اس رفتار سے این سی ۲۲۲ سال ایک لاکھ اسامیاں وجود میں لانے میں لگیں گے ‘انتخابی وعدوں اور زمینی حقائق میں فرق واضح:لون
سرینگر؍۲۱ ستمبر
جموں و کشمیر کے مختلف سرکاری محکموں میں۴۰ ہزار سے زائد اسامیاں خالی ہیں، جن میں سب سے زیادہ خالی اسامیاں محکمہ صحت و طبی تعلیم میں ہیں۔ یہ اطلاع پیر کے روز اسمبلی کو دی گئی۔
رکن اسمبلی سجاد لون اور عرفان حفیظ لون کی جانب سے بھرتیوں اور خالی اسامیوں سے متعلق پوچھے گئے سوالات کے جواب میں حکومت نے بتایا کہ مختلف سرکاری محکموں میں مجموعی طور پر۴۰ہزار۶۷۲؍ اسامیاں خالی ہیں۔
حکومت کے مطابق ان میں۳۳۱۸ گزٹیڈ،۲۴ہزار۴۲۷ نان گزٹیڈ اور۱۲ہزار۹۲۷ ملٹی ٹاسکنگ اسٹاف (ایم ٹی ایس) کی اسامیاں شامل ہیں۔
محکمہ صحت و طبی تعلیم میں سب سے زیادہ اسامیاں خالی ہیں، جہاں۲۱۲۵ گزٹیڈ‘۸۰۶۴ نان گزٹیڈ اور۲۶۰۸؍ ایم ٹی ایس کی اسامیاں خالی پڑی ہیں۔
حکومت نے بتایا کہ محکمہ زرعی پیداوار میں۴۹۳۹، محکمہ خزانہ میں۱۸۲۹؍اور محکمہ اسکولی تعلیم میں۱۳۶۴؍ اسامیاں خالی ہیں۔
حکومت کے مطابق گزشتہ دو برسوں کے دوران۱۷ہزار۹۲۲؍اسامیاں جموں و کشمیر سروسز سلیکشن بورڈ جبکہ۲۱۵۰؍اسامیاں پبلک سروس کمیشن کو بھرتی کے لیے بھیجی گئی ہیں۔
حکومت نے کہا کہ خالی اسامیوں کو مقررہ مدت کے اندر پُر کرنے کو یقینی بنانے کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے ہیں۔
حکومت نے کہا، ’’ان اقدامات میں خالی اسامیوں کی بروقت نشاندہی کرکے انہیں بھرتی کرنے والی ایجنسیوں کو بھیجنا، مقررہ قانونی طریقہ کار کی پابندی، بھرتی کے مراحل کی پیشگی منصوبہ بندی اور مختلف مراحل میں بھرتی کے مقررہ اوقات کی قریبی نگرانی شامل ہے۔‘‘
حکومت کے مطابق طریقہ کار کو مزید مؤثر بنانے، بھرتی کرنے والی ایجنسیوں کے ساتھ رابطہ کاری کو مضبوط کرنے اور ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتے ہوئے بھرتی کے عمل کو تیز کرنے کی کوششیں بھی کی گئی ہیں، جبکہ شفافیت، غیر جانب داری اور میرٹ کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔
حکومت نے مزید بتایا کہ تمام محکموں کو ہدایات جاری کی جاچکی ہیں کہ براہِ راست کوٹے کے تحت آنے والی خالی اسامیوں کو بروقت بھرتی کرنے والی ایجنسیوں کو بھیجا جائے۔
دریں اثنا جموں و کشمیر پیپلز کانفرنس کے صدر اور ہندواڑہ کے رکن اسمبلی سجاد لون نے پیر کے روز اسمبلی کی کارروائی ملتوی ہونے کے بعد نیشنل کانفرنس کی حکومت پر شدید حملہ کرتے ہوئے کہا کہ اسمبلی میں پیش کیے گئے اعداد و شمار نے روزگار کے معاملے میں انتخابی وعدوں اور زمینی حقیقت کے درمیان ایک بڑا فرق آشکار کردیا ہے۔
اسمبلی کی کارروائی ملتوی ہونے کے بعد بھرتی کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے ایک اہم سوال اٹھایا۔ لون نے کہا کہ اعداد و شمار نے نیشنل کانفرنس حکومت کی جانب سے کیے گئے جھوٹے وعدوں کی تلخ حقیقت کو بے نقاب کردیا ہے۔
لون نے کہا، ’’این سی کا منشور جھوٹ کا پلندہ ہے۔‘‘ انہوں نے واضح کیا کہ وہ محض قیاس آرائی کی بنیاد پر بات نہیں کر رہے بلکہ حکومت کے اپنے ریکارڈ سے حاصل کیے گئے ٹھوس اعداد و شمار کی بنیاد پر یہ بات کہہ رہے ہیں۔
پیپلز کانفرنس کے سربراہ نے سب سے نمایاں ناکامی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل کانفرنس کے منشور میں جموں و کشمیر کے عوام سے ایک لاکھ نئی ملازمتیں فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن اس وعدے کے مقابلے میں حکومت اب تک صرف۸۹۹ نئی اسامیاں پیدا کر سکی ہے۔
حساب پیش کرتے ہوئے لون نے کہا، ’’موجودہ رفتار سے ایک لاکھ ملازمتیں پیدا کرنے میں انہیں۲۲۲ء۴۶ سال لگیں گے۔ کیا مذاق ہے۔‘‘انہوں نے مزید کہا، ’’اس سے بھی بڑا مذاق ان لوگوں کے ساتھ ہے جنہوں نے اس جھوٹ پر یقین کیا۔‘‘
دوسرا وعدہ سرکاری محکموں میں خالی اسامیوں کو پُر کرنے سے متعلق تھا۔
نیشنل کانفرنس نے اپنے منشور میں اقتدار سنبھالنے کے۱۸۰ دن کے اندر تمام خالی اسامیوں کو پُر کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ تاہم اسمبلی میں پیش کیے گئے اعداد و شمار ایک بالکل مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔ گزشتہ دو برسوں کے دوران صرف۷۵۸۰ خالی اسامیاں پُر کی گئی ہیں، جبکہ۴۰ہزار۶۷۲؍ اسامیاں اب بھی خالی پڑی ہیں۔
ان اعداد و شمار کی تفصیل پیش کرتے ہوئے سجاد لون نے کہا کہ۲۴ہزار۴۲۷ ناگزیٹیڈ شدہ اسامیاں،۳ہزار۳۱۸ گزیٹیڈ اسامیاں اور۱۲ہزار۹۲۷ ملٹی ٹاسکنگ اسٹاف کی اسامیاں اب بھی خالی ہیں۔انہوں نے کہا، ’’موجودہ رفتار سے ان اسامیوں کو پُر کرنے میں ایک دہائی سے زیادہ کا وقت لگے گا۔‘‘
تیسرا وعدہ سرکاری ملازمتوں کے لیے درخواست فیس سے متعلق تھا۔ نیشنل کانفرنس نے عوامی طور پر وعدہ کیا تھا کہ یہ فیس معاف کی جائے گی تاکہ ملازمت کے خواہشمند نوجوانوں پر مالی بوجھ نہ پڑے۔
سجاد لون نے کہا کہ انہوں نے ایک سال قبل اسمبلی میں اسی معاملے پر سوال جمع کرایا تھا اور جو جواب سامنے آیا وہ انتہائی اہم تھا۔انہوں نے کہا، ’’معلوم ہوا کہ اسی حکومت نے درخواست فیس کی مد میں کروڑوں روپے جمع کیے ہیں۔‘‘ انہوں نے وعدے اور عمل کے درمیان اس تضاد کو اجاگر کیا۔ (کے این ایس)
اس سے قبل حکومت نے پیر کے روز قانون ساز اسمبلی کو بتایا کہ۱۶؍اکتوبر۲۰۲۴ سے اب تک جموں و کشمیر حکومت کے مختلف محکموں میں صرف۸۹۹ نئی اسامیاں پیدا کی گئی ہیں۔
ہندواڑہ کے رکن اسمبلی کے سوال کے جواب میں حکومت کی جانب سے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق سب سے زیادہ۴۸۵ نئی اسامیاں محکمہ صحت و طبی تعلیم میں پیدا کی گئیں، جبکہ محکمہ ہاؤسنگ و شہری ترقی میں۲۶۶؍ اور محکمہ قانون، انصاف و پارلیمانی امور میں۸۲ نئی اسامیاں پیدا کی گئیں۔
محکمہ جل شکتی میں۴۳؍اسامیاں پیدا کی گئیں، جبکہ محکمہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ، ریلیف، بازآبادکاری و تعمیر نو میں۱۶ اسامیاں پیدا کی گئیں۔باقی اسامیوں میں محکمہ کوآپریٹیوز میں تین، محکمہ خوراک، شہری رسد و امور صارفین میں دو، جبکہ اے آر آئی و ٹریننگز اور محکمہ ٹرانسپورٹ میں ایک ایک اسامی شامل ہے۔
ایوان کو یہ بھی بتایا گیا کہ اکتوبر۲۰۲۴ سے اب تک جموں و کشمیر پبلک سروس کمیشن (جے کے پی ایس سی) اور جموں و کشمیر سروسز سلیکشن بورڈ (جے کے ایس ایس بی) کی جانب سے مجموعی طور پر۷ہزار۵۸۰ انتخابی عمل مکمل کیے گئے ہیں۔
حکومت کے مطابق جے کے پی ایس سی نے۱۷۶۸؍انتخابی عمل مکمل کیے، جبکہ جے کے ایس ایس بی نے اس مدت کے دوران۵۸۱۲؍انتخاب مکمل کیے۔
اس مدت کے دوران دونوں بھرتی ایجنسیوں کو بھیجی گئی خالی اسامیوں کی زمرہ وار تفصیلات کے مطابق، جے کے پی ایس سی کو مجموعی طور پر۱۸۵۲؍اسامیاں بھیجی گئیں۔ ان میں اوپن میرٹ (او ایم) کی۸۵۵ ، درج فہرست ذاتوں (ایس سی) کی 198، ایس ٹی-1 کی ۱۶۶، ایس ٹی-2 کی۱۵۶؍، او بی سی کی۱۱۴ ‘ اے ایل سی/آئی بی کی۶۵ ، آر بی اے کی۱۴۹ ، ای ڈبلیو ایس کی 139، پی ایس پی کی چار اور ایس ٹی بیک لاگ کی چھ اسامیاں شامل تھیں۔
جے کے ایس ایس بی کیلئے۱۲ہزار۴۱۸؍ اسامیاں بھیجی گئیں۔ ان میں اوپن میرٹ کی۵۱۷۳‘ ایس سی کی۱۱۰۴‘، ایس ٹی-1 کی۱۲۴۸ ، ایس ٹی-2 کی۱۲۱۲‘او بی سی کی۹۳۳ ، اے ایل سی/آئی بی کی۴۹۵ ، آر بی اے کی۱۱۷۴ اور ای ڈبلیو ایس کی۱۰۷۹؍اسامیاں شامل تھیں۔
حکومت کے جواب کے مطابق مذکورہ مدت کے دوران دونوں بھرتی ایجنسیوں کو مجموعی طور پر۱۴ہزار۲۷۰؍ اسامیاں بھرتی کے لیے موصول ہوئیں۔
۔۔۔۔۔۔۔(ندائے مشرق ڈیسک)









