جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں شیخ محمد عبداللہ کے یوم پیدائش کی تعطیل بحال کرنے یا مہاراجہ ہری سنگھ کے یوم پیدائش پر سرکاری تعطیل ختم کرنے کے مطالبے پر جو شور شرابا ہوا، اس نے ایک بنیادی سوال پیدا کیا ہے:کیا واقعی جموں و کشمیر کے عام لوگوں کے مسائل کا تعلق اس بات سے ہے کہ سرکاری کیلنڈر میں کس رہنما یا حکمران کے یوم پیدائش پر چھٹی ہونی چاہیے؟ اور اگر عوام کو درپیش اصل مسائل بے شمار ہیں تو پھر اسمبلی کا قیمتی وقت اس نوعیت کی بحث اور ہنگامہ آرائی میں کیوں صرف ہو رہا ہے؟
شیخ محمد عبداللہ کے یوم پیدائش کی تعطیل بحال کرنے کا مطالبہ اپنی جگہ ایک سیاسی اور تاریخی موقف ہے۔ اسی طرح مہاراجہ ہری سنگھ کے یوم پیدائش پر سرکاری تعطیل کا فیصلہ بھی ایک حکومتی اور انتظامی فیصلہ ہے۔ لیکن بنیادی سوال یہ ہے کہ ان دونوں فیصلوں سے عام شہری کی زندگی میں کیا تبدیلی آتی ہے؟ کیا شیخ عبداللہ کے یوم پیدائش پر تعطیل بحال ہونے سے بے روزگاری کم ہوجائے گی؟ کیا کسی غریب خاندان کے لیے روزگار کا دروازہ کھل جائے گا؟ کیا ہسپتالوں میں سہولتیں بڑھ جائیں گی؟ کیا بجلی کے مسائل، سڑکوں کی خستہ حالی، پانی کی قلت یا مہنگائی میں کمی آجائے گی؟
اسی طرح یہ پوچھنا بھی جائز ہے کہ مہاراجہ ہری سنگھ کے یوم پیدائش پر سرکاری تعطیل مقرر ہونے سے جموں و کشمیر کے عام لوگوں کو ایسا کون سا عملی فائدہ پہنچا جو ان کی زندگی میں نمایاں محسوس ہوا؟ ایک دن سرکاری دفاتر بند رکھنے سے نہ معیشت مضبوط ہوتی ہے، نہ نوجوانوں کے لیے روزگار پیدا ہوتا ہے، نہ کسانوں کے مسائل حل ہوتے ہیں اور نہ ہی نظام تعلیم میں کوئی بنیادی بہتری آتی ہے۔
یہ بات بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ تاریخی شخصیات کو یاد رکھنا یا ان کے کردار پر بحث کرنا غیر ضروری نہیں۔ قومیں اپنی تاریخ سے کٹ کر آگے نہیں بڑھ سکتیں۔ شیخ محمد عبداللہ ہوں یا مہاراجہ ہری سنگھ، دونوں جموں و کشمیر کی تاریخ کے اہم کردار ہیں اور دونوں کے بارے میں مختلف سیاسی اور تاریخی آرا موجود ہیں۔ لیکن کسی تاریخی شخصیت کو یاد رکھنے کا واحد طریقہ سرکاری تعطیل مقرر کرنا نہیں ہوسکتا۔ تاریخ کو محفوظ رکھنے کے لیے تحقیق، تدریس، دستاویزات، تاریخی مقامات کی حفاظت اور سنجیدہ علمی بحث کے کئی دوسرے راستے بھی موجود ہیں۔
اگر نیشنل کانفرنس کا موقف یہ ہے کہ شیخ محمد عبداللہ کے یوم پیدائش کی تعطیل ختم کرنا ان کی خدمات اور تاریخی کردار کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے تو اس موقف کو سیاسی اور جمہوری طریقے سے ایوان میں رکھا جاسکتا ہے۔ قرارداد پیش کی جاسکتی ہے، بحث ہوسکتی ہے اور حکومت سے جواب طلب کیا جاسکتا ہے۔ اسمبلی میں اکثریت رکھنے والی حکومت کے پاس اپنے موقف کو قانونی اور آئینی طریقے سے آگے بڑھانے کے ذرائع موجود ہیں۔ اسی طرح اگر کسی جماعت کو موجودہ تعطیل برقرار رکھنے کی حمایت کرنی ہے تو اسے بھی اپنے دلائل ایوان کے اندر پیش کرنے کا حق حاصل ہے۔ لیکن محض نعروں، احتجاج اور ہنگامہ آرائی سے کسی تاریخی مسئلے کا حل نہیں نکلتا۔
یہاں ایک اور پہلو بھی قابل غور ہے۔ کسی شخصیت سے منسوب سرکاری تعطیل ختم کردینے سے اس شخصیت کا تاریخی کردار ختم نہیں ہوجاتا۔ تاریخ سرکاری کیلنڈر کے چند خانوں سے کہیں زیادہ وسیع ہوتی ہے۔ کسی رہنما یا حکمران کی خدمات، فیصلے، غلطیاں، کامیابیاں اور ناکامیاں تاریخ کے ریکارڈ کا حصہ رہتی ہیں۔ اسی طرح کسی شخصیت کے نام پر تعطیل مقرر کردینے سے بھی اس کی تاریخ میں حیثیت نہ تو بڑھائی جاسکتی ہے اور نہ گھٹائی جاسکتی ہے۔
اصل تشویش اس بات پر ہونی چاہیے کہ اسمبلی میں وہ مسائل کہاں ہیں جن کے ساتھ جموں و کشمیر کے لاکھوں خاندان روزانہ زندگی گزارتے ہیں۔ سرکاری محکموں میں خالی اسامیاں، نوجوانوں کی بے روزگاری، بجلی کے بڑھتے ہوئے اخراجات، باغبانی کے شعبے کو درپیش مشکلات، صحت کی سہولتوں کی کمی، تعلیمی معیار، سڑکوں اور بنیادی ڈھانچے کی صورتحال، سیاحت، صنعت، تجارت اور دیہی معیشت جیسے مسائل براہ راست عوام کی زندگی سے جڑے ہیں۔ ان سوالات پر حکومت سے تفصیلی جواب طلب ہونا چاہیے اور یہ بحث ہونی چاہیے کہ ان مسائل کا عملی حل کیا ہے۔
اسمبلی کا اجلاس محدود مدت کے لیے ہوتا ہے۔ اس دوران ارکان کو سوالات اٹھانے، حکومت سے جواب لینے، قوانین پر بحث کرنے اور عوامی مسائل کو ایوان تک پہنچانے کا موقع ملتا ہے۔ ایسے میں اگر سیاسی جماعتیں اپنا زیادہ وقت ان معاملات پر صرف کریں جن کا تعلق بنیادی طور پر تاریخی علامتوں، تعطیلات یا سیاسی یادداشت سے ہے تو یہ سوال ضرور اٹھے گا کہ عوام کے اصل مسائل کب زیر بحث آئیں گے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ جموں و کشمیر کی سیاست میں تاریخ اور شخصیات ہمیشہ اہم رہی ہیں۔ اس لیے ان سے متعلق اختلافات کا اسمبلی تک پہنچنا کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ لیکن جمہوری اداروں کی اہمیت اسی وقت قائم رہتی ہے جب اختلاف کو بحث میں تبدیل کیا جائے، بحث کو دلیل میں اور دلیل کو کسی قابل عمل فیصلے تک پہنچایا جائے۔ شور اور واک آؤٹ وقتی سیاسی پیغام تو دے سکتے ہیں، مگر عوام کے مسائل کا مستقل حل نہیں بن سکتے۔
اس وقت جموں و کشمیر کے لوگوں کو یہ جاننے میں زیادہ دلچسپی ہونی چاہیے کہ اسمبلی ان کے لیے کیا کر رہی ہے۔ کتنی نئی ملازمتیں پیدا ہوں گی؟ خالی آسامیوں کو کب پُر کیا جائے گا؟ بجلی کے مسائل کیسے حل ہوں گے؟ کسان اور باغبان اپنی پیداوار کے بحران سے کیسے نکلیں گے؟ نوجوانوں کے لیے نئے مواقع کہاں پیدا ہوں گے؟ صحت اور تعلیم کے شعبے میں خامیوں کو کیسے دور کیا جائے گا؟ سڑکوں، پانی اور دیگر بنیادی سہولتوں کے لیے کیا عملی منصوبہ ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کے جواب ایک عام شہری اپنے منتخب نمائندوں سے چاہتا ہے۔
تعطیلات کے بارے میں فیصلہ بھی یقیناً اسمبلی کے دائرۂ بحث میں آسکتا ہے۔ لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ اس بحث کو سیاسی کشمکش کا مرکز بنانے کے بجائے اسے ایک واضح انتظامی اور تاریخی معاملہ سمجھا جائے۔ کون سی تعطیلات رہنی چاہئیں اور کون سی نہیں، اس کے لیے ایک جامع اور شفاف پالیسی بن سکتی ہے، تاکہ ہر تبدیلی کسی خاص سیاسی جماعت یا شخصیت کی پسند و ناپسند سے وابستہ نہ رہے۔
آخرکار سوال شیخ محمد عبداللہ یا مہاراجہ ہری سنگھ کی اہمیت کا نہیں، بلکہ اسمبلی کی ترجیحات کا ہے۔ جموں و کشمیر کے عوام کے مسائل کسی ایک لیڈر کی سالگرہ یا کسی دوسرے حکمران کے یوم پیدائش کی تعطیل سے نہ پیدا ہوئے ہیں اور نہ حل ہوں گے۔ عوام یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ ان کے نمائندے ان کے روزمرہ مسائل پر کتنی سنجیدگی سے بحث کرتے ہیں اور حکومت سے کتنے مؤثر انداز میں جواب طلب کرتے ہیں۔ تاریخ کو اپنی جگہ احترام کے ساتھ یاد رکھا جائے، مگر اسمبلی کا وقت بھی عوام کی امانت سمجھا جائے۔



