براہ راست فروخت کی سہولت حاصل ہو۔ کانی بُنائی کی بنیادی روح ہاتھ کا ہنر ہے، اسے مشینی پیداوار میں تبدیل کرنا مقصد نہیں ہونا چاہیے۔ البتہ ڈیزائن، مارکیٹنگ، پیکیجنگ اور عالمی تجارت کے جدید تقاضوں سے دستکار کو ہم آہنگ کرنا وقت کی ضرورت ہے۔
کشمیر کی دستکاری کو عالمی سطح پر لے جانے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ’’کشمیر‘‘ کو محض ایک جغرافیائی نام نہیں بلکہ معیار کی ضمانت کے طور پر پیش کیا جائے۔ پشمینہ، کانی، قالین، کاغذی ماشے، اخروٹ کی لکڑی اور دیگر روایتی فنون کو ایک مربوط ’’Kashmir Crafts‘‘ برانڈ کے تحت عالمی منڈیوں تک پہنچایا جاسکتا ہے۔ اس کے لیے جدید ای کامرس، بین الاقوامی نمائشوں، سیاحتی مراکز، براہ راست آن لائن فروخت اور مستند سرٹیفکیشن کا نظام تیار کرنا ہوگا۔
مگر ان تمام اقدامات کے مرکز میں دستکار ہونا چاہیے۔ اگر عالمی سطح پر ایک کانی شال لاکھوں روپے میں فروخت ہوتی ہے لیکن اسے تیار کرنے والا بُنکر اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے بھی پریشان ہو تو ایسی عالمی کامیابی ادھوری ہے۔ کسی بھی تہذیبی ورثے کی اصل حفاظت اس کے عجائب گھروں میں نمونے محفوظ کرنے سے نہیں بلکہ ان ہاتھوں کو معاشی تحفظ دینے سے ہوتی ہے جو اس ورثے کو ہر روز تخلیق کرتے ہیں۔
منظور احمد حجام اور فیاض احمد وانی کا قومی ہینڈلوم ایوارڈ دراصل ایک موقع ہے کہ ہم کشمیر کی دستکاری کے بارے میں محض فخر کے اظہار سے آگے بڑھیں۔ ان دونوں دستکاروں کو مبارک باد دیتے ہوئے ہمیں یہ عہد بھی کرنا چاہیے کہ کشمیر کے ہنرمندوں کو صرف ایوارڈ کی تقریبات میں یاد نہیں کیا جائے گا بلکہ ان کی روزمرہ زندگی، اجرت، سماجی تحفظ اور مستقبل کو بھی اہمیت دی جائے گی۔
اگر حکومت واقعی چاہتی ہے کہ کانی بُنائی اگلی نسلوں تک منتقل ہو تو اسے اس سوال کا جواب تلاش کرنا ہوگا کہ آج کا نوجوان اس فن کو اپنا روزگار کیوں نہیں بنانا چاہتا۔ اس کا جواب بہت سادہ ہے: جب ہنر کی قدر الفاظ اور ایوارڈز میں زیادہ اور معاوضے میں کم ہو تو نئی نسل اس پیشے سے دور ہوجاتی ہے۔
کانی شال کو عالمی بلندیوں تک پہنچانے والے ہاتھ اگر خالی رہ گئے تو ایک دن دنیا کے پاس کانی شال تو ہوگی، مگر اسے بُننے والے ہاتھ نہیں ہوں گے۔ قومی ایوارڈ کی اصل کامیابی اسی وقت ہوگی جب اس کے بعد ان دستکاروں کی آمدنی، عزت اور معاشی حالت میں بھی نمایاں بہتری آئے۔ کشمیر کی دستکاری کو عالمی شناخت دلانے کے لیے سب سے پہلے اس کے اصل معمار، یعنی کشمیری دستکار، کو اس کے ہنر کی حقیقی قیمت دلانا ہوگی۔ یہی اس عظیم ورثے کا حقیقی تحفظ اور ان دونوں قومی ایوارڈ یافتہ فن کاروں کے لیے سب سے خوبصورت خراجِ تحسین ہوگا۔






