جموں و کشمیر میں اسکولوں کے لیے ہفتے میں پانچ دن تدریس اور ہفتہ و اتوار کو تعطیل کی تجویز نے ایک اہم اور سنجیدہ بحث کو جنم دیا ہے۔ نیشنل کانفرنس کے پانپور حلقے سے رکن اسمبلی حسنین مسعودی نےیہ تجویز پیش کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ طلبہ پر تعلیم، کتابوں اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں کا دباؤ بڑھ رہا ہے اور انہیں آرام، کھیل، خاندان اور سماجی زندگی کے لیے زیادہ وقت ملنا چاہیے۔ وزیر تعلیم سکینہ ایتو نے بھی واضح کیا ہے کہ اس تجویز کے قابلِ عمل ہونے کا جائزہ محکمہ اسکولی تعلیم کے دونوں ڈائریکٹوریٹس اور متعلقہ حکام سے مشاورت کے بعد لیا جائے گا۔
بادی النظر میں یہ تجویز بچوں کے مفاد سے جڑی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ موجودہ دور میں تعلیم صرف اسکول کی چار دیواری تک محدود نہیں رہی۔ اسکول کے بعد ٹیوشن، ہوم ورک، امتحانات کی تیاری، مختلف مسابقتی سرگرمیاں اور والدین کی طرف سے بہتر کارکردگی کی توقعات بچوں کے روزمرہ معمول کا حصہ بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں ہفتے میں دو دن کا وقفہ بچوں کو ذہنی سکون، کھیل، مطالعے، خاندان کے ساتھ وقت گزارنے اور اپنی دلچسپی کی سرگرمیوں کے لیے موقع فراہم کر سکتا ہے۔ اسی پہلو کو بعض سماجی اور مذہبی شخصیات نے بھی اجاگر کیا ہے۔
لیکن اس مسئلے کا دوسرا پہلو بھی اتنا ہی اہم ہے، جسے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ جموں و کشمیر کا تعلیمی کیلنڈر ملک کے کئی دوسرے خطوں سے مختلف ہے۔ یہاں سردیوں کی طویل تعطیلات، موسمی حالات، برف باری اور بعض علاقوں کی جغرافیائی مشکلات کے باعث تعلیمی سال کی ساخت الگ ہے۔ 2024-25 کے جے کے بورڈ آف اسکول ایجوکیشن کے کیلنڈر میں کشمیر ڈویژن اور جموں کے سرمائی زون سمیت متعلقہ علاقوں کے لیے تقریباً 185 کام کے دن مقرر کیے گئے تھے۔
یہ اعداد و شمار اس بحث کو ایک نئی سمت دیتے ہیں۔ پانچ روزہ ہفتے کے حامیوں کی توجہ اگر صرف روزانہ اسکول میں گزارے جانے والے گھنٹوں پر ہے تو حکومت کو پورے سال کے تدریسی دنوں اور مجموعی تدریسی اوقات کو سامنے رکھنا ہوگا۔ ایک حالیہ تقابلی رپورٹ میں جموں و کشمیر کے لیے 181 کام کے دن بتائے گئے ہیں، جبکہ اسی رپورٹ نے دہلی کے لیے 243، جنوبی ہند کے تقابلی زمرے کے لیے 236 اور مغربی بنگال کے لیے 217 دن درج کیے ہیں۔ تاہم یہ اعداد ایک مخصوص تقابلی رپورٹ سے متعلق ہیں اور انہیں موجودہ سرکاری کیلنڈر کا متبادل نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
یہاں اصل سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ بچوں کو ہفتہ کے روز اسکول بھیجا جائے یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ جموں و کشمیر کے بچوں کو پورے تعلیمی سال میں معیاری تعلیم کے کتنے مواقع حاصل ہو رہے ہیں اور ان مواقع کو مزید مؤثر کیسے بنایا جاسکتا ہے۔ اگر پانچ روزہ ہفتہ نافذ کیا جاتا ہے تو لازماً یہ دیکھنا ہوگا کہ نصاب کی تکمیل، عملی تعلیم، امتحانات کی تیاری اور کمزور طلبہ کے لیے اضافی تعلیمی مدد متاثر نہ ہو۔
اس بحث میں ایک اور اہم غلط فہمی سے بچنا بھی ضروری ہے۔ اسکول کے دروازے شام چار بجے بند ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ پورا سال زیادہ تدریسی دنوں پر مشتمل ہے۔ اسی طرح طویل سردیوں کی تعطیلات کا مطلب یہ بھی نہیں کہ طلبہ کو تعلیم سے غیر معمولی طور پر زیادہ آزادی حاصل ہے۔ اصل تصویر روزانہ کے اوقات، سالانہ تدریسی دنوں، امتحانی شیڈول، تعطیلات اور غیر نصابی سرگرمیوں کو ایک ساتھ دیکھنے سے سامنے آئے گی۔
یہی وجہ ہے کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے بعض حساب کتاب، جن میں سال کے 365 دنوں میں سردیوں، گرمیوں، اتوار اور مختلف تہواروں کی تعطیلات منہا کرکے باقی دنوں کو اسکول کے دن قرار دیا جاتا ہے، حتمی تعلیمی تصویر پیش نہیں کرتے۔ مختلف زونز اور مختلف تعلیمی سالوں کے کیلنڈر الگ ہوسکتے ہیں۔ سرکاری کیلنڈر میں بھی موسم، امتحانات اور علاقائی حالات کے مطابق تبدیلی کی گنجائش رکھی جاتی ہے۔
اس لیے حکومت کو جذباتی ردعمل کے بجائے ایک جامع تعلیمی مطالعہ کرانا چاہیے۔ اس مطالعے میں صرف یہ نہ دیکھا جائے کہ دوسرے علاقوں میں ہفتے کے کتنے دن اسکول کھلتے ہیں، بلکہ یہ بھی دیکھا جائے کہ وہاں سالانہ تدریسی اوقات کتنے ہیں، نصاب کتنا ہے، کلاس روم میں طلبہ کی تعداد کیا ہے، ہوم ورک اور امتحانی دباؤ کس سطح کا ہے اور طلبہ کو کھیل و تفریح کے لیے کتنا وقت ملتا ہے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ سرکاری اسکولوں اور نجی اسکولوں کی صورتحال کو ایک ہی پیمانے سے نہ پرکھا جائے۔ بہت سے نجی اسکولوں کے طلبہ اسکول کے علاوہ کوچنگ اور ٹیوشن کا بوجھ بھی اٹھاتے ہیں، جبکہ بعض سرکاری اسکولوں میں بنیادی تعلیمی سہولتیں ہی ایک بڑا مسئلہ ہیں۔ پانچ روزہ ہفتہ اگر نافذ کیا جائے تو اس کے اثرات دونوں شعبوں میں مختلف ہوسکتے ہیں۔
اسی طرح اساتذہ کے کردار کو بھی بحث کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔ ہفتہ کے ایک اضافی دن کو صرف تعطیل قرار دینے کے بجائے اسے اساتذہ کی تربیت، نصاب کی منصوبہ بندی، امتحانی تیاری، طلبہ کی انفرادی رہنمائی اور تعلیمی جائزے کے لیے استعمال کرنے کا قابلِ عمل ماڈل بھی تیار کیا جاسکتا ہے۔ یوں چھٹی کا مقصد صرف ایک دن کم پڑھانا نہیں بلکہ تعلیمی نظام کو زیادہ منظم بنانا ہوسکتا ہے۔
دوسری طرف طلبہ کی ذہنی صحت کو بھی محض ایک نعرہ سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ بچے صرف امتحانات اور نمبروں کے لیے نہیں ہوتے۔ کھیل، تخلیقی سرگرمیاں، خاندان کے ساتھ وقت، کتابوں کے علاوہ دوسرے مطالعے، سماجی میل جول اور جسمانی سرگرمی بھی ان کی شخصیت سازی کا حصہ ہیں۔ اگر تعلیمی نظام بچوں کو مسلسل دباؤ میں رکھے تو صرف زیادہ تدریسی دن یا زیادہ اسکولی اوقات تعلیمی معیار کی ضمانت نہیں بن سکتے۔
لیکن اس کے برعکس یہ تصور بھی درست نہیں کہ اسکول کا ایک دن کم کردینے سے تعلیمی دباؤ خود بخود ختم ہوجائے گا۔ اگر نصاب وہی رہے، امتحانات کا طریقہ وہی ہو، ٹیوشن کا رجحان وہی ہو اور والدین کی توقعات وہی رہیں تو ہفتہ کی تعطیل شاید بچوں کے لیے اضافی آرام کا دن بن جائے، مگر تعلیمی دباؤ کی بنیادی وجوہ برقرار رہیں گی۔
لہٰذا پانچ روزہ تعلیمی ہفتے کی تجویز کو نہ فوری طور پر قبول کرنے کی ضرورت ہے اور نہ مسترد کرنے کی۔ حکومت کے پاس اب ایک اچھا موقع ہے کہ وہ اس معاملے کو سیاسی یا جذباتی بحث کے بجائے تعلیمی پالیسی کے طور پر دیکھے۔ مختلف علاقوں کے کیلنڈروں، سالانہ تدریسی اوقات، طلبہ کے تعلیمی نتائج، ذہنی دباؤ، اساتذہ کی ضروریات اور والدین کے نقطۂ نظر کا جائزہ لیا جائے۔ اس کے بعد اگر ضروری ہو تو محدود پیمانے پر آزمائشی بنیادوں پر پانچ روزہ ہفتہ شروع کرکے اس کے نتائج کا آزادانہ جائزہ بھی لیا جاسکتا ہے۔
بچوں کو آرام کا حق ہے، لیکن معیاری تعلیم بھی ان کا بنیادی حق ہے۔ اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب جموں و کشمیر ایسا تعلیمی نظام تشکیل دے سکے جس میں نہ بچے مسلسل دباؤ کا شکار ہوں اور نہ تدریسی معیار متاثر ہو۔ پانچ روزہ ہفتے کی بحث دراصل اسی بڑے سوال کی طرف توجہ دلاتی ہے: ہم اپنے بچوں کو صرف زیادہ وقت اسکول میں دینا چاہتے ہیں یا ایسا تعلیمی ماحول بھی دینا چاہتے ہیں جس میں وہ بہتر طور پر سیکھ، سوچ اور زندگی گزار سکیں؟ یہی سوال اس تجویز پر حتمی فیصلے کی بنیاد بننا چاہیے۔



