اتوار, ستمبر 27, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اداریہ

کینسر: اعداد سے آگے کا چیلنج             

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-09-27
in اداریہ
A A
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

    جموں و کشمیر میں تقریباً۵۱ ہزار کینسر مریضوں کا سرکاری ریکارڈ میں موجود ہوناپورے معاشرے کے لیے ایک سنجیدہ انتباہ ہے۔ صحت و طبی تعلیم کی وزیر سکینہ ایتو نے حال ہی میں قانون ساز اسمبلی کو بتایا کہ مرکز میں تقریباً۵۱ ہزار کینسر کیس درج ہیں۔

                کینسر کے معاملے میں سب سے بڑی غلطی یہ ہوگی کہ ہم صرف اسپتالوں کی تعداد اور علاج کی سہولتوں کو مسئلے کا حل سمجھ لیں۔ علاج ضروری ہے، لیکن کینسر کے خلاف اصل جنگ بیماری پیدا ہونے سے پہلے شروع ہوتی ہے۔ عالمی ادارۂ صحت اور بین الاقوامی ایجنسی برائے تحقیقِ سرطان کی۲۰۲۶ کی ایک عالمی تحقیق کے مطابق۲۰۲۲ میں دنیا بھر میں کینسر کے تقریباً۳۷ فیصد نئے کیس ایسے عوامل سے وابستہ تھے جنہیں روکا جا سکتا ہے۔ تمباکو سب سے بڑا قابلِ تدارک سبب تھا، جبکہ اس کے بعد انفیکشن اور شراب نمایاں عوامل میں شامل تھے۔

                یہ اعداد کشمیر کے لیے بھی ایک واضح پیغام رکھتے ہیں: علاج کے ساتھ ساتھ روک تھام کو صحت پالیسی کے مرکز میں لانا ہوگا۔

متعلقہ

دہشت گردی:ہند پاک میں سب سے بڑا مسئلہ

تعطیلات کی سیاست اور اسمبلی کا اصل ایجنڈا

                کشمیر میں کینسر کی نوعیت بھی خصوصی توجہ چاہتی ہے۔ حکومت کے مطابق معدے اور آنتوں سے متعلق سرطان، پھیپھڑوں کا سرطان اور چھاتی کا سرطان یہاں نمایاں بیماریوں میں شامل ہیں۔ یہ خالص طبی شعبے کا معاملہ نہیں بلکہ ہمارے طرزِ زندگی، خوراک، تمباکو کے استعمال، ماحولیاتی حالات اور صحت سے متعلق رویوں سے بھی جڑا ہوا سوال ہے۔

                گزشتہ برسوں میں کشمیر کے روایتی کھانے پینے کے انداز میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ خشک سبزیوں، نمکین چائے اور محفوظ شدہ یا زیادہ نمک والی غذاؤں کے استعمال سے متعلق مختلف مطالعات اور ماہرین کی آرا سامنے آتی رہی ہیں، لیکن کسی ایک غذائی عادت کو کینسر کی بنیادی وجہ قرار دینا سائنسی طور پر درست نہیں ہوگا۔ ہمیں جذباتی دعووں کے بجائے مقامی سطح پر مسلسل تحقیق کی ضرورت ہے۔ کشمیر میں کون سی غذائیں، کون سے ماحولیاتی عوامل اور کون سی عادات کن سرطانوں سے زیادہ منسلک ہیں، اس پر بڑے پیمانے کی مقامی تحقیق ہونی چاہیے۔

                البتہ تمباکو کے خطرات کے بارے میں اب کوئی ابہام نہیں۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق تمباکو کینسر کا سب سے بڑا قابلِ تدارک خطرہ ہے۔ کشمیر میں سگریٹ اور دیگر تمباکو مصنوعات کی دستیابی، نوجوانوں میں ان کا استعمال اور عوامی مقامات پر قوانین پر عمل درآمد ایک سنجیدہ سوال ہے۔ محض قانون بنا دینا کافی نہیں۔ اسکولوں، کالجوں، بازاروں، دیہی علاقوں اور سوشل میڈیا تک ایک مستقل آگاہی مہم پہنچانی ہوگی۔

                اسی طرح غیر فعال طرزِ زندگی، موٹاپا اور غیر متوازن غذا بھی نظرانداز نہیں کیے جا سکتے۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق صحت مند وزن برقرار رکھنا، جسمانی سرگرمی، مناسب غذا اور تمباکو سے دوری کینسر کے خطرے کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

                کشمیر میں یہ مسئلہ خاص طور پر نوجوان نسل کے حوالے سے اہم ہے۔ بدلتی ہوئی زندگی نے جسمانی سرگرمی کم کی ہے، تیار شدہ اور انتہائی پراسیس شدہ غذاؤں کا استعمال بڑھا ہے اور اسکرین کے سامنے طویل وقت گزارنا معمول بن گیا ہے۔ اگر صحت مند زندگی کا تصور بچپن سے تعلیمی نظام کا حصہ نہ بنایا گیا تو مستقبل میں غیر متعدی بیماریوں کا بوجھ مزید بڑھ سکتا ہے۔

                زرعی اور باغبانی شعبے میں کیڑے مار ادویات اور دیگر کیمیائی مادوں کے استعمال کا سوال بھی سنجیدہ تحقیق کا متقاضی ہے۔ کشمیر کی معیشت میں زراعت اور باغبانی کی غیر معمولی اہمیت ہے، اس لیے کسانوں کو موردِ الزام ٹھہرانے کے بجائے انہیں محفوظ طریقۂ استعمال، حفاظتی سامان، مناسب تربیت اور کم خطرناک متبادل فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ جہاں کسی کیمیائی مادے اور کینسر کے درمیان سائنسی تعلق ثابت ہو، وہاں اس کے استعمال اور نگرانی کے لیے واضح ضابطے ہونے چاہئیں۔

                خوراک میں ملاوٹ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ اگر دودھ، مصالحہ جات، تیل، رنگ یا دیگر غذائی اشیا میں مضر مادوں کی موجودگی کا شبہ ہو تو فوڈ سیفٹی نظام کو محض چھاپہ مار کارروائیوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ باقاعدہ نمونہ گیری، جدید لیبارٹریوں، شفاف نتائج اور مؤثر قانونی کارروائی کی ضرورت ہے۔

                لیکن کینسر کے خلاف جنگ میں سب سے فوری ضرورت ابتدائی تشخیص ہے۔ حکومت نے اسکریننگ کو لوگوں کے قریب لے جانے اور کمیونٹی و گھر کی سطح تک پہنچانے پر زور دیا ہے، جو ایک اہم سمت ہے۔ بہت سے سرطان ابتدائی مرحلے میں تشخیص ہونے پر زیادہ مؤثر طریقے سے قابو میں آ سکتے ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت بھی ابتدائی تشخیص اور بروقت مؤثر علاج کو کینسر سے ہونے والی اموات کم کرنے کے بنیادی ذرائع میں شمار کرتا ہے۔

                اس لیے دیہی اور دور افتادہ علاقوں میں موبائل اسکریننگ مراکز، بنیادی مراکز صحت کے عملے کی تربیت، خواتین کے لیے چھاتی اور سروائیکل کینسر کی باقاعدہ جانچ، اور خطرے کی علامات سے متعلق عوامی آگاہی کو ترجیح ملنی چاہیے۔ صرف سری نگر یا جموں میں جدید سہولت قائم کرنا کافی نہیں؛ مریض کو بیماری کی تشخیص سے علاج تک ایک مربوط نظام ملنا چاہیے۔

                کینسر کا علاج طویل اور مہنگا ہوتا ہے۔ ایک خاندان کا واحد کمانے والا فرد بیمار پڑ جائے تو بیماری کا اثر صرف مریض تک محدود نہیں رہتا۔ بچوں کی تعلیم، گھر کا خرچ، روزگار اور خاندان کی معاشی بنیاد متاثر ہوسکتی ہے۔ اسی لیے آیوشمان بھارت کے تحت اہل مریضوں کے لیے نقدی سے پاک یا مفت علاج اور غریب مریضوں کے لیے اضافی مالی مدد کی سہولت اہم ہے۔مگر ضرورت اس بات کی ہے کہ عام آدمی کو ان اسکیموں کی معلومات بھی آسانی سے دستیاب ہوں اور کاغذی کارروائی علاج کی راہ میں رکاوٹ نہ بنے۔

                ۵۱ہزار کا عدد ہمیں خوفزدہ کرنے کے لیے نہیں بلکہ جگانے کے لیے کافی ہے۔ حکومت نے اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کرکے اور دونوں کینسر اداروں کو مضبوط بنانے کا عمل آگے بڑھا کر ایک سمت ضرور متعین کی ہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اس سمت کو ایک واضح اور طویل مدتی کینسر پالیسی میں تبدیل کیا جائے۔

                کشمیر میں کینسر کے خلاف جنگ اسپتال کے بستر پر نہیں، گھر، اسکول، بازار، کھیت، باغ اور محلے سے شروع ہونی چاہیے۔ اگر ہم بیماری کے اسباب کو کم کرنے، لوگوں کو بروقت جانچ کے لیے آمادہ کرنے اور ہر مریض کو بروقت اور قابلِ استطاعت علاج فراہم کرنے میں کامیاب ہوگئے تو۵۱ہزار کا عدد ایک بڑھتے ہوئے بحران کی علامت بننے کے بجائے ایک ایسے موڑ کی یادگار بن سکتا ہے جہاں ہم نے بروقت فیصلہ کیا تھا کہ اب خاموش نہیں بیٹھنا۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

’میک اِن انڈیا‘ کے 12 سال: مودی نے پیداوار، سرمایہ کاری اور برآمدات بڑھانے پر زور دیا

Next Post

فرسٹریشن!

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

دہشت گردی:ہند پاک میں سب سے بڑا مسئلہ

2026-09-26
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

تعطیلات کی سیاست اور اسمبلی کا اصل ایجنڈا

2026-09-24
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

کشمیری شادیاں: روایت، نمود و نمائش اور ہماری اجتماعی بے حسی         

2026-09-23
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

پانچ روزہ تعلیمی ہفتہ: بچوں کو آرام بھی چاہیے، مگر حساب بھی ضروری ہے         

2026-09-22
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

جموں میں کیک پر قتل کا واقعہ ہمیں کیا بتاتا ہے               

2026-09-20
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

نابالغ اور سوشل میڈیا، قانون کو فیصلہ کرنا ہوگا

2026-09-17
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

وقف بورڈ کی ترجیحات کیا ہونی چاہئیں؟

2026-09-15
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

کیاسرینگر آلودگی پر قابو پائے گا

2026-09-13
Next Post
کانگریسی قیادت ‘ بھاجپا کیلئے اثاثہ

فرسٹریشن!

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.