کشمیری معاشرے میں شادی ہمیشہ سے ایک سماجی، تہذیبی اور روحانی موقع رہی ہے، جس میں خاندان، رشتہ دار، دوست اور محلے دار ایک دوسرے کی خوشی میں شریک ہوتے تھے۔ نکاح کو برکت کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا، بزرگوں کی دعائیں حاصل کی جاتی تھیں اور دسترخوان محبت، خلوص اور اپنائیت کی علامت ہوا کرتا تھا۔ مگر وقت کے ساتھ ہماری شادیوں کی صورت، مزاج اور ترجیحات میں جو تبدیلی آئی ہے، اس نے کئی بنیادی سوال ہمارے سامنے کھڑے کر دیے ہیں۔ کیا ہم نے خوشی کو مقابلے میں بدل دیا ہے؟ کیا ہم نے روایت کو رسم، سادگی کو کم مائیگی اور مہمان نوازی کو نمود و نمائش کا دوسرا نام بنا دیا ہے؟
یہ سوال اس وقت اور بھی اہم ہوجاتا ہے جب شادی کی تقریب سے نکلتے ہوئے ایک مہمان کے ہاتھ میں تحفوں سے زیادہ کھانے کے تھیلے نظر آنے لگیں۔ گوشت، دہی، مٹھائیاں، جوس، خشک میوہ جات اور دیگر اشیاء سے بھرے تھیلے اب بعض شادیوں میں معمول بنتے جا رہے ہیں۔ حیرت کی بات یہ نہیں کہ لوگ کھانا گھر لے جاتے ہیں۔ اصل حیرت یہ ہے کہ اس پورے عمل کو ہم نے اس حد تک معمول سمجھ لیا ہے کہ اب ہمیں اس میں کوئی غیر معمولی بات دکھائی ہی نہیں دیتی۔ کھانا بچ جائے تو اسے گھر لے جانا اپنی جگہ ایک عملی قدم ہوسکتا ہے، مگر جب زائد کھانا پہلے ہی اس نیت سے تیار کیا جائے کہ مہمان اسے تھیلوں میں بھر کر لے جائیں گے، تو معاملہ صرف کھانے کے ضیاع یا بچ جانے کا نہیں رہتا، بلکہ پوری ذہنیت کا سوال بن جاتا ہے۔
ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ ہماری شادیوں میں اصل مسئلہ صرف کھانے کی زیادتی نہیں، بلکہ دکھاوے کی وہ دوڑ ہے جس میں ہر خاندان خود کو دوسروں سے بڑھ کر ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ فلاں کے ہاں اتنے مہمان آئے تھے، فلاں نے اتنے وان پکائے تھے، فلاں نے اتنے قیمتی تحفے دیے، فلاں شادی صبح تک چلی، فلاں کے دسترخوان پر اتنی اقسام تھیں۔ یوں خوشی کا ایک نجی اور مقدس موقع رفتہ رفتہ ایک ایسے سماجی مقابلے میں بدل جاتا ہے جس میں ہر شخص دوسرے سے آگے نکلنے کی فکر میں مبتلا ہے۔
کشمیری وازوان ہماری تہذیب کا ایک خوب صورت حصہ ہے۔ اس کے ساتھ ہماری تاریخ، مہمان نوازی، ذائقہ اور اجتماعی تعلقات جڑے ہوئے ہیں۔ مگر ہر روایت کی طرح وازوان کی خوب صورتی بھی اعتدال میں ہے۔ جب وازوان اپنی تہذیبی معنویت کھو کر محض دولت کی نمائش اور سماجی حیثیت ظاہر کرنے کا ذریعہ بن جائے تو روایت اپنی روح سے خالی ہوجاتی ہے۔ ایک وقت تھا جب دسترخوان پر بیٹھنے کا لطف اس بات میں تھا کہ لوگ قریب بیٹھیں، باتیں کریں، ایک دوسرے کا حال پوچھیں اور ایک دوسرے کی خوشی میں حقیقی طور پر شریک ہوں۔ آج کئی مواقع پر یہی دسترخوان خاموش سماجی مقابلے کا میدان بن جاتا ہے۔
سب سے زیادہ توجہ طلب پہلو اس روایت کے مالی اثرات ہیں۔ ہمارے معاشرے میں ایسے کتنے خاندان ہیں جو اپنی استطاعت سے بڑھ کر شادی پر خرچ کرتے ہیں؟ کتنے والدین قرض لے کر برسوں اس بوجھ کو اٹھاتے رہتے ہیں؟ کتنے ایسے گھر ہیں جہاں بیٹے یا بیٹی کی شادی صرف اس لیے مؤخر کردی جاتی ہے کہ خاندان معاشرتی معیار کے مطابق اخراجات برداشت نہیں کرسکتا؟ اگر ایک خوشی کا موقع کسی خاندان کو کئی برس کے مالی دباؤ میں مبتلا کردے تو ہمیں رک کر سوچنا چاہیے کہ ہم آخر کس خوشی کا جشن منا رہے ہیں؟
یہاں سوال صرف امیر خاندانوں کا بھی نہیں۔ متوسط اور کم آمدنی والے خاندان اکثر سب سے زیادہ دباؤ میں ہوتے ہیں، کیونکہ ان کے پاس اپنی محدود حیثیت کے باوجود معاشرتی توقعات پوری کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں چھوڑا جاتا۔ انہیں ڈر ہوتا ہے کہ اگر کھانا کم ہوا تو لوگ باتیں کریں گے، اگر تقریب مختصر ہوئی تو اسے کم حیثیتی سمجھا جائے گا، اگر وازوان میں کچھ پکوان کم ہوئے تو خاندان کے بارے میں رائے قائم کی جائے گی۔ یوں لوگوں کی زبان، لوگوں کی نظریں اور لوگوں کے تبصرے ایک ایسے سماجی دباؤ میں تبدیل ہوجاتے ہیں جو کئی خاندانوں کو اپنی استطاعت سے باہر جانے پر مجبور کرتا ہے۔
ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ کھانے کی بے تحاشا تیاری صرف پیسے کا ضیاع نہیں۔ اس میں پانی، بجلی، ایندھن، محنت اور وقت بھی صرف ہوتا ہے۔ بڑی مقدار میں تیار کیا جانے والا کھانا اگر ضرورت سے زیادہ ہو تو اس کے ضائع ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ اور اگر اسے گھروں میں تھیلوں کی شکل میں منتقل کردیا جائے تو کیا واقعی یہ اسراف ختم ہوگیا؟ کسی ایک جگہ کا فاضل کھانا کئی گھروں میں تقسیم ہوجانا بلاشبہ ضیاع سے بہتر ہے، لیکن اصل سوال پھر بھی اپنی جگہ قائم رہتا ہے کہ ضرورت سے کئی گنا زیادہ تیار ہی کیوں کیا گیا؟
یہاں معاشرے کے بزرگوں، مذہبی رہنماؤں، سماجی شخصیات اور خود والدین کا کردار سب سے زیادہ اہم ہے۔ اگر بڑے لوگ ہی یہ طے کرلیں کہ شادی ایک معقول، باوقار اور سادہ تقریب ہوگی تو نوجوانوں پر بھی غیر ضروری دباؤ کم ہوگا۔ ہمیں اپنے بچوں کو یہ سکھانا ہوگا کہ شادی کا حسن کھانے کی اقسام، ہال کی شان، سجی ہوئی میزوں یا مہنگی سجاوٹ میں نہیں، بلکہ اس رشتے میں ہے جسے دو خاندان پوری رضا اور دعا کے ساتھ قبول کرتے ہیں۔
یہ بھی وقت کی اہم ضرورت ہے کہ ہم ’’لوگ کیا کہیں گے‘‘ کے خوف سے باہر نکلیں۔ یہی جملہ ہماری بہت سی معاشرتی برائیوں کا بنیادی محرک بن چکا ہے۔ لوگ کیا کہیں گے، اس خوف نے ہمیں قرضوں میں ڈالا، غیر ضروری اخراجات کروائے اور ایسی رسومات جاری رکھیں جنہیں ہم خود دل سے پسند نہیں کرتے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ہم جن لوگوں کی رائے کے لیے اپنی استطاعت سے بڑھ کر خرچ کرتے ہیں، وہی لوگ اگلے دن دوسری شادی میں شرکت کرکے ہماری تمام تر کوششیں بھول جاتے ہیں۔ مگر قرض، پریشانی اور مالی دباؤ گھر والوں کے پاس برسوں باقی رہتا ہے۔
سادگی کا مطلب یہ نہیں کہ شادی کی خوشیاں ختم کردی جائیں یا روایات ترک کردی جائیں۔ سادگی کا مطلب یہ ہے کہ خوشی اپنی جگہ رہے اور فضول خرچی اپنی جگہ۔ مہمان نوازی ضرور ہو، مگر ضرورت سے زیادہ نہیں۔ وازوان ضرور ہو، مگر مقابلے کے لیے نہیں۔ کھانا دل کھول کر پیش کیا جائے، مگر اسراف کے بغیر۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کسی خاندان کو محض اس خوف سے اپنے وسائل سے تجاوز نہ کرنا پڑے کہ معاشرہ اسے کم تر نہ سمجھ لے۔
اب وقت آگیا ہے کہ ہم شادیوں کو دوبارہ خوشی کا موقع بنائیں، نمائش کا میدان نہیں۔ دسترخوان کو سخاوت کی علامت رہنے دیں، اسراف کی نہیں۔ وازوان کو کشمیری تہذیب کی خوب صورتی رہنے دیں، مالی مقابلے کی نہیں۔ اور سب سے بڑھ کر اپنی اولاد کو یہ یقین دیں کہ ان کی زندگی کے سب سے اہم دن کی قدر اس بات سے نہیں ہوگی کہ کتنے لوگوں نے کیا کھایا، بلکہ اس سے ہوگی کہ کتنے دلوں نے ان کے لیے دعا کی۔



