ہم اس مطالبے کے حق میں ہیں کہ اسمبلی کا خزاں اجلاس کم از کم ایک ماہ کی مدت کا ہونا چاہیے تھا۔ جس کسی کا بھی یہ مطالبہ ہے، جس کسی نے بھی ایسی مانگ یا تجویز رکھی، ہم اس کے ساتھ ہیں ……. ساتھ ساتھ ہیں۔ بھلا دس روزہ اجلاس بھی کوئی اجلاس ہوتا ہے؟ دس دن میں کیا ہوگا، کچھ بھی نہیں ہوگا، اور ان دس دنوں میں بھی ایک دن ختم ہوگیا ……. دو تین گھنٹوں میں ہی پہلے دن کی کارروائی کا قصہ تمام ہوگیا۔جس نے بھی اسمبلی کا خزاں اجلاس دس دنوں تک محدود رکھنے کی منصوبہ بندی کی، جس کسی نے بھی ……. اللہ میاں کی قسم، ہمارا جاننا اور ماننا ہے کہ اس نے لوگوں، جموں و کشمیر کے لوگوں کے ساتھ ناانصافی کی، اور ……. اور اس لیے کی کہ لوگوں کو صرف دس دن ملیں گے، صرف دس دن، اس سب سے محظوظ ہونے کے لیے جو اسمبلی میں ہوگا، ان دس دنوں میں ہوگا۔ ……. ہنگامہ ہوگا، نعرے بازی ہوگی، زندہ باد اور مردہ باد کی آوازیں گونج اٹھیں گی، ڈرامے ہوں گے، ان ڈراموں میں سیاستدان اپنی اداکاری کے جوہر دکھائیں گے، ایک دوسرے کے حریف کو نیچا دکھانے کی اداکاری ہوگی، ایک دوسرے کے خلاف باتیں بولنے کی ریاکاری ہوگی۔ یہ سب کچھ ہوگا، لیکن صرف دس دنوں کے لیے ہوگا ……. اور ہمیں یقین ہے کہ بھلا دس دنوں میں بھی لوگوں کا جی نہیں بھرے گا؟ بالکل بھی نہیں بھرے گا۔لوگ سال بھر اسمبلی اجلاسوں کے انعقاد کا انتظار کرتے رہتے ہیں، انہیں شدت سے ان اجلاسوں کا انتظار رہتا ہے، اور جب انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں تو ……. تو لوگوں کو کیا ملا؟ صرف دس دن! جو یقینا ًان کے ساتھ ناانصافی ہے۔لیکن وہ کہتے ہیں نا کہ جو ہونا تھا، وہ ہوا ……. اب اس میں کچھ نہیں کیا جا سکتا کہ دس دن، دس دن ہی رہیں گے، ان میں اضافہ نہیں ہوگا۔اس لیے ہمارا لوگوں کو مشورہ ہے، پرخلوص مشورہ، کہ وہ ان دس دنوں پر ہی اکتفا کریں ……. اس امید کے ساتھ کہ ……. کہ انہیں سیاستدان، جموں و کشمیر کے سیاستدان، ان دس دنوں کے دوران مایوس نہیں کریں گے، بالکل بھی نہیں کریں گے۔ ہے نا؟
۔۔۔۔۔




